روسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کے باہر ٹریکٹروں کی لائن لگ گئی، درجنوں ٹریکٹر کون اور کیوں لے کرآیا؟ جان کر دنیا کا طاقتور ترین آدمی بھی پریشان ہو گیا

روسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کے باہر ٹریکٹروں کی لائن لگ گئی، درجنوں ٹریکٹر ...
روسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کے باہر ٹریکٹروں کی لائن لگ گئی، درجنوں ٹریکٹر کون اور کیوں لے کرآیا؟ جان کر دنیا کا طاقتور ترین آدمی بھی پریشان ہو گیا

  


ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں کسانوں نے احتجاج کا ایک انوکھا طریقہ اپنا لیا ہے۔ کسانوں نے ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے مطالبات صدر ولادی میر پیوٹن تک پہنچانے سے انکار کرتے ہوئے ٹریکٹر ریلی کا آغاز کر دیا ہے تا کہ ماسکو جا کر صدر سے براہ راست ملاقات کر سکیں ۔ یہ ریلی روس کے کراسنوڈر کے علاقے سے روانہ ہو چکی ہے جو 1300کلومیٹر کا سفر کرکے ماسکو پہنچنے گی۔ اس بار کسان بضد ہیں کہ وہ ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کرکے انہیں براہ راست اپنے مطالبات سے آگاہ کریں گے۔

ٹی وی چینلز پر حملے کے بعد ایم کیوایم کے غنڈوں کا دراصل کیامنصوبہ تھا، رینجرز موقع پر کیوں نہیں پہنچی؟ حٰیران کن انکشاف منظرعام پر

نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق کسانوں کی اس ریلی میں سینکڑوں گاڑیاں بھی شامل ہیں مگر اس قافلے کی قیادت 17ٹریکٹر کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اپنی گاڑیوں اور ٹریکٹروں پر روسی جھنڈے لہرا رکھے ہیں۔ سفر کے ساتھ ساتھ اس ریلی کے شرکاءکی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دیگر علاقوں کے کسان بھی اس میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

’ہم نے مشین خریدنے کا فیصلہ کرلیا، اب جس لڑکی یا لڑکے کو یہ جنسی مسئلہ ہوگا، پکڑ کر جیل میں ڈال دیں گے‘ بڑے ملک کا ایسا اعلان کہ دنیا میں افراتفری مچ گئی

رپورٹ کے مطابق اس قافلے کی قیادت واسیلے میلنیکینوف نامی کسان رہنماءکر رہا ہے۔ واسیلے نے اعلان کر رکھا ہے کہ ”اس بار ہم پیوٹن سے آمنے سامنے بیٹھ کر ہی بات کریں گے تاکہ ہم مردوں کی طرح بات کر سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ آدھا سفر طے کرنے تک مزید 30ٹریکٹر اس قافلے میں شامل ہو جائیں گے۔ “ واضح رہے کہ روسی کسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ جاگیردارانہ نظام ہے جس کے خلاف وہ یہ ریلی نکال رہے ہیں۔ وہاں بعض لوگوں کے پاس 5سے 8لاکھ ہیکٹر رقبہ ہے جبکہ جن کسانوں کے پاس ایک ٹریکٹر ہے انہیں 20سے 30ہیکٹرز پر گزارہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ روس کے کسان آئندہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں ”گرین پارٹی“ کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی