ہمت ہےتو آپ سچ کو قبول کرلیں

ہمت ہےتو آپ سچ کو قبول کرلیں
ہمت ہےتو آپ سچ کو قبول کرلیں

  

تحریر: بلال احمد

بھارت کے حق میں قصیدے پڑھنے والے اشخاص آج کل کدھر ہیں نہ جانے آج کل ان کے قلم کو حق گوہی کیوں اچھی نہیں لگ رہی وہ نہ نکلتے ہیں اور نہ اس پر کچھ لکھتے ہیں یہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ان کے علمبردار جو پاکستان کو انسانی حقوق کا بتاتے ہیں ریلیاں بھی نکلواتے ہیں احتجاج بھی کرتے ہیں آخر یہ سب بھارت میں کیوں نہیں ہوتا آخر اب یہ قلم کیوں بھارت کے خلاف نہیں اٹھتے کیا حق گوئی صرف پاکستان کے معاملات میں ہے آج وہ خاص کدھر ہیں جو کل کہتے پھر رہے تھے بھارت میں یہ اچھا بھارت میں وہ اچھا ہے اپنا دل بڑا کریں اور اس میں ہمّت پیدا کریں اور سامنا کریں، اپنے سابق الفاظوں کا جن میں آپ نے پاکستان کی عزت اور حثیت کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنے خدا کے حضور معافی مانگتے رہیں کہ وہ آپ کو معاف کر دے۔

کیونکہ آپ کے الفاظوں کی وجہ سے آج وہاں کے مسلمان قتل ہو رہے ہیں آپ کی تعریفوں کے تکبر نے بھارت کو ظالم بنا دیا ہے۔ اسکے ذمہ دار آپ کے قلم اور آپ کی حق گوئی ہے وہ حق گوئی جو آجکل کسی کو نظر نہیں آرہی اٹھیں اور لکھیں ان مسلمانوں کے نام جن کو قتل کیا جا رہا ہے جو بھارت کی بہترین جمہوریت کے سائے تلے قتل ہو رہے ہیں لکھیں اور بتائیں کہ ان کا قاتل کون ہے بتائیں دنیا کو کہ آپ صحافت کو نیکی سمجھ کر کرتے ہیں نہ کہ کاروبار بتائیں کہ کشمیر میں آج کرفیو لگے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی آرمی کی بد اخلاقیات بہت لکھ لیں کیوں نہ اب انڈین آرمی کی بھی لکھ لیں لکھیں، وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار پر ان کی ناانصافیوں پر ان کے قاتلوں پر جو وردی ڈال کر ان پر حملہ کرتے ہیں اور ان کے محافظوں پر جو صرف دیکھتے ہیں اور تسکین پاتے ہیں۔

یہ سوچ کر مت لکھئے کہ وہ مسلمان ہیں یہ سوچ کر لکھیں کہ آپ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو اگر آج آپ میں ہمت ہےتو آپ سچ کو قبول کرلیں یقینا غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے ۔ آگے بڑھیں قلم اٹھائیں اور بن جائیں انسانی حقوق علمبردار بتا دیں اس دنیا کو کہ آپ صحافت کو نیکی کی جگہ دیتے ہیں نہ کہ مفادات کی. میں ان دوستوں کا منتظر رہوں گا جو پاکستان سے اپنی حسد کو نظر انداز کرکے انسانی حقوق کی آنکھوں سے بھارت میں دیکھیں گے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -