دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ(3)

دانش سکول پنجاب: ایک مطالعاتی جائزہ(3)

  

 ٭راقم کو گذشتہ چند سالوں کے دوران آسٹریلوی حکومت کے سکالر شپ پر آسٹریلیاکی کئی نامور یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے اور وزٹ کرنے کا موقع ملا وہاں کے تعلیمی نظام کو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا میں آسٹریلوی سلیکٹ سکول سسٹم سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ا ٓسٹریلیا بھر کے عام سکولوں میں پڑھنے والے غیر معمولی ذہنی استعداد اور قابلیت رکھنے والے بچے ایک سخت امتحان کے نیتجے میں میرٹ پرمنتخب ہوکر سلیکٹ سکولوں میں جگہ پاتے ہیںجو بعد میںحکومتی اخراجات پر ٹاپ رینکینگ یونیورسٹیز میںاپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں بعدازیہ ہی سلیکٹ گروپ آسٹریلیاکو مستقبل کی لیڈر شپ فراہم کرتا ہے۔بلا شعبہ آسٹریلیا کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں اس گروپ کا نمایاں ہاتھ ہے۔ میری تجویز ہے حکومتی سطح پر اس سسٹم کو پاکستانی ماحول میں ڈھال کر دانش سکولوں میں نافذ کر دیا جائے جس سے ان سکولوں کا معیار مزید بلند ہو گا۔

 ٭ہاورڈیونیورسٹی کے معیار کی ایکState of the art یونیورسٹی مری کے گردونواح میں قائم کی جائے جس میں دانش / سلیکٹ سکولز سسٹم سے ایف اے، ایف ایس سی ، اے لیول کرنے کے بعد طلبا وطالبات اس مجوزہ یونیورسٹی میں براہ راست دخل کئے جائیں وہاں سے فارغ التحصیل ہو نے کے بعد یہ طالب علم مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مستقبل کے لیڈرز کا رول ادا کریں اور ملک کو Bad goverece ،کرپشن اور بدانتظامی کے عفریت سے نجات دلا سکیں۔ اس مجوزہ یونیورسٹی کے اساتذہ بھی مارکیٹ بیسڈ مشاہرے پر تعینات کئے جائیں۔

 ٭پنجاب بھر میںیونین کونسل کی سطح تک فنی تعلیم کے بہترین اداروں کا جال بچھا دیا جائے اور صوبے کا کوئی بھی نوجوان جو کالج میں میرٹ یا کسی اور وجہ سے داخل نہ ہو سکے ان اداروں میں لازمی طور پر ہنر یافتہ بن کر نکلے، نہ صرف اس سے وہ بہتر روزگار کما سکے گا بلکہ ایک مفید شہری کے طور پر اپنا رول ادا کر سکے گا۔ فوری طور پر صوبے کے تمام سرکاری ہائی سکولوں میں فنی شعبوں کا آغاز کر دیا جائے اور ہر طالب علم کیلئے لازم ہو کہ وہ میٹرک کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر بھی لازمی سکھیے۔ دیہاتی علاقوں میں رہنے والے طالب علموں کیلئے سکولوں میں ایگرو بیسڈ ٹیکنالوجی کا کوئی ہنر سیکھنا لازم ہو اس سے ہماری زراعت پر ایک مثبت اثر پڑے گا اورفی ایکٹر پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ اس ضمن میں میں پھر آسٹریلوی فنی تعلیم کے ادارہ Tafe کی مثال دو ں گا جو کے ملک بھر میں ہر قسم کی فنی تعلیم کی تربیت دیتا ہے بلکہ اسکے سر ٹیفکیٹ کے بغیر کوئی بھی شخص کسی بھی ٹریڈ میں کام کر سکتا ہے اور نہ ہی کہیں ملازمت کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اس کے تعاون سے فنی تعلیم کے اداروں کو اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف ہمارے ہنر مندوں کا معیار بلند ہو گا بلکہ بیرون ملک ملازمت کیلئے بھی اس سر ٹیفکیٹ کی بڑی اہمیت ہو گی۔

٭خادم اعلی نے پولیس کی تنخواہیںبڑے اخلاص سے دوگنی کیں لیکن تھانہ کلچر میں تبدیلی نہ آسکی میری ناقص رائے میں اگر اساتذہ کو معاشرے میں ایک معزز مقام دے دیا جائے اور ان کی تنخواہیں ڈبل کر دی جائیں تو میں سمجھتا ہو ں نہ صرف اس سے ٹیوشن کلچر کاخاتمہ ہو گا بلکہ پنجاب تعلیمی میدان میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔

٭اس وقت صوبہ میں لائیو سٹاک اور ہارٹیکلچر کے فروغ کا بہت زیادہ امکان ہے حکومت پنجاب لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے لاہو ر اور بہاولپور میں یونیورسٹی قائم کر چکی ہے بلکہ جھنگ، ملتان ، بہاولپور اور راولپنڈی میں فیکلٹی آف ویٹرنیر ی سائنس بھی قائم کر چکی ہے۔گذشتہ دنوں ملتان میں ایک نئی زرعی یونیورسٹی کا افتتاح ہو چکا ہے۔ میری تجویز ہے کہ صوبہ میں وادی سون سکیسر میں ہارٹیکلچر اور فارسٹری یونیورسٹی قائم کی جائے جس سے صوبہ میں ان شعبوں میں بہت زیادہ ترقی ہو گی اور مستقبل میں ہارٹیکلچر اور فارسٹ انڈسٹری جدید سائنسی بنیادوںپر استوار ہو کر معیشت میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بطور ماڈل بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے شہر سولن میں قائم کردہ ہارٹیکلچر اینڈ فارسڑی یونیورسٹی کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ اس یونیورسٹی کے قیام سے فارسٹ اور ہارٹیکلچر انڈسٹری نے بہت ترقی کی ہے اور پھل ، پھول، سبزیوںو فارسٹ کی مصنوعات کی وافر پیداوار اور اس کی اندرون و بیرون ملک فراہمی نے ہما چل پردیش کو بھارت کی ایک امیر ترین ریاست بنا دیا ہے۔

 ٭ہائیر ایجو کمیشن اسلام آباد کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈ ز کی عدم فراہمی نے پنجاب کی یونیورسٹیز کوبلعموم اور پروفیشنل یونیورسٹیزکو بلخصو ص ایک شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ خادم اعلی پنجاب سے دراخوست ہے کہ پروفیشنل یونیورسٹیزکو پنجاب حکومت کی طرف سے اضافی فنڈز مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی تعلیمی و تحقیقاتی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں۔

حرفِ آخر کے طور پر میں وزیر اعلی پنجاب جناب میاںمحمد شہباز شریف صاحب کودانش سکولز کے قیام کے اس انقلابی اقدام پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے سرسید احمد خاں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان روایات کو ایک دفعہ پھر سے زندہ کیا ہے جو بہت جلد اس ملک میں تعلیمی انقلاب لے کر آئیں گی۔ دانش سکولز کے بارے میں الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا میں بہت سی یک طرفہ تنقید پڑنے اور سننے کو ملی لیکن©’ ’Seeing is beliveing©“ کے مصداق جب ذاتی طور پر ان سکولوں کے دورے کا موقع ملا تو تصویر کے دوسرے ُرخ کو قریب سے جانچنے کا موقع ملا تو صورت حال بالکل مختلف نکلی ۔میں نے جو کچھ وہاں دیکھا اسے انتہائی دیانتداری سے صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیامجھے یقین کامل ہے کہ ان سکولوں سے فارغ التحصیل بچے مستقبل میں نہ صرف ملک کے اہم اداروں میں اپنی خدمات سرانجام د یں گے بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں لیڈ ر شپ فراہم کریں گے او ر ملک کو انتہائی قابل فخر اور صالح قیادت بھی فراہم کریں گئے۔ خادم اعلی پنجاب میں اخلاص بھی ہے اور قوم کیلئے درد اور تڑپ بھی ،کچھ کرنے کی جستجو بھی ہے اور لگن بھی میری ان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اوپر دی گئیں تجاویز کی روشنی میں صوبہ میںایک حقیقی تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھ دیں جس سے نہ صرف تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا بلکہ دین و دنیا بھی سنوارے گی اور آخرت کیلئے بھی توشہ خاص ہو گا اور ایک صدقہ جاریہ بھی۔ وَاللہِ علم َبصوّابَ

جب اپنا قافلہ اس عزم و یقیں سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا

اے وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دو

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

(ختم شد)

مزید :

کالم -