وزیراعظم شہباز شریف 

 وزیراعظم شہباز شریف 
 وزیراعظم شہباز شریف 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان لڑائی کے بعد یاد آنے والے مکے ہوا میں لہرا رہے ہیں، غصے میں تھوک پھینکتے نظر آتے ہیں، گرے ہوئے دودھ پر پچھتارہے ہیں، اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق گھڑے منصوبوں کی ناکامی پر تلملا رہے ہیں اور دیوانوں کی طرح گلی روکے ہوئے کھڑے ہیں تو دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ بے یارومددگار کھڑی ہے، پی ٹی آئی اس کی مخالف ہوچکی ہے تو متحدہ اپوزیشن نیوٹرل! سپریم کورٹ کو وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی رات بارہ بجے عدالتیں کیوں کھل گئی تھیں، فوج سڑکوں پر کیوں نظر آئی تھی، قیدیوں کی وین کیوں پارلیمنٹ کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی، عمران خان اسمبلی میں آئے بغیر استعفیٰ دے کرگھر کیوں چلے گئے تھے، بی بی سی نے اندرون خانہ کی مبینہ جعلی خبر کیوں چلائی تھی، پی ٹی آئی کے لوگ بادل ناخواستہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعداسمبلی سے اٹھ کر کیوں چلے گئے تھے؟
یہ ساری باتیں پرانی ہو چکی ہیں، قصہ پارینہ بن چکی ہیں، قوم، ملک اور ریاست ان سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ آج کی حقیقت وزیر اعظم شہباز شریف ہیں جوعمران خان کا توڑ، زرداری کا جوڑ اور نواز شریف کی لوڑ(ضرورت)ہیں۔ جتنے بجے تک بطور وزیر اعظم عمران خان اپنے آپ کو کام کاج کے لئے تیار کرپاتے ہوں گے اتنے بجے تک شہباز شریف دن بھر کا کام ختم کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صدر عارف علوی کو رام کرلیا ہے، چودھری شجاعت کو ہمنوا بنالیا، قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں عمران خان کے امریکی سازش کے بیانئے کابھرکس نکال دیاہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کو وزیر اعظم آفس میں مل لیا ہے، جنرل فیض حمید سے جا کر بریفنگ لے لی ہے،دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی مدت کو کم کردیا ہے، انہوں نے کسی کو ناراض نہیں کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ابھی تک نیشنل ہک اپ پر قوم سے خطاب نہیں کیا ہے۔ 


وزیراعظم شہبازشریف کے بارے کچھ حقیقتیں مسلمہ ہیں کہ وہ ہمہ وقت مصروف رہنے والی شخصیت ہیں، ان سے بڑھ کر کوئی ممبر پارلیمنٹ محنتی نہیں ہے، وہ کام، کام اور کام پر یقین رکھنے والی شخصیت ہیں، سب کو ساتھ لے کرچلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اپنے پرائے کا غم کھانے والے ہیں، ان کی خوبی مفاہمت، عدم منتقم مزاجی اور صبرواستقامت ہے۔ وہ انگریزوں کے ساتھ انگریز، ترکیوں کے ساتھ ترکی،  عربیوں کے ساتھ عربی اور چینیوں کے ساتھ چینی بن جاتے ہیں۔ یورپ والے ان سے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ہاں البتہ امریکیوں سے ان کا پہلی بار ٹاکرا ہوگا۔
لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہباز شریف کہیں سڑک پر بیٹھے کسی غریب کا دکھ سنتے نظر آتے ہیں تو کہیں بس میں سوار مسافروں سے سفر کی تکالیف سنتے پائے جاتے ہیں، کہیں موٹر سائیکل پرسوا ر ہوکر جلسہ گاہ پہنج جاتے ہیں اورکبھی لانگ شوز پہن کربارش کے پانی میں جا گھستے ہیں۔ ان کی یہ صلاحیتیں ان کے مخالفین کو جزبز کئے رکھتی ہیں اور وہ اپنے دل کی بھڑاس انہیں شوباز کہہ کر نکالتے پائے جاتے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور ان کے گورنرنواب آف کالاباغ کے بعد اگر کسی شخصیت سے انتظامیہ کی روح لرزتی ہے تو وہ وزیر اعظم شہباز شریف ہیں، ان میں فیصلہ سازی کی جوصلاحیت ہے وہ شائد نوا ز شریف میں بھی نہیں ہے۔ 
وزیر اعظم شہباز شریف کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ باصلاحیت ہیں، پرعزم ہیں، شعروشاعری اور موسیقی کے دلدادہ ہیں، ان کا قول و فعل کامل اور وہ تمام تر کوششوں اور رغبتوں کے نواز شریف سے وفاداری کا پیکر بنے رہے ہیں۔ اگر ایسی صلاحیتوں والا شخص دو سال وزارت عظمیٰ میں گزار گیاتو وہ تو عوام کا محبوب لیڈر بن جائے گا، اسٹیبلشمنٹ کی ڈارلنگ ہوگااور عالمی لیڈروں کا بااعتماد دوست تصور ہوگا۔ پاکستان میں اگر کسی سیاسی شخصیت بارے میں وثوق سے کہاجاسکتا ہے وہ عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہاسکتی ہے تووزیر اعظم شہباز شریف ہی کی شخصیت ہے۔ انہوں نے ڈینگی مچھر کا خاتمہ کردکھایا تھا، اسپتالوں کی حالت زار بہتر بنادی تھی، غربت کے پیچھے الاللہ کرکے پڑگئے تھے، لاہور کو پیرس بنادیا تھا۔ شہبازشریف جتنی تیزی سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی رفتار سے پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں، چاہیں تو ساری عمر چپ بیٹھے رہیں اور وقت آئے توایسا شور مچائیں کہ مخالف کا بیانیہ دم توڑ جائے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دوست بنالیتے ہیں اوردشمنوں کو منالیتے ہیں۔
شہبازشریف جیسے نڈر، بے باک، محنتی اور سخت جان سیاستدان کوقدرت نے اپنی صلاحیتیں آزمانے بلکہ منوانے کابہترین موقع دیا ہے۔ عمران خان ایسے نااہل وزیر اعظم کے بعد شہباز شریف ایسا کام کا دھنی شخص ہی اس ملک کو آگے لے جاسکتا ہے لیکن اب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں، پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، سب کے وزیر اعظم ہیں،سندھ، بلوچستان، کے پی، کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھی وزیر اعظم ہیں، انہیں فوج، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور دیگر ریاستی اداروں کو ساتھ لے کرچلنا ہے، صوبائی نہیں وفاقی معاملات سلجھانے ہیں، خالی انتظامی ہی نہیں آئینی معاملات نپٹانے ہیں، بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کو نمایاں مقام دلوانا ہے، پورے پاکستان کے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے، اتحادی حکومت کو کامیابی سے چلانا ہے، لوگوں کی خدمت کرنی ہے، انتخابی اصلاحات یقینی بنانی ہیں، ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنی ہے، مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے، بجلی سستی کرنی ہے، سی پیک چلانا ہے، عمران خان کے دھرنوں سے نپٹنا ہے، نوا ز شریف کو واپس لانا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مریم نواز کے راستے کے کانٹے چننا ہے!
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں 
جی  خوش  ہوا  ہے  راہ کو  پرخار دیکھ کر 

مزید :

رائے -کالم -