’لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں تو خاندان کے 10 لوگوں اور دوستوں کا انتخاب کر لیں‘ لاک ڈاﺅن کے خاتمے کے لیے انوکھی تجویز سامنے آگئی

’لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں تو خاندان کے 10 لوگوں اور دوستوں کا انتخاب کر لیں‘ ...
’لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں تو خاندان کے 10 لوگوں اور دوستوں کا انتخاب کر لیں‘ لاک ڈاﺅن کے خاتمے کے لیے انوکھی تجویز سامنے آگئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں بھی حکومت نے بالآخر لاک ڈاﺅن میں نرمی کرنے اور گھروں کے اندر فیملیز کو ملنے ملانے اور دعوتیں کرنے کی اجازت دینے پر غور شروع کر دیا۔ میل آن لائن کے مطابق ملک میں سخت لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہفتوں سے خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے دور ہیں۔ حتیٰ کہ جو میاں بیوی اور والدین اور ان کی اولادیں الگ رہ رہے تھے وہ بھی پھنسے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے نہیں مل پا رہے۔ چنانچہ اب برطانوی حکومت نے ان لوگوں کو ملنے کی سہولت دینے کے لیے لاک ڈاﺅن کے خاتمے کی انوکھی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ قریبی فیملی ممبرز کو گھروں میں جمع ہونے اور ملنے کی اجازت دے دی جائے۔ اگر یہ اجازت دے دی جاتی ہے تو اس کے تحت 10تک قریبی فیملی ممبرز ایک دوسرے کے گھروں میں کھانوں پر مل سکیں گے اور چائلڈ کیئر بھی شیئر کر سکیں گے۔ تاہم ایک جگہ پردو سے زیادہ گھروں کے لوگوں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی انہیں گھر سے باہر کسی جگہ اکٹھے ہونے دیا جائے گا۔ وائٹ ہال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ”اگر یہ اجازت دینے سے کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ نہ ہوا تو شہریوں کو یقینا یہ اجازت دے دی جائے گی۔ اس حوالے سے سائنسدانوں اور طبی ماہرین سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔“

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ برطانوی حکومت کی کچھ دستاویزات منظرعام پر آئی ہیں جن میں گزشتہ سال وزراءکوبتایا گیا تھا کہ مستقبل قریب میں برطانیہ میں کوئی خطرناک وباءپھیل سکتی ہے۔ یہ 600صفحات پر مشتمل دستاویزات برطانوی کابینہ کی ایک میٹنگ کی تفصیلات پر مبنی ہیں،جن کے مطابق برطانوی وزراءنے اس انکشاف پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس بریفنگ میں وزراءکو بتایا گیا تھا کہ اس وباءسے ہزاروں اموات ہوں گی، پبلک سروسز مفلوج ہو جائیں گی اور بہت زیادہ معاشی نقصان ہو گا۔بریفنگ میں ہدایت کی گئی تھی کہ ذاتی حفاظتی سامان فیس ماسک، دستانے وغیرہ بڑی مقدار میں جمع کر لیا جائے اور اس وباءکی روک تھام کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی شروع کی جائے۔اس منصوبہ بندی میں بیرون ملک موجود برطانوی شہریوں کو واپس لانے کے عمل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -