کورونا کی خوں آشام تیسری لہر، ہمارے سماجی شعور کا امتحان

کورونا کی خوں آشام تیسری لہر، ہمارے سماجی شعور کا امتحان
کورونا کی خوں آشام تیسری لہر، ہمارے سماجی شعور کا امتحان

  

آج کل سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی ایٹمی طاقتوں میں سے ایک کے پاس ویکسین اور دوسری کے پاس آکسیجن نہیں۔ دونوں ہی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں بے بس نظر آتی ہیں، بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ ہمارے حکمران ہمیں اب بھارت کی مثالیں دے کر ڈرا رہے ہیں، کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کا کہہ رہے ہیں، تاہم ویکسین لگانے کے معاملے پر ان کی الٹی سیدھی دلیلیں صورتِ حال کا مضحکہ اڑاتی ہیں، مثلاً وزیراعظم عمران خان نے فرمایا ہے کہ کورونا ویکسین کا فائدہ تو سال بعد ظاہر ہوگا، ویسے بھی دنیا بھر میں ویکسین کمیاب ہو گئی ہے۔ اب ان سے کون پوچھے کہ عزت مآب آپ نے ویکسین خریدنے کا آرڈر دیا ہی کب ہے کہ وہ دستیاب نہیں ہو رہی، آپ تو مانگے تانگے کی ویکسین سے کام چلا رہے ہیں اور اب تک بائیس کروڑ کی آبادی میں سے بمشکل دس لاکھ افراد کو ویکسین لگا سکے ہیں۔ اس طرح تو سال کیا سو سال لگ جائیں گے، ویکسین لگتے لگتے اور کورونا سے ہم کبھی محفوظ نہیں ہو سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ دنیا بھر میں دونوں کام ہو رہے ہیں، پابندیاں بھی ہیں اور ویکسین بھی لگ رہی ہے، کیونکہ جب تک یہ دونوں ساتھ ساتھ نہیں چلتے کورونا سے نجات ممکن نہیں، مگر ہمارے ہاں افسوسناک حد تک ویکسین میں غفلت برتی گئی ہے اور مستقبل قریب میں بھی ایسے امکان نہیں نظر آتے کہ ویکسین بآسانی دستیاب ہوگی۔ مَیں اپنی مثال دیتا ہوں، ساٹھ برس سے اوپر کی کیٹگری میں،مَیں نے ایک ماہ پہلے اپنا شناختی کارڈ نمبر1166پر بھیجا تھا، رجسٹریشن تو ہو گئی، ابھی تک ویکنیشن کی تاریخ نہیں آئی۔ جھانسہ دینے کے لئے یہ اعلان کر دیا گیا کہ اب پچاس سے ساٹھ برسوں کے درمیان کی عمر والے افراد کو بھی ویکسی نیشن کی سہولت حاصل ہو گی، جبکہ ساٹھ سال سے اوپر والے ہزاروں افراد رجسٹریشن کرانے کے باوجود انتظامیہ کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ اُدھر فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے اور ان کی رجسٹریشن کے لئے بنائی گئی ایپ ہی بند کر دی گئی ہے۔

اللہ نہ کرے کہ پاکستان میں بھارت جیسے حالات ہوں، لیکن ہماری مصلحت پسندی اور غفلت نے کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑی۔ بھارت اس وقت کورونا کے بدترین حملوں کا شکار ہے۔ اس کے ہیلتھ نظام کی چولیں ہل گئی ہیں اور ہسپتالوں میں چیخ و پکار جاری ہے، جہاں لوگ اپنے پیاروں کو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے آنکھوں کے سامنے تڑپتا، مرتا دیکھ رہے ہیں، لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے شمشان گھاٹ تھوڑے پڑ گئے ہیں۔ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ سرحد سے سرحد ملی ہوئی ہے، لیکن کورونا کو ان سرحدوں سے کوئی غرض نہیں، اس نے تو ہوا کے دوش پر آنا ہے اور جہاں جہاں موقع ملا تباہی پھیلائی ہے۔ پچھلے سال ہم محفوظ تھے، تاہم جب ایران کے راستے آنے والے زائرین، پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو کورونا بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ اس کے بعد جو تباہی ہوئی سب کے علم میں ہے۔ اب ایک دوسرے ہمسائے ملک سے جس کی سرحدیں بھی ایران سے زیادہ ہمارے ساتھ ملتی ہیں، کورونا کے بڑے عذاب کے خطرے کی زد میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم نے احتیاط نہ کی، تو دو ہفتوں میں ہمارے ہاں بھی بھارت جیسی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت بھی ملک میں 93فیصد آکسیجن استعمال ہو رہی ہے، گویا صرف سات فیصد کی گنجائش رہ گئی ہے۔ خدانخواستہ کوئی بڑا حملہ ہوا تو ہمارے ہاں بھی آکسیجن ناپید ہو جائے گی اور پھر آہ و بکا کے مناظر ہی ہمارا مقدر رہ جائیں گے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اب بھی لوگ کورونا کو سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں۔ ادھر حکومت کے اقدامات بھی صرف خانہ پُری تک رہے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو اب فوج کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے نہ بلانا پڑتا۔ ضلعوں کی انتظامیہ اور پولیس نے ایس او پیز کو کمائی کا ذریعہ بنائے رکھا۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، میرج کلبوں اور بازاروں کے لئے کورونا تدارک کے جاری کردہ ضوابط کی دھجیاں اُڑائیں، ماسک کی پابندی کو ایک مذاق سمجھا اور سوشل ڈسٹینس کا سرِمو خیال نہ رکھا۔ سخت حکومتی اقدامات سے عوام میں ایک سنجیدگی پیدا ہو سکتی تھی، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ حکومت خود ہر جگہ نرمی دکھا رہی ہے تو وہ یہی سمجھتے رہے کہ کورونا حقیقت نہیں، بلکہ صرف عالمی سازش ہے۔

ہمارے تاجروں کا رویہ بھی عجیب و غریب ہے۔ انہیں دکانیں کھلی رکھنے کے لئے بارہ گھنٹے دیئے گئے ہیں، مگر وہ بضد ہیں کہ رات گئے تک دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی جائے۔ وہ خود ایسا کوئی کام کرنے کو تیار نہیں جو کورونا ایس او پیز کو یقینی بنائے، بس ان کی خواہش  یہی ہے کہ دکانیں دن رات کھلی رہیں وہ بھارت سے بھی سبق نہیں سیکھ رہے، جہاں کورونا کے خوف سے دکانداروں نے از خود بازار بند کرکے خود کو گھروں تک محدود کر لیا ہے، نیو دہلی کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور ہر طرف موت رقصاں ہے۔ وہاں تاجروں کو اپنے کاروبار کی نہیں اپنی زندگی کی پڑی ہے۔ ہمارا تاجر طبقہ اس بات پر شکر کرے کہ یہاں سحری کے وقت سے لے کر شام چھ بجے تک بازار کھلے رکھنے کی اجازت ہے، جس نے خریداری کرنی ہوگی ان اوقات کے دوران گھر سے ضرور نکلے گا، یہ نہ ہو کہ حالات اس سے بھی بدتر ہوجائیں اور مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے انتباہ بھی کیا ہے۔ تاجروں کو وقت بڑھانے کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اپنے بازاروں کو محفوظ کیسے بنائیں۔ بازاروں کے داخلی راستوں پر سینی ٹائزرز کا اہتمام کریں، ماسک کے بغیر کسی کو بازار میں داخل نہ ہونے دیں، خود بھی اپنے عملے سمیت ماسک پہنیں، دکان میں رش لگانے کی بجائے گنجائش کے مطابق گاہکوں کو آنے دیں، یہ سب تو کہیں بھی نہیں ہو رہا، بس وقت بڑھانے کا مطالبہ جاری ہے۔ جب حالات بگڑتے ہیں تو الزام حکومت کو دیا جاتا ہے کہ اس نے ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج کا بندوبست نہیں کیا۔ امریکہ جیسے بڑے ملک میں جب کورونا کیسز یک دم بڑھ گئے تھے تو وہاں بھی ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا تھا، آکسیجن بیڈز اور وینٹی لیٹرز کم پڑ گئے تھے، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں تو پہلے ہی ناکافی سہولتیں ہیں، کیسز بڑھ جائیں تو حالات ویسے ہی ہوتے ہیں، جیسے آج کل بھارت میں نظر آ رہے ہیں۔

کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے لئے فوج کی مدد لینے کا فیصلہ بہت اچھا اور بروقت ہے۔ اس کا نفسیاتی اثر یہ پڑے گا کہ وہ عام آدمی جو ابھی تک کورونا کے معاملے میں غیر سنجیدہ رویے کا شکار ہے۔ اس کی ہولناکی اور معاملے کی حساسیت کو سمجھے گا۔ میں کینٹ کے علاقے میں رہتا ہوں، جہاں فوجی ناکوں سے بغیر ماسک کے گزرنا ممنوع ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سبھی لوگ ماسک پہنے نظر آتے ہیں، تاہم جونہی شہری علاقوں میں داخل ہوں تو دنیا ہی اور ہوتی ہے۔ ماسک پہنے شخص کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ اب فوج کے آنے سے ماسک کی پابندی بڑی حد تک ممکن ہو گی۔ دنیا بھر میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کورونا سے بچاؤ کے لئے ماسک سب سے موثر ہتھیار ہے۔ دوسرا ہاتھوں کو بار بار دھونا اور تیسرا سماجی فاصلہ رکھنا ہے۔ ہمیں اب بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم بھارت جیسی صورتِ حال چاہتے ہیں یا پھر ایسی قوم کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرنا چاہتے ہیں، جس نے کورونا جیسی آفت کا سماجی شعور اور نظم و ضبط سے مقابلہ کیا اور سرخرو رہی۔

مزید :

رائے -کالم -