پاکستان میں کورونا مریضوں کی اصل تعداد کتنی ہے؟اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

پاکستان میں کورونا مریضوں کی اصل تعداد کتنی ہے؟اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے ...
پاکستان میں کورونا مریضوں کی اصل تعداد کتنی ہے؟اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے سرکاری اعداد و شمار غلط ہیں، حقیقت میں مریضوں کی تعداد اس سے دگنی ہے،ہسپتالوں میں گنجائش جواب دیتی نظر آ رہی ہے، سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خطرے کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا، حکومت 2سے3ہفتہوں کیلئے سخت لاک ڈاؤن کرے، دیگر ممالک کی نسبت کورونا کے کیسز کم ہیں لیکن ان کی تعداد پاکستان کے پاس موجود وسائل کے مقابلے میں بڑھتی جا رہی ہے۔

نیشنل پریس کلب میں مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی آئی ایم اے کے صدر ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ اب ہسپتالوں میں گنجائش جواب دیتی نظر آ رہی ہے، اس وقت دنیا بھر میں جو صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے لڑنے کیلئے صرف احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کرنا ہو گا کیونکہ ابھی تک اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں، حکومت جو سمارٹ لاک ڈاؤن لانا چاہتی ہے اس کی وجہ سے خطرے کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ اس سمارٹ لاک ڈاون پر صحیح طرح عمل در آمد نہیں ہو گا، حکومت کو چاہیے کہ وہ سخت لاک ڈاون متعارف کروائے جو کہ مزید دوسے تین ہفتے تک برقرار رہے، اس دوران تمام تر سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کی جائے اور تاجر برادری کو چاہیے حکومت کے ساتھ تعاون کرے تاکہ اس وبائی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے،مذہبی شخصیات سے بھی گزارش ہے کہ وہ دل پر پتھر رکھ کر مساجد پر بندش برقرار رکھیں کیونکہ اس وجہ سے کورونا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ یہ وبائی مرض ابھی کچھ مہینے مزید چلے گی، کب تک چلے کچھ نہیں کہہ سکتے،بچاؤ کا واحد طریقہ صرف اور صرف احتیاط ہے،ویکسین بننے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ پیما راولپنڈی کے صدر ڈاکٹر آصف نوازنے کہا کہ علمااور حکومت کے درمیان کو ئی معاہدہ تہہ پایا ہے اس پر عملدرآمد ممکن نہیں،جب آپ نے مسجد میں داخلہ کردیا تو احتیاط مشکل ہہے، مساجد میں زیادہ تر لوگوں کی تعداد پچاس سال سے اوپر ہے اور اس عمر کے لوگوں کو اس بیماری سے زیادہ خطرہ ہے۔پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ینگ ڈاکٹر ایسویسی ایشن اسلام آباد ڈاکٹر فضل ربی نے کہا کہ پاکستان میں کل چار ہزاروینٹی لیٹرز ہیں،ایسےمیں اس بات کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کس کو وینٹی لیٹر پر ڈالا جائے کس کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے، ہمارے ملک میں کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے کے باعث مریضوں کی تعداد، کم ہے، پراپر کٹس نہ ملنے کے باعث دو سو ڈاکٹرز کورونا کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں، عوام سے گزارش ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -