شہباز شریف کی رہائی 

شہباز شریف کی رہائی 
شہباز شریف کی رہائی 

  

بلاول بھٹو چاہیں تو شہباز شریف کی رہائی کو بھی اپنی کامیابیوں میں شمار کرسکتے ہیں جیسے وہ ضمنی انتخابات میں نون لیگ کی جیت اور سینٹ میں باپ پارٹی کے ووٹوں سے یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بن جانے کو اپنی کامیابی گردانتے ہیں۔ بلاول بھٹو پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے لئے مریم نواز کی بجائے حمزہ شہباز سے ملاقات کے متمنی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو بات نواز شریف اور مریم نواز کو سمجھ نہیں آرہی،  وہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو آجائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جس کام کے لئے اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کو راضی نہیں کرسکی کیا بلاول بھٹو وہ بات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ ابھی تک تو یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نوازشریف سے منہ موڑ کر سیاست نہیں کر سکتے ہیں وگرنہ خود ان کے اپنے بقول 2018کے انتخابات سے قبل ان کی کابینہ کے نام تک فائنل ہو چکے تھے۔

شہباز شریف کی رہائی میں اسیری اور اسیری میں رہائی کی کیفیت کو سمجھنامشکل نہیں ہے۔ ان کے یار خاص چودھری نثار کے ساتھ جو کچھ ہو چکاہے اس کے بعد شہباز شریف توخواب میں بھی نواز شریف سے اختلاف کا نہیں سوچ سکتے  مگر یار لوگوں کو عجب طرح کی سرشاری ہے اور سمجھتے ہیں کہ بالآخر شہباز شریف نو ن لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ مریم نواز اپنے والد گرامی نواز شریف کے پاس لندن چلی جائیں گی۔ پاکستانی معاشرے کی، بالخصوص پی ٹی آئی حلقوں کی یہ اسٹیبلشمنٹ نوازی سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیال یہ تھا کہ یہ حلقے پڑھے لکھے ہیں اور جمہور یت کی مضبوطی پر کامل یقین رکھتے ہیں اور جمہور کے راج کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ یہ ناداں بھی گرگئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف بھی ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں یا پھر مفاہمت کے نام پر سٹیٹس کو کی قوتوں کے ساتھی بنے رہنے میں ہی عافیت جانتے ہیں؟ 2018کے بعد سے انہوں نے بطور اپوزیشن لیڈر جس طرزعمل کا مظاہرہ کیاہے اور جس طرح چودھری نثار سے دوری اختیار کی ہے اس سے تو یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بھی آئین میں اسٹیبلشمنٹ کی عدم مداخلت پر یقین رکھتے ہیں اور خاموشی سے نواز شریف کے پیچھے پیچھے چلنے کے قائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے باوجود کہ ان کی رہائی عمل میں آچکی ہے مگر این اے 249میں ضمنی انتخاب کی مہم کے لئے  مریم نواز ہی کراچی تشریف لے جا رہی ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور نون لیگ کی کامیابی کی دلیل ہے کہ یہاں پر ہر کام ایک منظم طریقے سے سرانجام پارہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں پر عہدوں کی ریس لگی ہوئی ہے یا پھر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے بلکہ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ متعین فرائض کی انجام دہی کو ضروری جانتا ہے اور دوسرے کے کام میں دخل دینے کا قائل نہیں ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی والا حال نہیں ہے کہ قیادت ایک فیصلہ کرتی ہے اور مصطفی نواز کھوکھر اور رضاربانی دوسری لائن اختیار کرتے ہیں۔ اگر اوپر کی سطح پر لیڈروں کا یہ حال ہے تو پیپلز پارٹی میں عام کارکنوں اور ووٹروں سپورٹروں کا کیا عالم ہوگا؟ پیپلز پارٹی میں پائی جانے والی یہ بے ترتیبی بتاتی ہے کہ وہاں ٹاپ لیڈر پشاور اور دوسرے درجے کی لیڈر شپ کراچی جارہی ہے جبکہ ووٹر سپورٹر کبھی نون لیگ کی طرف دیکھنے لگتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی کی جانب،کیونکہ پارٹی سے وفاداری کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے روزمرہ کے مسائل سے نبردآزما بھی ہونا ہوتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیئے ہوئے ہے۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی میں ووٹ کو عزت دو ایسی کوئی تحریک بپا نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہاں لٹو تے پھٹو والی حکمت عملی کا راج دکھائی دیتا ہے۔ 

شہبازشریف کی رہائی سے نون لیگ میں نئی جان پڑنے والی بات تو غلط ہے ہاں البتہ نون لیگ کے اندر ان کے نوازے ہوئے حلقوں کے لئے خوشی کی بات ضرور ہے۔ وہ حلقے ضرورچاہیں گے کہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز پارٹی کے اندر اپنے ہونے کااحساس دلائیں اور ممکن ہے کہ اس کوشش میں کچھ اختلافی آوازیں بھی سنائی دیں تاہم جس طرح جاوید لطیف، زبیر عمر اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کو میڈیا پرپارٹی موقف کی نمائندگی کرنے سے روکا گیا ہے اس سے یہی مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ نون لیگ آئندہ آنے والے دنوں میں کسی ڈھیلے ڈھالے موقف کو رواج دینے کی بجائے ایک جارح پالیسی اختیار کرنے جا رہی ہے اور اگر پنجاب میں کسی تبدیلی کا حصہ بنتی بھی ہے تو ایک ٹھوس انداز میں آگے بڑھنے پر یقین رکھے گی۔ 

تاہم کورونا وبا کے مہلک وار نہ صرف ملکی معیشت بلکہ سیاست کو بھی گہناتے جا رہے ہیں اور اس کے باوجود کہ پی ٹی آئی حکومت معیشت کے محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے، ابھی تک کورونا اس کی انشورنس پالیسی ثابت ہو رہا ہے۔ اس صورت حال میں اگر شہباز شریف کوئی کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور ملکی انتظام و انصرام میں اپنے تجربے کی بنا پر بہتری لانے کا قصد کرتے ہیں اس سے بڑھ کراچھی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ آخر کو وہ اس سے قبل ڈینگی مچھر کی وبا پر کامیابی سے قابو پانے کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ان کے پاس بہترین انتظامی صلاحیتیں موجود ہیں جن کو بروئے کار لاکر وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ اللہ انہیں صحت و سلامتی عطا کرے اور وطن کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی توفیق دے، آمین!

مزید :

رائے -کالم -