جنرل حمید گل: پاکستان کا دانشور سپاہی

جنرل حمید گل: پاکستان کا دانشور سپاہی
 جنرل حمید گل: پاکستان کا دانشور سپاہی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز (PINA) کے ایک سیمینار میں جنرل (ر)حمید گل سے پہلی بار مکالمہ ہوا تھا۔ پاک آرمی کے ایک ریٹائرڈ فوجی جرنیل کی طرح ان کا بھی ہر لفظ وطن کی گہری محبت سے سرشارتھا۔ لیکن ان کی کمٹ منٹ کہیں زیادہ مضبوط لگتی تھی۔ زبان کی بجائے دل سے نکلنے والی ان کی باتوں سے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق تبدیلی لانے کا ایک سمندر موجزن تھا۔ لیکن لمحہ موجود میں سیاست کا بے رحم منظر نامہ اور اس کے بچھائے جال میں ان کو کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہاتھا۔ جاگتی آنکھوں سے وہ انقلاب کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فوج کی بھرپور مگر ڈسپلن کی پابند زندگی سے نکل کر انہیں عملی سیاست کی دشوار گزار پگڈنڈیوں پر چلنا بہت مشکل لگ رہاتھا، چنانچہ ان دنوں ہر سوال کے جواب کی تان آئین کی دفعہ 62اور 63پر توڑتے چلے جارہے تھے۔ ان کی خدمت میں عرض کیا کہ ان دفعات پر عمل کرنے سے پوری اسمبلی گھر کو رخصت ہوجائے گی تو پھر تبدیلی کون لائے گااور ممبران اسمبلی خود اپنے خلاف قرار دادکیسے منظور کرسکتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں مجھے انہوں نے راولپنڈی آنے کی دعوت دے دی اور بات آئی گئی ہوگئی۔ سرکاری اور پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کو دیئے گئے ان کے آخری انٹرویوگواہ ہیں کہ وہ اپنے اصولوں ، نظریات خواب اور خواہشوں پر آخری سانس تک ثابت قدم رہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاک آرمی کا ہر فوجی دفاع پاکستان کے لئے مرمٹنے کا حلف دم آخرتک کے لئے اٹھاتا ہے۔ یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ کلام اقبال کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کو اپنا رہبرورہنما مانتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تو مانتے ہیں لیکن اپنی عملی زندگی میں ان کی ایک بھی نہیں مانتے ہیں۔


جنرل (ر)حمیدگل مرحوم زندگی بھر معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے ایک ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہے۔ عسکری منصوبہ بندی اور حکمت کاری ان پر ختم تھی۔ جوافراد بھی ان کی مجلس میں بیٹھتے وہ حالات حاضرہ کے بہت سے نئے افق اور نئے پہلو ذہن میں لے کر اٹھتے۔ وہ بہت وسیع المطالعہ اور میڈیاالرٹ جرنیل تھے۔ انہوں نے پاکستان کے حق میں اور خلاف بہت سی کتب، رسائل اورمضامین وغیرہ پڑھ رکھے ہوتے تھے ۔ہردم ہشاش بشاش فریش چہرے والے اس جرنیل کا حافظہ بلا کاتھا۔ عموماً زیادہ وسیع مطالعہ کرنے والے افراد کی اکثریت ہم نے مایوسی اور قنوطیت سے بھری دیکھی ہے لیکن جنرل (ر) حمید گل کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہ دشمن کی تمام تر چالوں اور سازشوں کو بخوبی سمجھتے تھے اور تمام عمر اپنی قوم کو دشمن کی انہی فریب کاریوں سے خبردار کرنے میں لگے رہے۔ آخری ملاقاتوں میں تو وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان میں بہت جلد امن، خوش حالی اورترقی کا ایک نیاسورج طلوع ہونے والا ہے۔ آپ دیکھتے رہیں اس ملک کو جیسے ہی ایک ایماندار اور مخلص قیادت میسر آگئی۔ہمارا ملک پوری دنیا کی قیادت کرنا شروع کردے گا۔ ان کی ایسی باتوں کو ایک مرتبہ پاس بیٹھے ایک صاحب نظر نے سورۂ کہف میں حضرت خضر علیہ السلام کے بیان کردہ واقعہ سے تشبیہ دی کہ جہاں یتیم بچوں کے خزانے پر دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں کہ جب عقل و شعور کی منازل طے کرلیں گے تو یہی خزانہ ان کے کام آئے گا ورنہ خزانہ ان سے کوئی چھین لے گا۔ صاحب نظر فرمانے لگے کہ قوموں کی زندگی میں پینسٹھ ستر سال کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوتا۔۔۔ پھرتا ہے فلک برسوں، تب خاک کے پردے سے انساں نکلتا ہے ۔ اس وقت یوں محسوس ہوتا کہ جنرل حمید گل کے تخیلات کی بلندپروازی بھی اقبالؒ کے آفاقی پیغام سے ماخوذ ہے۔


جنرل حمید گل کی زندگی کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن روس کے خلاف جہاد افغانستان کرنے والی قیادت کے روپ میں ہے۔ یہ بجا کہ ایک آدھ محاذ پر ان کی تدبیر اور اندازے غلط ثابت ہوئے لیکن مجموعی طورپر دشمن بھی ان کی حکمت کاری اور فہم وفراست کو تسلیم کرتا ہے۔ ان کے قریبی احباب ان کو اس موضوع پر کتاب لکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہے لیکن غالباً وہ قومی رازوں کو طشت ازبام کرنے کے عمل کو امانت میں خیانت سمجھتے تھے اور اس معاملے میں وہ ہمیشہ حد درجہ احتیاط برتتے رہے۔ ایساکرنا ہرکسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ہلکا اور چھوٹا برتن بہت جلد چھلک جاتا ہے لیکن اللہ نے ان کواہم رازوں کاامین رہنے کی بے پناہ صلاحیت دے رکھی تھی۔ میں نے ان کو کبھی لوزٹاک (Loose Talk)کرتے ہوئے یا اپنے کہے فقروں پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ آئین، قانون اور دلیل کے ساتھ بات کرنا ہی ان کا شیوہ رہا۔ یہ بات بھی بجا ہے کہ دنیا بھر میں اب بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں اور جنرل حمید گل اسی طرز کہن پر اڑے ہوئے تھے، یعنی مذاہب عالم کے حوالے سے ہرایشو کے نتائج نکالتے تھے۔ میرے خیال میں ایسا طرز عمل صرف وہی شخص اپنا سکتا ہے جس کو اللہ اور رسول ﷺ کے فرامین پر اٹل یقین ہو۔ اور ان اصولوں پر آج کے اس جدید دور میں بھی کامل ایمان رکھتا ہو۔ اللہ نے فرمادیا کہ یہود وہنود اور نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ اب بین المذاہب مکالمے کی دنیا بھر میں جتنی مجالس بھی برپا کی جائیں، اللہ اور رسول ﷺ کا آفاقی پیغام اپنی جگہ سب سے بڑی حقیقت کے طورپر ہی سامنے آتا ہے۔


میرے خیال میں جنرل حمید گل پین اسلام ازم تحریک کے اعلانیہ علمبردار تھے۔ وہ پورے عالم اسلام کو ایک امت واحدہ سمجھتے تھے اس لئے ہر نئے واقعہ اور مسئلہ کو اسی عینک سے دیکھتے تھے۔ یہ راستہ انہوں نے بہت مطالعہ کرنے کے بعد سوچ سمجھ کراختیار کررکھاتھا۔ دنیا بھر کی مخالفت ان کو اس راہ پر چلنے سے روک نہ سکی۔ روس کے خلاف جہاد افغانستان میں کچھ حصہ لینے والوں پر اعتراض کرنے والوں نے معاشی مفادات سمیٹنے کا الزام بھی لگایا۔ لیکن جنرل حمید گل پر یارلوگ اور مہربان یہ الزام بھی نہ لگاسکے۔ ایسی آلائشوں سے انہوں نے اپنا دامن ہمیشہ بچائے ہی رکھا ۔ ان کی زرعی اراضی جتنی تھی اسی کی محدود آمدنی سے انہوں نے گزر بسر کی اور حرام وحلال کی تفریق کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی ان پر آئی جے آئی بنوانے اور فوج کو سیاست میں دخل اندازی کا الزام تھا۔ یہ بات ان دنوں اتفاق سے مسلم لیگی سابق وزیر مشاہد اللہ خان کے استعفے والے واقعہ سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں ہیں کہ دنیا کی سب سے اعلیٰ انٹیلی جنس سروس آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل اس طرح کے اقدامات خود اپنے طورپر کیسے کرسکتا ہے اور اگر وہ کرتا رہا ہے تو انٹیلی جنس بیورو اور دیگر حساس اداروں کے نوٹس سے کیسے بچ سکتا ہے؟ اتنے بڑے اقدامات صرف فرد واحد کے ہاتھ میں نہیں ہوتے بلکہ یہ حکمرانوں کی اجتماعی پالیسیوں اور ان کی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتے ہیں اس لئے صرف جنرل(ر) حمید گل جیسے ایک فرد کو مورد الزام ٹھہرا نے والے آپ اپنا نام لبرل اور روشن خیال افراد کی فہرست میں تو لکھوا سکتے ہیں ، مگر ایسے الزامات کا حقیقت سے دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔


ایسا ہی ایک واقعہ نجی ٹی وی چینل پرسنسنی خیز انکشافات سے بھرپور، انٹرویو میں بھی دہرایا گیا کہ آپ روس کے خلاف جہاد افغانستان کے لئے نوجوانوں کو تیار کرتے اور ان کو ٹریننگ دیتے رہے ہیں اور اب امریکہ کے خلاف جہاد میں ایسا کیوں نہیں کررہے ؟ اس سوال کا جواب جنرل حمید گل نے اچھا کیا اپنی زندگی میں خود ہی دے دیا اور کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کیا۔ امریکہ کے خلاف اپنے بے لچک مؤقف کی وجہ سے ’’پاکستانی امریکیوں، نے انہیں چیل بھی بھجوایا تھا اور وہ وکلاء کی تحریک میں، سابق ملٹری مین کی ایسوسی ایشن، دفاع پاکستان کونسل کے تحت امریکہ مخالف سرگرمی میں حصہ لیتے رہے۔ اس لئے امریکی حمایت خفیہ یا اعلانیہ کاالزام بھی ان پر غلط ثابت ہوگیا۔ رہی وہ بات کہ روس مخالف جہاد میں نوجوانوں کو تربیت دیتے رہے۔اس وقت ایسا کرنا ان کی ملازمت ، مشن اور مقصد زندگی کا تقاضا تھا۔ ان کی ڈیوٹی تھی جس کو انہوں نے جان ودل سے نہ صرف قبول کیا بلکہ پورے انتظامات بھی کئے۔ جو جس وقت انہوں نے اپنے وطن عزیز اور امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اہم سمجھا انہوں نے کیا۔اسی طرح افغانستان کے تمام مجاہد گروپوں کے بارے میں نہ صرف ان کی وسیع اور گہری معلومات تھیں، بلکہ ان کے ذاتی تعلقات تھے ان کی گروہ بندی میں تمام اتار چڑھاؤ سے بھی وہ بخوبی باخبررہتے تھے۔ اس لئے مجاہدین بھی ان پر اعتماد کرتے تھے۔ جنرل (ر) حمید گل حقیقی معنوں میں پاکستان اور عالم اسلام کے مخلص ، بے لوث اور مستقبل کی خبر رکھنے والے عظیم جرنیل اور سپاہی تھے اور آخری دم تک وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔


واضح رہے کہ ان پر میڈیا میں ’’ان ‘‘ رہنے کا الزام بھی برائے الزام ہے۔ خود میڈیا کو ان کا مؤقف لینے کی ہمیشہ ضرورت رہتی تھی۔ اس سے تصویر کا دوسرا بلکہ اصل رخ بھی ناظرین ، سامعین اور قارئین کو جاننے کا موقع ملتا رہا ۔ باقی جو نوجوان جہاد افغانستان میں حصہ لیتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے خلوص نیت کا اجرعظیم ضرور عطا فرمائے گا۔ ان کو اب اس نیک کام پر بار بار پچھتاوے کا اظہار کرکے اپنا اجرضائع نہیں کرنا چاہے۔ البتہ اگر ایسا کرنے سے کوئی مزید دنیاوی منفعت ان کے پیش نظر ہے تو یہ اور بات ہے ۔ نوشتۂ دیوار تو یہ ہے کہ جنرل حمید گل اپنی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد نقس مطمنہ کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ خود فوج میں ان کے شاگردوں اور قدردانوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ کرنل شجاع خانزادہ بھی ایک دن کے وقفے سے ان کے پاس پہنچ گئے اور جاتے جاتے ان کو خراج تحسین پیش کرگئے ۔خدا ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

مزید :

کالم -