چودھری برادران کیخلاف تحقیقات بند کرنے کی درخواست پر مزید دلائل طلب 

چودھری برادران کیخلاف تحقیقات بند کرنے کی درخواست پر مزید دلائل طلب 

  

 لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے چودھری شجاعت، چودھری پرویزالٰہی اور فیملی کے 12 ارکین کے خلاف تحقیقات بند کرنے کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 3 مئی تک ملتوی کر دی، احتساب عدالت کے جج شیخ سجاد احمد نے چوہدری برادران کے خلاف نیب میں زیر التواء تین تحقیقات بند کرنے کی درخواست پر سماعت کی،نیب لاہور نے چودھری شجاعت حسین، چودھری سالک حسین، چودھری شافع حسین، چودھری پرویز الٰہی، اہلیہ پرویز الٰہی،  مونس الہی، راسخ الٰہی اور 2 خواتین کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور پرویز الٰہی کے بطور وزیر اعلی غیر قانونی بھرتی کیس بند کرنے کی درخواست دائر کی ہے، نیب کے پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان نے عدالت کو بتایا کہ نیب چودھری شجاعت حسین اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری کر رہا تھا دوران تفتیش چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے کے شواہد موصول نہیں ہوئے،چودھری برادران کے خلاف تین مختلف انکوائریاں نیب میں زیر التواء تھیں،چودھری شجاعت حسین پر بطور وفاقی وزیر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے جبکہ چودھری پرویز الٰہی پر بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کا الزام تھا، چودھری پرویز الٰہی پر بطور وزیر لوکل گورنمنٹ 79 غیر قانونی تعیناتیوں کا الزام تھا، غیر قانونی بھرتی ریفرنس کے اہم ملزم جاوید قریشی اور مشیر عالم انتقال کر چکے ہیں،چودھری برادران کے خلاف 19 جنوری 2021 کو چئیرمین نیب نے انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی ہے، چودھری شجاعت، چودھری پرویز سمیت دیگر کے خلاف 12 اپریل 2000 میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا جبکہ 11 مارچ 2015 کو تحقیقات نیب لاہور کو منتقل کی گئیں۔

دلائل طلب 

مزید :

صفحہ آخر -