بھارت، کورونا بھیانک، آکسیجن کیلئے ترستے شہریوں کی نبضیں ڈوبنے لگیں 

بھارت، کورونا بھیانک، آکسیجن کیلئے ترستے شہریوں کی نبضیں ڈوبنے لگیں 

  

بھارت میں کورونا بھیانک ہوگیا، آکسیجن کے لیے ترستے شہریوں کی نبضیں ڈوبنے لگیں، اموات اور مریضوں کے خوف ناک ریکارڈ بننے لگے۔24 گھنٹوں میں تین لاکھ 44 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آگئے، 2600 کی سانس کی ڈور ٹوٹ گئی،ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر، آکسیجن، ڈاکٹر، دوا سب کم پڑگئے، جان سے جانے والوں کے لیے شمشان گھاٹوں میں لکڑیاں، قبرستانوں میں جگہ ختم ہوگئی، میتوں کو اجتماعی سپرد خاک کرنے کی نوبت آگئی، مختلف شہروں میں آکسیجن پہنچانے کے لیے ریلوے حرکت میں آگیا۔مہاراشٹر، اڑیسہ، کیرالہ میں ویک اینڈ لاک ڈاؤن لگ گیا، کویت نے بھارت سے براہ راست کمرشل پروازیں معطل کردیں، ڈبلیو ایچ او نے بھارت سے نقل وحرکت پر فوری پابندی کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ کہا بھارت میں کورونا وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تشویش ناک صورت حال خطرے کی گھنٹی ہے، امریکا نے بھارت کو طبی امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں کورونا کے ریکارڈ 3 لاکھ 46 ہزار 786 کیسز رپورٹ ہوئے اور 2624 اموات ہوئیں جس سے بھارت میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد ایک کروڑ 66 لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ اموات ایک لاکھ 89 ہزار سے زیادہ ہیں۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہیکہ گزشتہ 5 روز کے دوران دارالحکومت نئی دہلی کے تمام اسپتالوں کے ا?ئی سی یو مکمل طور پر بھر چکے ہیں جب کہ اسپتال حکام کا بتانا ہیکہ کچھ تشویشناک مریضوں کو فی منٹ 40 سے 50 لیٹر ا?کسیجن کی ضرورت ہے۔

کورونا بھیانک

مزید :

صفحہ اول -