پاکستان روس سے تعلقات مستحکم کرنا چاہتا ہے, شہباز شریف کا پیوٹن کو خط، وزیراعظم کا بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کا حکم، قیدیوں کی سزا میں دوماہ کی کمی کا اعلان 

پاکستان روس سے تعلقات مستحکم کرنا چاہتا ہے, شہباز شریف کا پیوٹن کو خط، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       اسلام آباد، لاہور (جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،اے پی پی):وزیراعظم شہبازشریف نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے اور عوام کی مشکلات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مئی کے مہینے تک لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو جب تک اس عذاب سے نجات نہیں ملتی نہ خود چین سے بیٹھوں گا نہ کسی کو بیٹھنے دوں گا۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سابق حکومت کی مجرمانہ غفلت کی پیدا کردہ تکلیف سے شہریوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں،تیل وگیس کا بندوبست ہونے تک عبوری اقدامات کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف حکومت نے ملک میں اضافی بجلی کی وافر مقدار فراہم کی تھی، عمران حکومت نے  بجلی کاایک  بھی نیا یونٹ شامل نہیں کیا،بروقت ایندھن خریدا گیا، نہ کارخانوں کی مرمت کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ عمران حکومت نے ہمارے دور کے سستی اور تیز ترین بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ بند کئے،مہنگی اور کم بجلی بنانے والے کارخانے استعمال کئے گئے،اس ظلم کی قیمت قوم کوہر ماہ 100 ارب روپے کی شکل میں ادا کرنا پڑرہی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ 6 ارب میں ایل این جی کا جو ایک جہاز مل رہا تھا، وہ قوم کو20 ارب میں پڑ رہا ہے،عمران حکومت کا یہ ظلم قوم کو اس سال 500 ارب سے زائد میں پڑے گا،توانائی کے شعبے کی تباہی کرکے پاکستان کی معیشت دیوالیہ کرنے کی سازش کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کا دورہ کیا اور پاکستان بھر میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی کمی اوروزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی سربراہی میں جیلوں میں قیدیوں کی سہولت اور اور مجموعی نظام کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو وزیر اعظم نے دورہ لاہور کے موقع پر کوٹ لکھپت جیل کادورہ کیا اور قیدیوں کی سزاؤں میں دوماہ کی کمی کا اعلان کیا اور جیل اصلاحات کے لئے وزیر داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ جیل اصلاحات کمیٹی میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے افسران شامل ہوں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ جو قیدی  اپنی سزا مکمل کرلیں ان کو معاشرے کا فعال شہری بنانے میں ہرممکن سرپرستی حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔وزیراعظم نے کوٹ لکھپت جیل حکام کو خصوصی تاکید کی کہ قیدیوں کی سہولت کے لیے  دستیاب ذرائع کو مثر طریقے سے  بروئے کار لایا جائے تاکہ قیدیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اس تناظر میں وزیراعظم نے قیدیوں کے کھانے پینے  اور صحت کی سہولیات کو مزید بہتر کرنے کی تاکید کی۔وزیراعظم نے قیدیوں کی ہنر سازی کے لیے بھی دستیاب ذرائع کو موثر طور پر استعمال میں لانے کی خصوصی ہدایت کی تاکہ قیدی اپنی سزا کا دورانیہ مثبت انداز میں پورا کر سکیں اور اپنے آپ کو سزا کے بعد معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے تیار کرسکیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے جوہر ٹاؤن میں قائم رمضان بازار کا اچانک دورہ کیا۔اتوار کو وزیر اعظم میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے بازار کے دورہ پر عوام کو ماہ رمضان میں اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت کی۔وزیراعظم شہبازشریف نے سیالکوٹ میں آگ لگنے سے گندم کی تیار فصل کی تباہی سے متاثرہ کسانوں کی مالی امداد کا حکم دے دیا۔ وزیر اعظم نے پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ جن کسانوں کی فصل جل گئی ہے، انہیں فوری امدادی چیک دئیے جائیں،وزیراعظم نے 90 ہزار کلوگرام گندم جل کر راکھ ہونے پر کسانوں کی فوری مالی مدد کا حکم دیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ  رمضان المبار ک ہے، مشکل وقت میں کسانوں کی بھرپور مدد کی جائے۔واضح رہے کہ بیلہ پْل باجواں، بجوت سیکٹر میں 23 اپریل 2022 کو گندم کی تیار فصل کو آگ لگ گئی تھی،آگ سے 77 ایکڑ رقبہ متاثرہواتھا، 76 ایکڑ میں گندم کی فصل کٹائی کے لئے تیار حالت میں تھی،سرکاری رپورٹ کے مطابق 15 کاشتکاروں کی تیارگندم جل گئی تھی،تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ کٹائی مشین میں فنی خرابی سے آگ لگی،مشین کے قریب ہی ذخیرہ کردہ 80 لیٹر ڈیزل کے آگ پکڑنے سے حادثے کا دائرہ پھیل گیا تھا،فاصلہ زیادہ ہونے کی بناء پر فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں وقت لگا۔فائر بریگیڈ نے 32 کلومیٹر کا فاصلہ 25 منٹ میں طے کیا۔فائربریگیڈ کی کوششوں سے آگ کو 135 ایکڑ میں پھیلنے سے روکاگیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان  کی کڈنی و لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کا دورہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پی کے ایل آئی میں اسپیشل ٹریٹمنٹ یونٹ کا دورہ کیا اور وزیراعظم کو اسپیشل ٹریٹمنٹ یونٹ میں مریضوں کو دستیاب جدید علاج کی سہولتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے اس موقع پر پی کے ایل ا?ئی کے حکام کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ مریضوں کو تمام دستیاب سہولتیں موثر طریقے سے پہنچائیں۔:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت نے سیاسی مخالفین کو بدترین انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا، کہا گیا کہ شہباز شریف  کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ  بنانے پر 20 ارب روپے لگا دیئے اور اس پر مجھے نیب کے عقوبت خانے میں رکھا گیا، پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ  کو جلد مکمل فعالیت کی  ہدایت نیکی ہے، یہ ہسپتال صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لئے  ہے،  خواہش تھی کہ  اس سنٹر کو ٹرسٹ میں تبدیل کریں۔ اتوار کو پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ   خادم پنجاب ہوتے ہوئے10سالوں میں اربوں روپے غریبوں، یتیموں، بیواؤں کے علاج پر لگائے، یہ سنٹر مستحق مریضوں کے مفت علاج کیلئے بنایا گیا، ادارے میں صرف 6 آپریشن سنٹر فعال جبکہ14بند پڑے ہیں، خواہش تھی کہ پی کے ایل آئی کو ٹرسٹ میں تبدیل کریں، اس سنٹر کے دورہ کا مقصد طبی سہولیات کا جائزہ لینا ہے، یہ سنٹر صرف پنجاب یا مخصوص لوگوں کیلئے نہیں  بلکہ پورے پاکستان کے عوام کیلئے ہے جس کا افتتاح 2018 میں ہوا جہاں غریبوں کا علاج مفت ہونا تھا تاہم اب بریفنگ پر پتہ چلا کہ  غریب  مریضوں کے یہاں صرف 17 فیصد کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوئے اور 83 فیصد امراء کا یہاں پر علاج ہوا، یہ ہسپتال مستحق مریضوں کے مفت علاج کیلئے  بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں  پنجاب حکومت کے وسائل اور دیگر فنڈز جمع کرکے اس سنٹر کو ایک ٹرسٹ کے طور پر بنانا چاہا رہے تھے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوسکے، یہاں صاحب حیثیت لوگ بھی ادائیگی کرکے ضرور اپنا علاج کروائیں تاہم وہ اپنا علاج دنیا کے اچھے ممالک میں بھی کروا سکتے ہیں۔ یہ ہسپتال یہاں امیروں اور غریبوں کی تفریق کے بغیر  علاج کی سہولت کیلئے بنایا گیا تھا۔ بطور وزیراعلی پنجاب اربوں روپے کی مستحقین کے بھارت اور چین میں لیور و کڈنی ٹرانسپلانٹ  کیلئے مالی معاونت کی،کڈنی ٹرنسپلانٹ کیلئے  بھارت اور چین ہمارے مریض جا رہے تھے ہم نے ڈیڑھ سے دو سال میں زرمبادلہ باہر جانے سے روکنے کیلئے یہ ہسپتال بنایا، ڈاکٹر سعید اختر اور ان کی ٹیم کی اجتماعی کوششوں سے یہ ہسپتال بنا۔ فیصل ڈار جیسے قابل معالج کو یہاں لاکر اس ہسپتال کو فعال کیا۔ اس ہسپتال کے بنانے پر کہا گیا کہ اس پر شہباز شریف نے 20 ارب روپے لگائے، اس پر نیب نے پوچھ گچھ بھی کی اور عقوبت خانہ میں بھی رکھا لیکن ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی،ہسپتال کے عملہ نے امریکہ سے ایک مخصوص کمپنی کے ا?لات منگوانے کا کہا تو اس کیلئے  کراچی کے ایک صاحب حیثیت سے 9 کروڑ روپے عطیہ لے کر ا?لات اس ہسپتال کیلئے منگوائے، انہوں نے کہا کہ ملک میں کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ کے ایسے مریض جو مختلف شہروں میں ہونے والے غیرقانونی  ٹرانسپلانٹ مراکز سے جہاں حفاظتی تدابیر بھی اختیار نہیں کی جاتیں وہاں پر ٹرانسپلانٹ کرانے پر مجبور تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا منصوبہ ہونے کی وجہ سے اسے اگر ذاتی عناد کا شکار بنا دیا جائے تو یہ قابل افسوس بات  ہے اب اس کی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سنٹر کو مکمل طور پر فعال کرنے کیلئے  متعلقہ حکام  کو احکامات دیدیے ہیں، ہم اپنے اہداف کے حصول میں ضرور کامیاب ہوں گے۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جوابی خط لکھ دیا ہے۔ ذ جوابی خط میں وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پیوٹن کے تہنیتی پیغام کا شکریہ ادا کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ خط کے متن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے پر روس کو ساتھ لیکر چلنا چاہیگا۔خیال رہے کہ روسی صدر نے گزشتہ ہفتے شہباز شریف کو  وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد کا خط لکھا تھا۔
شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -