ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے منہ چھپانے لگے، سائنسدانوں کو احمقانہ تجویز دینے کے بعد صحافیوں سے سوال لینے سے ہی گھبرانے لگے

ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے منہ چھپانے لگے، سائنسدانوں کو احمقانہ تجویز دینے کے بعد ...
ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے منہ چھپانے لگے، سائنسدانوں کو احمقانہ تجویز دینے کے بعد صحافیوں سے سوال لینے سے ہی گھبرانے لگے

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر ٹرمپ نے دو روز قبل وائٹ ہاﺅس میں کورونا وائرس کے معاملے پر پریس بریفنگ میں سائنسدانوں کو عجیب و غریب مشورہ دیا تھا کہ اگر سورج کی روشنی سے کورونا وائرس کم ہوتا ہے تو مریضوں کے جسم میں سورج کی روشنی یا کوئی اور ’ڈس انفیکٹنٹ‘ (جراثیم کش دوا)داخل کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈیں۔ یہ مشورہ صدر ٹرمپ کو الٹا پڑ گیا ہے اورخفت کی وجہ سے وہ صحافیوں سے ہی گھبرانے لگے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق گزشتہ روز وائٹ ہاﺅس میں کورونا وائرس پر پریس بریفنگ ہوئی جس میں صدر ٹرمپ صحافیوں کے سوالات لیے بغیر ہی 22منٹ بعد بریفنگ سے اٹھ کر چلے گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ اب صحافی ان کے اس مشورے پر چبھتے ہوئے سوالات کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس مشورے کو میڈیا، سیاسی مخالفین، طبی ماہرین اور حتیٰ کہ ان کی انتظامیہ کے لوگوں نے بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے مشورے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے مشورے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ایک صحافی نے صدر ٹرمپ کے اس مشورے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”کورونا وائرس کی ابتداءمیں صدر ٹرمپ نے ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے متعلق کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس پر موثر ثابت ہو رہی ہے۔ بعد اس دوا کے استعمال سے کئی جانیں چلی گئیں اور ٹرائیلز میں پتا چلا کہ یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے فائدے کی بجائے الٹی نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ اسی طرح ان کا روشنی انسانی جسم میں داخل کرنے کا مشورہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔“واضح رہے کہ وائٹ ہاﺅس نے بھی صدر ٹرمپ کے ایسے مشوروں کی وجہ سے کورونا وائرس پرروزانہ ہونے والی پریس بریفنگ کا دورانیہ کم کرنے کے معاملے پر غور شروع کر دیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -