”آپ نے کیا جناب عالیٰ لگا رکھی ہے ، ملزم کا نام بتائیں “جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے استفسار پر وکیل نے ایسا جواب دیا کہ قہقہے لگ گئے 

”آپ نے کیا جناب عالیٰ لگا رکھی ہے ، ملزم کا نام بتائیں “جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ...
”آپ نے کیا جناب عالیٰ لگا رکھی ہے ، ملزم کا نام بتائیں “جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے استفسار پر وکیل نے ایسا جواب دیا کہ قہقہے لگ گئے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں ملزم کے منفرد نام کے باعث اس وقت صورتحال دلچسپ ہو گئی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے3 بار ملزم کا نام پوچھا تو وکیل صفائی نے ایک ہی جواب دیا ” جناب عالیٰ“۔
تفصیلات کے مطابق وکیل کی جانب سے بار بار جناب عالیٰ کہنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کیا جناب عالیٰ لگا رکھی ہے ، ملزم کا نام کیوں نہیں بتا رہے ، ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا نام ہی ” جناب عالیٰ“ ہے ، اس لیے میں جناب عالیٰ کہہ رہاہوں ، وکیل کی بات سن کر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا ۔
دوران سماعت کیس میں ناقص تفتیش کا پہلو سامنے آیا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف کوئی گواہ یا شواہد ہیں ؟ بتایا گیا کہ مقتولہ کی بہن واحد گواہ تھیں ان کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا ۔ جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں انصاف بڑی بولی دینے والے کیلئے بک رہاہے ، کرپشن پر پولیس کا شکریہ ادا کرتاہوں ، پولیس والے ملزمان کو کہتے ہیں کہ قتل کر دو کیس ہم خود خراب کر دیں گے ، کیا اس ملک میں خاتون کے قتل کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈی آئی جی مردان کو 2ہفتوں کے بعد ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاہے اور ریمارکس دیئے کہ ناقص تفتیش کرنے والے افسران کو یقینا اپنے عہدوں سے معطل ہو جانا چاہیے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -