بہاول خاں ناگرہ کی یاد میں

بہاول خاں ناگرہ کی یاد میں

جب قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مومنانہ قیادت میں پاکستان وجود میں آیا، بھارت نے پاکستان کے اثاثہ جات روک لئے اور پہلے ماہ کی تنخواہوں کے لئے نواب آف بہاولپور، نظام آف حیدر آباد اور مہاراجہ محمود آباد نے رقوم ادا کیں، صورتِ حال یہ تھی کہ فائلوں میں کاغذات کو پن کرنے کے لئے کامن پن بھی خریدے نہ جا سکے، مَیں نے خود مرکزی سیکرٹریٹ میں گورنر جنرل کے دفتر میں ببول کے کانٹے فائلوں میں لگے ہوئے دیکھے ہیں، لیکن ایسے کڑے حالات کے باوجود جذبے زندہ تھے اور معاشرے میں اچھی خاصی تعداد ایسے ایثار منش لوگوں کی تھی،جنہوں نے ایک وقت کا کھانا شروع کیااور ایک وقت کھانا، وہ بھارت سے لُٹے پُٹے آئے مہاجروں کو دیتے۔ میرے کلاس فیلو اور قریبی دوست ہمایوں اختر کے والد گرامی جی او آر میں سولہ کنال کی کوٹھی میں رہائش پذیر تھے وہ چیف کنزرویٹو آف فارسٹ تھے۔ پیر محل کے رہنے والے تھے اُن کے پورے خاندان نے ایک وقت کا کھانا مہاجروں کو بھجوانا شروع کر دیا، لیکن جلد ہی ان مشکلات پر قابو پا لیا گیا اور انار کلی میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن ڈاکٹر عبدالرؤف بطور ڈی پی آئی اور مِس کے قریشی ڈائرکٹریس وومن ونگ تعینات ہوئیں۔ بہاول خاں ناگرہ کو بوائز ہائی سکولوں کے لئے پنجاب بھر کے لئے انسپکٹر آف سکولز مقرر کیاگیا۔ وہ نہایت ہی جفا کش، ایماندار اور ایثار پیشہ انسان تھے۔ بسوں پر سفر کرتے، کبھی ٹی اے ڈی اے میں بے ایمانی نہیں کی، کسی سکول کے ہیڈ ماسٹر سے کھانا نہیں کھایا۔ہر مقام پر کھانا خرید کر کھایا۔

ساہیوال کے علاقوں میں جو اُس وقت منٹگمری کہلاتا تھاایک سکول کا معائنہ فرما رہے تھے تو ایک طالب علم نےGIRL کو گرل کی بجائے گِرل کہا تو ناگرہ صاحب نے ہیڈ ماسٹر سے کہا کہ تم نے یہ کچھ طالب علموں کو پڑھایا ہے؟ ہیڈ ماسٹر بھی حاضر جواب تھا۔ اُس نے کہا جناب اتنی تنخواہ میںGIRL گرِل ہی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ وہ سائنس کے طالب علموں کو لیبارٹری میں جا کر تجربات کرواتے تھے اور اِس بات کا بھی خاص خیال رکھتے کہ سامانِ سائنس جو خریدا گیا وہ ناقص تو نہیں ہے۔

جہاں تک خواتین کا تعلق ہے مِس کے قریشی جو ہمارے اُستاد ماسٹر اشفاق حسین کی کزن لگتی تھیں، غیر شادی شدہ تھیں اور مزاج کی بہت سخت اور بے رحم۔ جناب ایم حمزہ کی اہلیہ کی دو بہنیں تھیں۔ اُن کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئیں وہ پاگل ہو گئیں اور انہوں نے رٹ لگانی شروع کی ہم واپس لدھیانہ جانا چاہتی ہیں۔ مینٹل ہسپتال میں بیسیوں سال رہیں۔ وہاں انہوں نے بلیاں پال رکھی تھیں۔ یاد رہے کہ جب ہم لال کوارٹروں کے سامنے 91نمبر کوٹھی میں رہائش پذیر تھے تو ہم نے اپنے گھر میں ایک ادبی مجلس قائم کر رکھی تھی۔ اُس میں میری اہلیہ نے جو افسانہ پڑھ کر سُنایا تھا۔ اُس کا عنوان ’’سہانے خواب‘‘ تھا اور اُس کا مرکزی پلاٹ یہی تھا کہ ایک عورت یہاں پر دھّکے کھا کھا کر تنگ آ چکی تھی اور وہ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ مَیں بھول کر غلط جگہ پر آ گئی ہوں۔ یہ وہ پاکستان تو نہیں ہے جس کے خواب ہم نے دیکھے تھے اور اپنے عزیز و اقارب کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا تھا۔ بہاول خاں ناگرہ جب ریٹائر ہوئے انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی اور غالباً مجلسِ شوریٰ کے ایک اہم رکن کے طور پر وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

مزید : کالم