علامہ المشرقی کا فلسفہ انقلاب

علامہ المشرقی کا فلسفہ انقلاب
 علامہ المشرقی کا فلسفہ انقلاب

  

تاریخ کا طالب علم یہ جان کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ ایک شخص جو ہندوستان اور یورپ سمیت دنیا کی نامور یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیمی اعزاز حاصل کر کے متحدہ ہندوستان میں سب سے بڑے سول سروس کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعدسب کچھ ٹھکرا دیتا ہے اور پھر دریائے راوی کے کنارے لاہور سے 26 میل دور پانڈو نامی ایک پسماندہ گاؤں میں 25اگست 1931ء کو چند لوگوں کو ایک صف میں کھڑا کرتا ہے اور بیلچہ کندھے پر رکھ کر اتحادِ امت،خدمتِ خلق اور صف بندی کا درس دیتے ہوئے یہ الفاظ کہتا ہے۔

’’خاکسار تحریک کا پہلا اور آخری مقصد تیرہ سو برس کے بعد پھرخدا اور اسلام کا سپاہی بننا ہے۔بڑے اور چھوٹے مسلمان کو پھر ایک قطار میں کھڑا کر کے سپاہی بنانا ہے۔خدمت، عاجزی، مساوات، مزدوری اور محنت کا ہتھیار دے کر سپاہی بنانا ہے۔پھر روئے زمین پر غالب ہونا اور پھر حکمران بننا ہے۔یہ ہمارا مذہب ہے، یہ ہمارا اسلام ہے، یہ ہمارا عقیدہ ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے۔ہم اگر اس عقیدے پر نہ رہیں تو مسلمان نہیں رہ سکتے‘‘۔

اس شخص کا نام محمد عنایت اللہ خان تھا جو غلام ہندوستان کے شہر امرتسر میں 25اگست 1888ء کو پیدا ہوا۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یورپ کی یونیورسٹیوں سے رینگلر اسکالر، بیچلر سکالر اور ٹرائی پوز حاصل کر کے 1924ء میں شہرۂ آفاق کتاب’’ تذکرہ‘‘ لکھ کر قوموں کے عروج و زوال پر ایک طویل عربی دیباچہ تحریر کیا جو مسلمان خصوصاً عرب حکمرانوں تک پہنچا اور انہیں قرونِ اولیٰ کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔یہ وہ دور تھا جب مسلم دنیا سے سلطنتِ عثمانیہ کاسورج غروب ہو رہا تھا اور ترک قوم غازی مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی۔

جزیرہ نما عرب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر عرب ریاستوں میں تبدیل ہونے کے مراحل سے گزر رہا تھا۔اس دردناک صورتِ حال پر غوروخوض کرنے کے لئے مصر کے شہر قاہرہ کی جامع الازہر میں موتمر عالمِ اسلامی کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔جس میں عالمِ اسلام کے بڑے بڑے رہنماء شاہ سعود، شاہ حسن اول، غازی مصطفی کمال پاشا، مفتی اعظم فلسطین اور امیرِ طرابلس الشیخ احمد سنوسی سمیت امتِ مسلمہ کے جیّد دانشور موجود تھے۔موتمر عالمِ اسلامی کے اس اجلاس میں متحدہ ہندوستان سے علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔جہاں انہوں نے عالمِ اسلام کی زوال پذیر صورتِ حال پر اور اس کے اسباب پر خطاب کیا۔جو بعد میں خطابِ مصر کے نام سے مشہور ہوا۔انہوں نے فرمایا کہ قوموں کے زوال کا سچا باعث، قرآن پر عمل نہ کرنا ہے اور یہی ان کے زوال کی علامت ہے۔

موتمرکے اجلاس سے علامہ المشرقی کے خطاب کے بعد امیرِ طرابلس الشیخ احمد سنوسی نے علامہ المشرقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے عالمِ اسلام کے زوال پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اگر اسی طرح زبوں حالی کا شکار اُمتِ مسلمہ کی اصلاح کے لئے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو قیامت کے دن میرا ہاتھ اور آپ کا دامن ہو گا۔موتمرعالمِ اسلامی کے اجلاس میں ہی آپ کو مشرق کا علامہ( علامہ المشرقی) کا خطاب دیا گیا۔بعض مورخین کا خیال ہے کہ امیرِطرابلس الشیخ احمد سنوسی کے الفاظ نے علامہ المشرقی کو خاکسار تحریک کے قیام پر مجبور کیا۔

اتحادِامت، خدمتِ خلق، قطار بندی اور اصلاحِ نفس، خاکسار تحریک کے بنیادی اصول تھے،جبکہ بیلچہ مزدور ہونے کی علامت تھی۔فروری 1940ء تک خاکسار تحریک کے کارکنوں کی تعدد 20لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی جو کہ کراچی سے خیبر تک اور راس کماری سے برما تک پھیلے ہوئے تھے۔خاکی لباس اور نشانِ اخوّت (بھائی چارہ) ہر کارکن کے لئے لازم تھا۔ملّتِ اسلامیہ کا یہ فرزندِ جلیل اپنی پیوند لگی خاکی قمیض اور پاجامے میں ملبوس متحدہ ہندوستان کے شہر در شہر منتشر اور بکھری ہوئی قوم کو اتحادِ امت، اخوت و خدمتِ خلق کا صدیوں پرانا بھولا ہوا درس دہرانے کے لئے در بدر پھرتا رہا۔

علامہ المشرقی غلامی کو دنیاوی جہنم سمجھتے تھے۔وہ قرآنِ حکیم کی تعلیمات اور قرونِ اولیٰ کے نبوی اسلام پر کاربند ہو کر انقلاب برپا کرنے اٹھے تھے،وہ سمجھتے تھے کہ کمزوری، غلامی اور ذلت کو دعوت دیتی ہے۔انہوں نے امتِ مسلمہ کو یاد دلایا کہ اسلام کی عسکری زندگی پھر سے اختیار کر کے سپاہیانا قواعد، اطاعتِ امیر، صف بندی،بے لوث خدمت ہی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا راز ہے۔لہذا ہر صاحبِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ کاہل اور سست ہونے کی بجائے عمل کرنے والا بنے۔

علامہ المشرقی قوم کے اندر طاقت، غلبہ، باہمی رواداری پیدا کرنے کی انتھک جدوجہد کرنے میں مصروف تھے۔دوسری طرف کانگرس اور اس کی حلیف ہندو جماعتیں جن میں بعض مسلمان سرکار پرستوں اور ٹوڈیوں نے باہمی گٹھ جوڑ کر کے تاجِ برطانیہ اور انگریز وائسرائے ہند سے ملاقات کر کے کہا کہ علامہ المشرقی اور اس کے خاکسار پانی پت کی چوتھی جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے انگریز حکومت کی تباہی یقینی ہے، لہٰذا جس قدر جلد ہو خاکسار تحریک پر پابندی لگا دی جائے۔اوائل 1940ء میں جبکہ مسلمانانِ ہند کی یہ عظیم تحریک اپنے پورے عروج پر تھی انگریز حکومت نے خاکسار تحریک کو کالعدم قرار دے کر اس کے اتحادِ اُمت، نظم و ضبط، اخوت و خدمتِ خلق کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔لاہور، یوپی، مدراس، جونا گڑھ، لکھنو میں لشکر کشی کر کے سینکڑوں خاکساروں کو شہید کر دیا۔علامہ المشرقی جو کہ اس وقت شمالی ہندوستان کے دورے پر تھے انہیں گرفتار کر کے ویلور کے قلعہ میں نظر بند کر دیا گیا۔علامہ المشرقی کی طویل نظربندی سے رہائی کے بعد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔دُنیا کے نقشہ پر سب سے بڑی اسلامی مملکت کے یقینی وجود کے بعد حضرت علامہ لٹے پٹے قافلوں کو، جو حسرت بے یارومددگار اور بے بسی کی تصویر بنے تھے ،دیکھ کر لرز اُٹھے اور پاکستان کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے حکمرانوں کو بھارتی سازشوں سے آگاہ کرتے رہے۔

1950ء میں منٹو پارک لاہور میں جلسہ سے خطاب کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت دو ارب روپے کی لاگت سے دریاؤں کے رخ موڑ کر ان پر ڈیم تعمیر کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ لہٰذا جس قدر جلد ہو کشمیر کو ہر حالت میں حاصل کر لیا جائے۔اگر ایسا نہ کیا تو خدشہ ہے کہ بھارت دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر کر دے گا اور جب چاہے گا پانی چھوڑ کر ہماری لہلہاتی فصلوں کو تباہ و برباد کر دے گا ۔مگر افسوس کہ اس خطرے کی جانب توجہ دینے کی بجائے وقت کے حکمرانوں نے علامہ المشرقی کو گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے ڈیڑھ سال کے لئے میانوالی جیل میں نظربند کر دیا۔

1956ء میں مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے خطرناک حالات سے آگاہ کرتے ہوئے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ دونوں طرف سے دس دس لاکھ انسانوں کو وطنِ عزیز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں بسا دیا جائے تاکہ ہمارا کلچر رہن سہن ایک جیسا ہو جائے۔ہم سب مظبوط رشتہ داریوں کے بندھن میں بندھ جائیں۔اگر ایسا نہ کیا تو میرا حسابی اندازہ ہے 1970ء کے بعد مشرقی پاکستان مغربی حصہ سے الگ ہو جائے گا جو کہ ہماری تاریخ کا نہایت بدقسمت دن ہوگا۔ایک اُجڑی ہوئی کھیتی کو سر سبز و شاداب کھیتی میں تبدیل کرنے کا خواہشمند اور ایک بکھری ہوئی قوم کو اتحادِ ملت ،اخوت و بھائی چارہ ،خدمت اور قطار بندی کے عملی پروگرام کو سینے میں لے کر ملتِ اسلامیہ کا یہ بطلِ جلیل 27اگست 1963ء کو اس دارِفانی سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔اسلام کے ہردردِدل رکھنے والے شیدائی کو اس عظیم تحریک کے بانی حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقی اور اس کی خاکسار تحریک کا حسرتناک انجام خون کے آنسو رُلانے کے لیے کافی ہے۔

میری حکمت چل کے رہے گی ہر گوشۂ دُنیا میں

مگر رک رک کے سمجھے گابشر آخر پناہ یہ ہے

مزید :

کالم -