پولیس کو مضبوط کرنے کی ضرورت

پولیس کو مضبوط کرنے کی ضرورت
پولیس کو مضبوط کرنے کی ضرورت

  

ملک میں پے درپے ہونے والے قانون شکن واقعات اور لرزہ خیز جرائم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ملک میں قانون کی رٹ کمزور اور ریاستی ادارے افراتفری کا شکار ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرکردہ اور طاقتور عناصر بھی ہولناک جرائم میں ملوث پائے جارہے ہیں جس سے اداروں کی ساکھ اور انصاف و قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان پیدا ہورہے ہیں، عوام میں شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔بلاشبہ عدلیہ اپنا کردار بحسن خوبی ادا کررہی ہے اور راست اقدامات اور فیصلوں کے باعث جرائم پیشہ عناصر کی گوشمالی بھی کی جارہی ہے لیکن محکمہ پولیس کی کمزوری اور پولیس افسران کا جرائم کی پشت پناہی کرنے جیسے الزامات سے عوام کا اعتبار اداروں سے اٹھتا جارہا ہے۔ قانون کی بے قدری کا یہ عالم کسی ایک صوبہ میں نہیں بلکہ ملک کا کوئی بھی صوبہ اس کمزوری سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ملک بھر میں ماورائے عدالت قتل بالخصوص پنجاب میں سانحہ ماڈل ٹاؤن، ساہیوال کے بعد اب پنجاب اسمبلی واقعے کے بعد پنجاب پولیس کو عوامی تنقید کا سامنا ہے۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی پنجاب بھر بالخصوص لاہور میں ایک بار پھر عوام کو امن و امان کی خراب صورتحال کا سامنا ہے سابق سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو نے شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے جو اقدامات کیے تھے ان کے جانے کے بعدحالات اب آہستہ آہستہ خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں شہر میں اچانک وارداتوں کی لہر بھی بڑھ گئی ہے ایک بار پھر کرپشن اور پراپڑی کا بزنس کرنے والے پولیس افسران نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے سابق سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو نے سی سی پی او آفس میں ایک صاف ستھری ٹیم قائم کرکے شہریوں کو ریلیف دینے اور پولیس نظام میں احتساب کو موثر بنانے کے لیے جو اقدامات کیے تھے ان کے جانے کے بعد وہاں لائے گئے افسران کے تبادلے بھی جاری ہیں کئی ایک کو تبدیل کر دیا گیا جبکہ بچ جانے والے باقی افسران کے تبادلے بھی زیر غور ہیں فیاض احمد دیو نے ایک عرصے سے وہاں مستقل ڈیرے دار افسروں کو آنے کے بعد تبدیل کر دیا تھا جو کہ اب دوبارہ وہاں تعیناتی کے لیے پر تول رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی جگہ قائم مقام چارج حاصل کرنے والے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان بھی انتہائی اچھی شہرت کے حامل ہیں لیکن ان پر بھی تبادلے کی تلوار لٹکی ہوئی ہے انہیں یا تو مستقل سی سی پی او لاہور تعینات کرکے شہر میں موجود خرابیوں کو ختم کرنے کا ٹارگٹ سونپا جائے تو ممکن ہے وہ بگڑتی صورتحال پر قابو پالیں ورنہ لاہور کے منہ زور ایس پیز جو بڑی بڑی سفارشوں کے حامل ہیں اور پنجاب پولیس کے کمانڈر بھی انہیں تبدیل نہیں کرسکے وہ قائم مقائم سی سی پی او کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کا شعبہ جو پہلے ہی بڑی محنت سے شہزادہ سلطان نے درست سمت متعین کیا ہے اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن عمران کشور اور ایس پی سی آے عاصم افتخار اور ایس پی اے وی ایل ایس آفتاب پھلروان کی مدد سے لاہور پولیس نے بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں شہزادہ سلطان کی ذمہ داری بڑھ جانے سے انوسٹی گیشن کاکام بھی متاثر ہو سکتا ہے آج بھی پنجاب بالخصوص لاہور میں بہت سارے ایسے اشتہاری جو مفرور ہیں اور ان کی سر کی قیمت تک مقرر ہے عدالتوں نے بھی انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے رکھا ہے لیکن وہ گرفتار نہیں ہو پارہے وہ ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں جب چاہتے ہیں شوٹر کی مدد سے امن تہہ بالا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ان کی گرفتاری کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پولیس محکمے کی کمزوری ہی ہے کہ وہ سر کی قیمت والے اشتہاریوں کو گرفتار نہیں کر پارہی، پچھلے چند دنوں میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فائرنگ کے اوپر تلے ہونے والے واقعات میں کئی ایک افارد قتل ہوئے ہیں لاہور میں ایک ہی واقعہ میں 6افراد قتل کردیے گئے اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی بالترتیب تین تین اور چار چار افراد کو قتل کیا گیا،پنجاب ہی نہیں ملک کے دیگر صوبوں میں بھی بہیمانہ جرائم وقوع پذیر ہورہے ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی زوال کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کئی ایک واقعات میں بچیوں کو بداخلاقی کے دوران قتل کرنے والے ان کے خونی رشتے دار نکلے ہیں۔ بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جو اعدادو شمار ہیں وہ کافی خوفناک ہیں۔ قصور میں زینب کو قتل کرنے والے ملزم عمران علی نے 10 وارداتیں دو، اڑھائی کلومیٹر کے دائرے میں کی تھیں، وہ ہر واردات کے بعد بڑے اطمینان سے اسی علاقے میں گھومتا پھرتا رہا، پولیس نے اگر پہلی واردات کے بعد ہی درست انداز میں تفتیش کی ہوتی تو مزید 9 بچیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ اس سے قبل قصور ہی میں 280 بچوں کی فحش ویڈیوز کا اسکینڈل سامنے آچکا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملک میں بچوں کی فحش فلمیں بنانے اور ان کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے معاملات میں صوبہ پنجاب سب سے آگے ہے۔ ان مقدمات میں اب تک جتنے بھی افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں کھوئی ہوئی اقدار کو واپس لانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص کر محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے، نیز جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کو موثر بنانے کے لیے انہیں ایس او پی کے مطابق کم از کم تین سال کام کرنے کاموقع دیا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے آنے سے ادارے کا نہ صرف مورال بلند ہوا ہے بلکہ وہ ادارے کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بھی بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -