کورونا وائرس کے باعث ”بال ٹمپرنگ“ کو قانونی قرار دینے کا خدشہ پیدا ہو گیا مگر کیسے؟ شائقین کرکٹ کیلئے حیران کن اور تشویشناک خبر آ گئی

کورونا وائرس کے باعث ”بال ٹمپرنگ“ کو قانونی قرار دینے کا خدشہ پیدا ہو گیا ...
کورونا وائرس کے باعث ”بال ٹمپرنگ“ کو قانونی قرار دینے کا خدشہ پیدا ہو گیا مگر کیسے؟ شائقین کرکٹ کیلئے حیران کن اور تشویشناک خبر آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی وباءکورونا وائرس کے سبب کرکٹ قوانین میں بھی ’ٹمپرنگ‘ کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے کیونکہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کو قانونی قرار دینے کی بات چل نکلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کا منظرنامہ ہی تبدیل ہو چکا ہے اور احتیاطی تدابیر کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کو اپنا طرز زندگی تبدیل کرنا پڑ رہا ہے،کرکٹ میں گیند کو چمکانے کیلئے تھوک کا استعمال کرتے ہوئے ٹراﺅزر یا شرٹ سے رگڑنا قانونی سمجھا جاتا ہے، البتہ کسی بھی مصنوعی چیز کا استعمال بال ٹمپرنگ کے زمرے میں آتا ہے جس کیلئے سخت سزائیں بھی کوڈ آف کنڈکٹ میں شامل ہیں۔

کورونا وائرس کی عالمی وباءکے باعث اب یہ بحث چل نکلی ہے کہ ایک کھلاڑی سے دوسرے کھلاڑی کے ہاتھ میں جانے والی گیند پر اگر تھوک کا استعمال کیا گیا تو وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ ہو گا جبکہ دوسری جانب باﺅلرز کو گیند چمکانے کا موقع نہ ملا تو وہ ریورس سوئنگ سمیت اہم ہتھیاروں سے محروم ہو جائیں گے۔ آسٹریلین فاسٹ باﺅلر جوش ہیزل ووڈ اور پیٹ کومنز پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرچکے کہ اگر گیند کو چمکانے کی سہولت نہ رہی تو باﺅلرز بے دانت کے شیر نظر آئیں گے اور طویل فارمیٹ کے میچز میں کارکردگی بری طرح متاثر ہوگی۔

کرکٹ کی معروف غیر ملکی ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کے مطابق اس صورتحال میں بیٹ و بال میں توازن اور مسابقت کی فضاءبرقرار رکھنے کیلئے ایک تجویز زیر غور ہے کہ جب کورونا وائرس کا بحران ختم ہونے کے بعد کرکٹ کی سرگرمیاں بحال ہوں تو گیند کو چمکانے کیلئے امپائرز کی نگرانی میں مصنوعی اشیاءاستعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے،یہ لیدر یا شو پالش اور ویکس جیسی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ابھی ان تمام اشیاءکا استعمال بال ٹمپرنگ کے زمرے میں آتا ہے اور ویکس وغیرہ کا استعمال کرنے پر بعض باﺅلرز کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران گیند چمکانے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا، اگر مصنوعی اشیاءکے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوا تو قوانین میں تبدیلی کرنا ہوگی۔

آسٹریلین کے سابق فاسٹ باﺅلر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ گیند کو چمکانے کی اجازت نہ دینے پر باﺅلرز کی کارکردگی متاثر اور بیٹسمینوں کا مزاج بھی تبدیل ہوگا، مقابلے کی فضاءبرقرار رکھنے اور کھیل کی خوبصورتی کو بچانے کیلئے آئی سی سی کو مشکل فیصلہ کرنا پڑسکتا ہے۔

مزید :

کھیل -