کورٹ نمبر 1کا چارج ہوتا تو اس کیس کا ٹرائل ایک ہفتے میں ختم کر دیتے،جج اے ٹی سی کے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں ریمارکس

کورٹ نمبر 1کا چارج ہوتا تو اس کیس کا ٹرائل ایک ہفتے میں ختم کر دیتے،جج اے ٹی سی ...
کورٹ نمبر 1کا چارج ہوتا تو اس کیس کا ٹرائل ایک ہفتے میں ختم کر دیتے،جج اے ٹی سی کے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پرویز الٰہی سمیت 172افراد کیخلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ اس مقدمے میں 172ملزمان ہیں، ٹرائل جلد ختم ہو جانا چاہئے،جو ملزمان پیش نہیں ہو رہے ان کا کیس الگ کردیتے ہیں،کورٹ نمبر 1کا چارج ہوتا تو اس کیس کا ٹرائل ایک ہفتے میں ختم کر دیتے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی، پرویز الٰہی سمیت 172افراد کیخلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کے جج طاہر عباس سپرا نے کی،پی ٹی آئی کارکنان وکیل سردار مصروف کے ہمراہ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہوئے۔

جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی سے متعلق جیل کی طرف سے کوئی رپورٹ آئی ہے؟عدالتی عملے نے کہاکہ جیل سے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے،جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ اس مقدمے میں 172ملزمان ہیں، ٹرائل جلد ختم ہو جانا چاہئے،جو ملزمان پیش نہیں ہو رہے ان کا کیس الگ کردیتے ہیں،کورٹ نمبر 1کا چارج ہوتا تو اس کیس کا ٹرائل ایک ہفتے میں ختم کر دیتے۔

وکیل نے کہاکہ ملزمان سے برآمد موبائل فونز کی سپرداری درخواست منظور ہونے کے باوجود مہنگے موبائل فونز نہیں دیئےگئے،اے ٹی سی جج نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تفتیشی اس بارے میں رپورٹ پیش کرے وکیل نے کہاکہ ملزمان سے برآمد موبائل فونز کی سپرداری درخواست منظور ہونے کے باوجود مہنگے موبائل فونز نہیں دیئےگئے،اے ٹی سی جج نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تفتیشی اس بارے میں رپورٹ پیش کرے ، اے ٹی سی نے کیس کی سماعت 17مئی تک ملتوی کردی۔