وزیراعظم صاحب ، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟بلاول نے بھی پوچھ لیا

وزیراعظم صاحب ، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟بلاول نے بھی پوچھ لیا
وزیراعظم صاحب ، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟بلاول نے بھی پوچھ لیا

  

 کراچی(آئی این پی ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے حکمران اپنے عوام کے فائدے کا سوچتے ہیں اور عمران خان چندہ لینے کی نئی ترکیبوں پر غور کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری میڈیکل سٹورز پر پیسے کم ہونے کی وجہ سے دوا خریدے بغیر واپس جانے والے غریب کی آواز بننا سیاسی پوائنٹ  سکورنگ نہیں ہے، ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد سے زائد اضافہ عام آدمی سے زندگی کا حق چھین لینے کے مترادف ہے، وزیراعظم ہاوس کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر عمران خان کو ان والدین کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں جو بچوں کے  اسکول کی فیس تک ادا نہیں کر پا رہے، وزیراعظم صاحب ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح کو چھورہی ہے، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں؟۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے خاتمے کے دعویدارعمران خان کرائے کے گھر میں رہنے والے عام آدمی کا مہینے کا بجٹ بنا کر دکھا دیں، اس وزیراعظم کے ہوتے کوئی ایک عید ایسی نہیں گزرے گی جس میں مہنگائی کی وجہ سے نئے کپڑے بنانا بھی ایک گھرانے کیلئے آسان ہو، کرپشن کے خلاف مہم کا جھانسہ دے کر عوام کو چینی کے حصول کیلئے لمبی قطار میں کھڑا کردیا گیا ہے، دنیا بھر کے حکمران اپنے عوام کے فائدے کا سوچتے ہیں اور عمران خان چندہ لینے کی نئی ترکیبوں پر غور کرتے ہیں، ان کی تبدیلی یہ ہے کہ اپنے سرمایہ دار دوستوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر عام آدمی کو مہنگائی کے شکنجے میں کس دیا جائے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ لنگر خانے کھولنے سے غربت ختم نہیں ہوگی، آپ کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا، آپ نے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے پر 68 روپے زیادہ دینے والے عام آدمی کو روٹی کے نوالے تک سے محروم کرنے کی کوشش کی، جب حکمران خود چور ہوتا ہے تو ملک میں مافیا بے لگام ہوکر زیادہ منافع کے حصول کے لئے ہر چیز مہنگی کردیتا ہے، آئی ایم ایف کے حکم پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے والے سلیکٹڈ وزیراعظم کے جرائم کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اگر 3 سال تبدیلی کیلئے کم ہیں تو 8 سالوں میں خیبرپختونخواہ میں سرکاری اسپتالوں کے مہنگے علاج کے علاوہ اور کیا تبدیلی آئی؟ عمران خان مہنگائی پر قابو نہ پانے کی ذمہ داری لیں اور استعفی دے کر گھر جائیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -