رحمن صاحب ہلکی پھلکی یادیں  (2)

رحمن صاحب ہلکی پھلکی یادیں  (2)
رحمن صاحب ہلکی پھلکی یادیں  (2)

  

ہمارے بی بی سی اردو کے ساتھی عارف وقار کے لئے آئی اے رحمان کی زیر سرکردگی روزنامہ آزاد کی اہمیت اِس پہلو سے بھی ہے کہ اخبار کا اجرا اور عارف کی اپنی ہمہ گیر صحافتی زندگی کا آغاز ایک ساتھ ہی ہوا۔ لندن سے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کئی لحاظ سے ایک منفرد صحافیانہ تجربہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حمید اختر، عبداللہ ملک اور آئی اے رحمان پر مشتمل مجلس ِ ادارت کے ہوتے ہوئے اخبار پہ کسی ایک شخص کا نام بطور ایڈیٹر شائع نہ ہوتا۔ البتہ ایک روایت سی بن گئی تھی کہ بیشتر ادارتی فیصلے جنابِ رحمان ہی کے کمرے میں ہوں گے۔ جیسے بنگلہ بندھُو شیخ مجیب الرحمان کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب نیوز ایڈیٹر عباس اطہر کی ”اُدھر تم، اِدھر ہم“ والی شہ سُرخی جس پہ حالات و واقعات کی کروٹوں کے پس منظر میں مخالفین کی توپوں کا رُخ رحمان صاحب کی طرف ہو گیا تھا۔

  پچھلے دنوں میرے سینئر دوست چودھری خادم حسین نے، جو اُن دنوں روزنامہ ”مساوات“ میں منو بھائی، ہمراز احسن اور راجہ اورنگزیب کی ٹیم میں پولیٹکل رپورٹر تھے، اِن الفاظ کو  شہ سُرخی بنانے میں روزنامہ ”ڈان“ کے تاریخی نامہ نگار نثار عثمانی کے مرکزی رول کا ذکر کیا۔ کہنے لگے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے، لاہور کے چیئرنگ کراس پر ایک اجتماع میں کچھ دن پہلے ہونے والے دسمبر 1970ء  کے انتخابی نتائج کا  علاقائی تناظر میں تجزیہ کیا تھا۔یہی کہ اُس وقت کے صوبہ سرحد، بلوچستان، پنجاب و سندھ  اور مشرقی پاکستان میں کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتی ہیں۔ ”اُدھر تم، اِدھر ہم“ کی بات بظاہر اِسی ضمن میں ہوئی اور آئی اے رحمان کے کمرے میں بیٹھے ہوئے نثار عثمانی نے کہا کہ بھئی، اُدھر تم حکومت بناؤ اور اِدھر ہم۔ اِس پر عباس اطہر چپکے سے نیوز روم میں چلے گئے اور پھر وہی ہوا جس کا اشارہ اوپر دیا جا چکا ہے۔ 

جن لوگوں نے نثار عثمانی کو قریب سے دیکھا بخوبی جانتے ہیں کہ وہ موقف کے کتنے دھنی تھے۔ بہتوں کو یاد ہے کہ بعد کے برسوں میں جنرل ضیا الحق نے بطور صدر جب ایک اخباری کانفرنس میں اُن پہ چوٹ کسی کہ عثمانی صاحب، قبلہ درست رکھیں تو اُنہیں کس مفہوم کا جواب ملا۔نثار عثمانی نے کہا تھا: ”جناب، میرا قبلہ بالکل درست ہے،آپ اپنا قبلہ ٹھیک کریں۔“ ضیاالحق تو خیر ضیاالحق تھے،مگر ایک شام دوستانہ محفل میں عثمانی صاحب نے میرا ہاتھ  سختی سے پکڑ کر جھٹکنے کے انداز میں کہا: ”آپ تو بولنے ہی نہیں دیتے۔“ میرے منہ سے نکلا: ”اگر مَیں آپ کو نہیں بولنے دیتا تو مجھے وکٹوریہ کراس ملنا چاہئے۔“ مَیں نے ’آپ‘ کے لفظ پہ جو زور دیا تھا اُس پہ بلند بانگ قہقہہ لگا جس میں نمایاں آواز عثمانی صاحب کی تھی۔ ذرا سوچیں کہ جب عثمانی مرحوم نے مذکورہ سُرخی کی اہمیت بتائی تو اُس کا کتنا اثر ہوا ہوگا۔

روزنامہ ”آزاد“ کا اجرا ہماری طالب علمی کے دَور میں ہوا تھا، اِس لئے مشرقی پاکستان میں ایک سیلاب زدہ عید الفطر پہ اشاعت کے لئے نظم بھیجنے کے سوا میرا اخباری تعلق محض قاری کے طور پر رہا۔ اِسی طرح گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریس کے دنوں میں ہفت روزہ ویو پوائنٹ کے دفتر دو ایک مرتبہ جانا تو ہوا، مگر وہ بھی آئی اے رحمان سے نہیں، اُن کے دوست اور رفیق ِ کار امین مغل سے ملنے کی خاطر۔ ایک دفعہ  میرے استاد پروفیسر سجاد شیخ ساتھ لے کر گئے،جو لیڈز یونیورسٹی سے لٹریچر میں آنرز کرنے سے پہلے اسلامیہ کالج سول لائنز میں ایرک سپرین اور حمید احمد خاں کی شاگردی میں رہے۔ یوں وہ امین صاحب سے جونیئر توتھے، مگر ایک لحاظ سے استاد بھائی ہوئے۔ دوسری بار جانا انگلش ڈپارٹمنٹ کے ساتھی ضیا ڈار مرحوم کے ساتھ ہوا جس کی بے وقت موت  ہم جیسے پست ہمتوں کو جینے کا حوصلہ  بخش گئی۔ 

آئی اے رحمان تک شاذ و محدود رسائی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم نوجوان ویو پوائنٹ کے ایڈیٹر مظہر علی خاں اور اُن کے ادارہء تحریر کی فکری سنجیدگی اور محتاط صحافیانہ بے باکی سے آگاہ نہیں تھے۔ میری تحریریں تو ایڈیٹر کے نام مراسلوں سے آگے نہ بڑھیں، لیکن ایک ہی ڈیزائن پر مبنی ترتیب وار نیلے، پیلے، سبز اور سُرخ ٹائٹل والے میگزین کا جمعہ کی سہ پہر جو انتظار ہوتا اُس کی شدت کا اندازہ، بس کچھ نہ پوچھئے۔  میرا پیرایہئ اظہار گھِسا پٹا سہی، مگر اُس وقت، کم از کم لاہور کی حد تک، عوامی سیاسی سوچ سے جڑے ہوئے انگریزی خواں قارئین کی لائف لائن ظاہری تزئین و آرائش سے عاری یہی تجزیاتی ہفت روزہ تھا۔ ایک شام جب نیا شمارہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی بِک گیا تو رات گئے پریس سے تازہ کاپیاں آنے تک مَیں وائی ایم سی اے کی اقامت گاہ سے آغا امیر حسین کی کلاسیک تک اِس شعر کی تفسیر بنا رہا کہ

شبِ ہجران عجب اِک بے کلی ہے

کبھی اُن کی، کبھی اپنی گلی ہے

تو اپنی اور اُن کی گلی کے درمیان بے تابی کے لمحوں میں، بقول فیض، رُخِ محبوب کا سیال تصور کیا میرے لئے صرف ایک تصور ہی رہا؟ اِسے کوئی کیا کہے کہ مکانی قربت کے ہوتے ہوئے بھی رُخ محبوب کی جھلک اتنی تھی کہ ’بس دُور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے۔‘ نزدیک سے دیکھنے کا من موہنا اتفاق تو لندن پہنچ کر ہوا۔ لیکن اِس واقعہ کو بھی تیس سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مَیں عالمی  نشریات کے صدر دفتر بش ہاؤس میں دن بھر کے فرائض سے نمٹ کر حسب ِ عادت بی بی سی کلب میں قدم رکھنے کے لئے لوئر گراؤنڈ فلور پہ اُترا تو دیکھا کہ اپنی ہفتہ وار چھٹی کے باوجود  عارف وقار سامنے بیٹھے ہیں۔ ساتھ درمیانی عمر کے مگر عارف سے بڑے ایک اور شخص۔ ظاہری شکل صورت میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ آدمی انہیں دیکھتا ہی رہ جائے، مگر ایک عجیب سا توازن ضرور تھا جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اِس متوازن ہستی کا قیام لندن میں ’نظریاتی ساتھی‘ عزیز امین مغل کے پاس تھا۔ یہ جگہ میرے گھر سے کوئی تین چار میل کے فاصلے پر ہوگی۔ ہمارا تو کام بن گیا۔ اگلی ہی شام آئی اے رحمان اور امین صاحب جید صحافی ہمراز احسن، بی بی سی کی جگت آپا سارہ نقوی اور عارف وقار کے ساتھ ہمارے یہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مصلحت کوشی سے دُو ر ایک سچا، سلجھا ہوا آدمی۔ گیارہ سالہ آمریت کے خاتمے پر پاکستانی سماج، سیاست اور صحافت کی پیچیدگیوں پہ اُن کی متوازن سوچ کا تاثر گہرا ہونے لگا۔ باقی لوگ تو  برسوں کی پولرائزیشن کے پس منظر میں پہلی بے نظیر حکومت کے بارے میں جذباتی تھے۔ رحمان صاحب کی بات کچھ اَور ہے۔ کہیں دبی ہوئی جذباتیت ہو گی  تو سہی، لیکن پاکستانی سوچ کا روایتی یک طرفہ پن نام کو محسوس نہ ہوا۔ یوں جیسے ہر جذبہ شعور کی دھیمی آنچ پہ پک گیا ہو۔ ہمارے پاس کیا بیٹھے، میری تو جڑوں میں بیٹھ گئے۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -