مشترکہ دکھ

مشترکہ دکھ
 مشترکہ دکھ

  


الطاف حسین نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پتھر ایم کیو ایم کے سر میں دے مارا ہے اور اب ڈاکٹر فاروق ستار سر پر پٹی باندھے ہوئے الطاف حسین کے اس عمل کی مذمت کر رہے ہیں اور لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ اور الطاف حسین پاکستان سے مخلص ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ صحت کا انسان کی پرفارمنس پر اثر ضرور پڑتا ہے اور خراب صحت کا تو بالکل یقینی ہوتا ہے!

الطاف حسین کی تقریر سے ایک بات واضح ہو گئی کہ ان کی لڑائی وفاقی یا صوبائی حکومت سے نہیں بلکہ ان کا گلہ براہ راست فوج سے ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایسا ہی گلہ جناب آصف زرداری نے بھی کیا تھا جب انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی اور پھر اپنا سر بچا کر دبئی روانہ ہو گئے تھے اُس وقت سے دبئی سے آگے تو بہت بار گئے، واپس نہیں آئے۔دوسرے معنوں میں سندھ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو فوج سے پرابلم ہے جبکہ فوج کراچی کے حالات سدھارنے کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے کیونکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بڑے واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پیپلز پارٹی اس بات پر سیخ پا تھی کہ رینجرز ان بااثر افراد کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے جو کراچی میں ناجائز قبضوں میں ملوث ہیں جبکہ الطاف حسین اس لئے اول فول بک رہے ہیں ’’را ‘‘سے تعلقات کے شبے میں ان کے افراد کو کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاک فوج کراچی میں معاشی دہشت گردی کی اجازت دے رہی ہے نہ انسانی دہشت گردی کی اور اپنے ہدف کے حصول میں کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا فوج کراچی کو امن کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہوگی؟۔۔۔کیا کراچی میں قانون کا راج ہوگااور کیا کراچی پاکستان کا پہلا تعارف رہے گا؟؟

چونکہ کراچی سیاسی جماعتوں اور کاروباری حضرات کے مفادات کا مرکز ہے اس لئے کراچی کرائمز کا گڑھ بن چکا ہے ، دنیا کے ہر معاشی مرکز میں مفادات کی ایک ایسی ہی خاموش جنگ ہورہی ہوتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں قومیتوں کی بنیاد پر تقسیم گہری ہو چکی ہے اور وہاں مہاجر قوم ایک طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے جبکہ سندھی کسی گم شدہ گائے کی طرح کراچی کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ ان میں اور مہاجروں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی پنجاب کو پاکستان کے وسائل پر قابض سمجھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ان کا پرابلم یہ بھی ہے کہ فوج کی اکثریت پنجاب سے ہے اور اس ایک تعصب کو کئی بیرونی اور اندرونی طاقتیں کراچی میں خوب استعمال کر رہی ہیں!

سندھ سے ایسی آوازیں اس لئے آرہی ہیں کہ سندھ اپنے آپ کو محروم سمجھتا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے مہاجر تو اپنے آپ کو مرحوم سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان دو سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی شکائت اسٹیبلشمنٹ سے ہے جس نے کسی دور میں انہیں پالا پوسا تھا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی پر جنرل پرویز مشرف اور جنرل کیانی کے ادوار میں اس طرح فوکس نہیں کیا گیا تھا جس طرح جنرل راحیل شریف کے دور میں کیا گیا ہے ، اس وقت جنرل مشرف کا فوکس کوئٹہ تھا تو بعد میں جنرل کیانی کا فوکس شمالی وزیرستان اور دیگر ایسے علاقے رہے۔ ان دو جرنیلوں کی جانب سے کراچی کی جانب رخ نہ کرنے کی ایک اور وجہ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے کا شروع نہ ہونا تھا۔ اس ایک منصوبے نے فوج کی ترجیح کو تبدیل کردیا ہے اور اب کراچی فوج کے راڈار پر نمایاں جگہ پائے ہوئے ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فوج سندھ کارڈ کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی ہے اور بغیر کسی استثناء کے اپنا کام کر رہی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جنرل راحیل شریف اس لئے مدت ملازمت میں توسیع پر آمادہ ہو جائیں کہ وہ کراچی میں امن کے ایجنڈے کی تکمیل کئے بغیر گھر نہ جانا چاہیں۔

کہا جاسکتا ہے کہ کراچی میں رینجرز کی موجودگی جناب زرداری اور جناب الطاف حسین کا مشترکہ دکھ بن چکا ہے اور دونوں ہی اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ وہ معاملات کو اس انداز میں آگے نہیں بڑھا سکیں گے جو انداز انہوں نے اب سے پہلے اپنایا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر انہوں نے اپنا انداز ترک نہ کیا تو آپریشن کے نتیجے میں وہ خلا پیدا ہوسکتاہے جسے کوئی اور سیاسی جماعت آسانی سے پر کرسکتی ہے۔ اکیسویں صدی کے ووٹر اب سادہ لوح نہیں رہے ہیں!

مزید : کالم