حافظ محمد صابر: نیو یارک کی زندہ شخصیت(1)

حافظ محمد صابر: نیو یارک کی زندہ شخصیت(1)
حافظ محمد صابر: نیو یارک کی زندہ شخصیت(1)

  


ہم پر اکثر مردہ پرستی کی تہمت لگتی ہے اور شاید یہ اتنی غلط بھی نہیں ہے۔ جب تک کوئی انسان جیتا جاگتا ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے ہمیں اُس کی خوبیاں نظر نہیں آتیں، اُس کے مرتے ہی اُس کی تمام خوبیاں ہم پر اظہر من الشمس ہو جاتی ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ زندگی تمام خوبیوں کی دشمن ہے خوبیوں کا اظہار اور اقرار موت پر منحصر ہے۔ مَیں آج اس روائت کو توڑتے ہوئے ایک زندہ انسان کا تعارف کرانے جا رہا ہوں۔

مَیں جب امریکہ میں وارد ہوا تھا تو اکثر پاکستانیوں کی طرح پاکستانیوں کے معروف گڑھ بروکلین میں پہلا قیام کیا تھا۔ آج جس کونی آئی لینڈ ایونیو کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پاکستانی ہی پاکستانی دکھائی دیتے ہیں اور رونقِ بازار دن ہویا رات، کم ہونے میں نہیں آتی۔ نصف صدی قبل ایسا نہیں تھا۔ اُس وقت کونی آئی لینڈ کسی صحرا کا منظر پیش کرتا تھا۔ سڑک پر اُڑتے ہوئے ردی اخبار،پیکنگ کے کاغذات اور ڈبے شاپر وغیرہ ایسے اُڑتے دکھائی دیتے تھے جیسے کسی صحرا میں غول بیابانی رقص کررہے ہوں، کونی آئی لینڈ پر کچھ آٹو ورکشاپس تھیں یا قدیم نوادرات کی تنگ و تاریک دکانیں تھیں۔ ایک چھوٹا سا گراسری سٹور تھا، جس پر جناح گروسری سٹور کا بورڈ لگایا گیا تھا، پھر اس ایونیو پر مکی مسجد تھی، جو اپنی نک سک سے تو مسجد نہیں لگتی تھی، لیکن یہاں پانچوں وقت با جماعت نماز ہوتی تھی اور یہ ایک طرح سے کونی آئی لینڈ پر رہنے والے پاکستانیوں کا مرکزتھا۔ اب مکی مسجد کونی آئی لینڈ کا ایک خوبصورت’’ لینڈ مارک‘‘ ہے۔

مکی مسجد کا تعارف کرانے والے اسے کشمیریوں کی مسجد، بلکہ بعض اوقات میرپوریوں کی مسجد کہا کرتے تھے۔ مسجد کے کرتادھرتاایک میرپوری کشمیری حافظ محمد صابر تھے۔ وہ اِس مسجد کمیٹی کے چیئرمین تھے، خود ہی بعض اوقات امامت بھی کرادیتے تھے۔ وہی مسجد کے خادم بھی تھے، حافظ محمد صابر سے پہلا تعارف اِسی مکی مسجد کے حوالے سے ہواتھا۔ جوں جوں مَیں نے پاکستانی کمیونٹی میں آنا جانا شروع کیا، حافظ محمد صابر مجھے ہر جگہ دکھائی دینے لگے۔ پاکستان ڈے پریڈ کے معاملات میں آگے آگے ،پاکستانی میلہ بروک لین میں نمایاں، قریبی پولیس تھانے سے لے کر پولیس کمشنر تک اُن کی رسائی اور کانگریس مینوں سے اُن کے تعلقات ، سینیٹرز سے اُن کی راہ و رسم اور ان سب سے پاکستانی کمیونٹی کے لوگ فیض یاب ہوتے تھے۔ کہیں کوئی تنازعہ کھڑا ہوتا تو حافظ محمد صابر ثالث ہوئے، کسی کو پولیس پکڑ لے جاتی، تو حافظ محمد صابر اُسے چھڑا لاتے۔ عیدین کے موقع پر مکی مسجد کے باہر سٹرک پر بھی صفیں بن جاتیں، ٹریفک کو متبادل راستے پر ڈال دیا جاتا اور نیو یارک پولیس نماز کی ادائیگی تک یہاں چوکس موجود رہتی۔ پاکستان کے نام پر کوئی تقریب ہوتی تو حافظ محمد صابر نمایاں نظر آتے۔ کشمیر کے سلسلے میں کوئی احتجاج ہوتا تو حافظ محمد صابر اِس کے منتظمین میں شامل ہوتے۔

مَیں خود کشمیریوں کے مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا اور ان کی رپورٹنگ بھی کرتا تھا، پہلی پاکستان ڈے پریڈ کی روداد تصاویر کے ساتھ میں نے براہِ راست جناب مجید نظامی کو بھجوائی،جو انہوں نے کمال مہربانی سے فیملی میگزین میں بہت نمایاں طور پر شائع کی۔ میری اِس دلچسپی کو دیکھتے ہوئے حافظ محمد صابر نے مجھے کئی بار کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی نیتاؤں کی آمد پر ان کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پہنچانے کی سہولت بھی فراہم کی ۔ کشمیر سینٹر سے مجھے محمد طاہر تبسم نے متعارف کرایا۔ شاہین بٹ کا کشمیر ریسٹورنٹ اور کشمیر سینٹر ایک دوسرے میں ایسے باہم پیوست تھے کہ پتا نہیں چلتا تھا کہ ریسٹورنٹ کی حد ود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور سینٹر کہاں سے کہاں تک ہے۔ شاہین بٹ نے بعدمیں یہاں جناح ہال تعمیر کیا، جس کا افتتاح وزیراعظم محمد نواز شریف نے کیا تھا۔ حافظ محمد صابر کشمیر سینٹر میں بھی موجود پائے گئے۔ کشمیر میں گورنر راج کے دوران جگوُ قصائی کو بہت شہرت ملی۔ کسی بھارتی تنظیم کی دعوت پر اُسے امریکہ بُلایا گیا۔ اہلِ کشمیر نے جہاں جہاں وہ گیا اُس کا پیچھا کیا، مَیں بھی ان مظاہرین میں شامل ہوتا تھا اور ایسے میں حافظ محمد صابر سے ملاقات لازمی ہوتی۔ واشنگٹن میں جگوُ قصائی کے خلاف مظاہرے کا پروگرام بنا تو حافظ صاحب نے مجھے ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ نتھی کردیا، جومجھے اپنی کشادہ آرام دہ بلیک کار میں نیویارک سے واشنگٹن لے بھی گیا اور لے کر بھی آیا۔ یہ ڈرائیور بھی بھلا نوجوان تھا، اس سے بہت عرصے تک بہت اچھے تعلقات رہے، بعد میں وہ مستقل طور پر کینیڈا چلا گیا اور رابطے رفتہ رفتہ ختم ہو کر رہ گئے۔

مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان واشنگٹن تشریف لائے تو جناب حافظ صابر نے اُن سے میرے لئے انٹرویو کا ٹائم لے لیا۔ مجھے اپنے ساتھ لے کر واشنگٹن گئے، مجاہد اول ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے، مَیں اور حافظ صاحب وقت مقررہ پر حاضر ہوئے تو مجھے اندازہ ہوا کہ حافظ محمد صابر کے مجاہد اول سے کس نوعیت کے تعلقات ہیں۔ مجاہد اول سادہ طبیعت، سادہ شخصیت اور محبت و مروت کا مرقع تھے۔مَیں نے اپنے گزشتہ دورۂ پاکستان کے دوران حافظ محمد صابر سے درخواست کی تھی کہ مَیں مجاہد اول کا ایک طویل اور تفصیلی وڈیو انٹرویو کرنا چاہتا ہوں حافظ صاحب کو یہ بات پسند آئی،لیکن حافظ صاحب بیمار ہوگئے اور انہی دنوں مجاہد اول کو بھی ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ، پھرقضا مجھ سے یہ موقع چھین لے گئی۔

ہم واشنگٹن کے ہوٹل میں مجاہد اول کے کمرے میں پہنچے تو وہاں بہت ہی معروف بہت ہی سینئر اور انگریزی کے صحافی خالد حسن صاحب موجود تھے۔ انگریزی کے صحافی خود کو ذرا اعلیٰ سی مخلوق سمجھتے ہیں، اور جب ان کا سامنا ہم اُردو لکھنے پڑھنے والوں سے ہو تو ان کی رعونت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ مَیں اُردو کا صحافی اور نیو یارک کے ایک نوخیز مقامی اخبار’’ اُردو ٹائمز‘‘ سے تعلق، جس کے لئے مَیں انٹرویو کرنے آیا تھا، خالد حسن مرحوم نے مجھے انہی نظروں سے تولا جن کا مَیں مستحق تھا۔

ایک زمانے میں مَیں الطاف حسن قریشی کے انداز کے انٹرویوز سے بہت متاثر تھا، جس میں سوالات کی نشست و برخاست کے ساتھ ساتھ ماحول کی عکاسی،بلکہ جزئیات نگاری مجھے بے حد پسند تھی۔ مَیں انٹرویو میں شخصیت پر اپنے سوالات سے حملہ آور نہیں ہوتا اُسے بات چیت کرنے اور کھل کر بولنے پر آمادہ کر لیتا ہوں۔ مجاہد اول سے بات چیت شروع ہوئی، ساتھ ساتھ مَیں نوٹس لینے لگا۔ انٹرویو ٹیپ ریکارڈ بھی ہو رہا تھا۔ سلسلۂ گفتگو آگے بڑھا تو میرے بعض سوالات پر جناب خالد حسن چونک اُٹھے اور انٹرویو کے اختتام پر مَیں نے محسوس کیا کہ اُردو صحافیوں کے لئے اُن کے چہرے پر جو کرختگی تھی وہ زائل ہو چکی تھی۔(جاری ہے)

حافظ محمد صابر صاحب حکومت آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے پولیٹیکل کو آری نیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ کوئی تقریب ہوتی تو حافظ صاحب کی ذات سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا جاتا۔ تقریب کے آغاز کے لئے تلاوتِ قرآن تقریب کے موضوع کے حوالے سے کیا کرتے یا پھر اختتامی دُعا میں بھی موضوع شامل کرلیتے تھے۔ بعض اوقات یہ تینوں امور یک جا ہو جاتے تھے۔اُنہیں تین بار سٹیج پر بلایا جاتا اور وہ ہر بار سٹیج پر جا کر اپنی ڈیوٹی بجا لاتے۔ تقریبات کے زیادہ منجھے ہوئے منتظمین اُنہیں سٹیج پر ہی جگہ دے دیتے تھے۔ کبھی کبھی تلاوت، تقریر اور دُعا کے ساتھ ساتھ مہمان خصوصی یا پھر صدارت کا اعزاز بھی انہی کو ملتا تھا۔ حافظ محمد صابر پاکستانی کمیونٹی کا ’’امرت دھارا‘‘ تھے۔

ایک بار مجھے رہائش کا مسئلہ درپیش ہوا، تو حافظ صاحب مدد کو آئے انہوں نے میرا بوریا بستر اُٹھایا اور گاڑی میں بٹھا کر ایک جگہ لے گئے۔ یہ گجرات کے ایک معروف سیاسی خانوادے کے چشم و چراغ میاں تسنیم پگانوالہ کا ڈیرہ تھا۔ ایک دور تھا کہ گجرات میں اس خاندان کا طوطی بولتا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ انہی میاں تسنیم پگانوالہ کے ایک بھتیجے لانگ آئی لینڈ سٹی میں میری رہائش گاہ پر آئے تھے۔پگانوالہ خاندان پیپلزپارٹی سے وابستہ تھا۔ میری اُن سے دھواں دھار بحث ہوئی۔نوجوان کو سیاست کی سوجھ بوجھ بھی تھی اور بحث میں حد سے تجاوز کرنے والا بھی نہیں تھا وہ پیپلزپارٹی کے حق میں دلائل دیتا، مَیں مسلم لیگ کی حمایت میں دلائل دیتا۔ آخر میں نوجوان نے اِس بات پر بحث ختم کر دی۔’’قریشی صاحب مسلم لیگ بہت بہتر ہے، پیپلزپارٹی کی نسبت، لیکن ہم کیا کریں جب تک چودھری مسلم لیگ میں ہیں ہم مسلم لیگ میں شامل نہیں ہو سکتے‘‘۔ پاکستانی سیاست میں قبیلوں اور خاندانوں کی وجہ سے کیسے کیسے مسائل جنم لیتے ہیں اور کیسے کیسے اچھے سیاست دان محض اپنے قبیلے اور خاندان کی ضد میں غیر پسندیدہ ماحول کی گھٹن میں سانس لینے پر مجبور رہتے ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ تسنیم پگانوالہ نے میری دوستی اور ساتھ کی وجہ سے میاں محمد نواز شریف کی نیو یارک آمد کے موقع پر برسر اجلاس مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا، جبکہ گجرات میں چودھری بدستور مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ اللہ تعالیٰ تسنیم پگانوالہ کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔کیا اچھے انسان تھے۔جو تواضع اور خدمت مَیں نے اس اعلیٰ سیاسی خاندان کے فرزند میں دیکھی اب تک کہیں اور نظر نہیں آئی۔

حافظ محمد صابر اور تسنیم پگانوالہ میں ایک خوبی مَیں نے مشترک دیکھی۔ دونوں حد سے زیادہ مہمان نواز، مہمان کو کھلائے پلائے بغیر جانے نہ دینے والے۔ مَیں نے دونوں کو بچشم خود دیکھا کہ مہمانوں کو کھلانے پلانے کے لئے اُدھار لے کر بھی مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔ کونی آئی لینڈ کا کون سا دکاندا ہو گا جو حافظ محمد صابر اور تسنیم پگانوالہ کو اُدھار دینے سے انکار کر سکے۔ دکاندار تو اسے اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے۔

مکی مسجد کے لئے حافظ محمد صابر کی اَن گنت خدمات ہیں۔ انہوں نے خود جتنا کچھ مسجد کے لئے چندہ دیا اورفنڈز جمع کر کے دیئے وہ ایک ریکارڈ ہے، جس سے انہوں نے فنڈز لینا ہوتے اُس سے کہتے مَیں نے تمہارے فلاں فلاں کام کروائے تھے، کروائے ناں۔ وہ کہتا جی ہاں۔ حافظ صاحب کہتے اچھا تو پھر مکی مسجد کے لئے اتنے چندے کا چیک لکھ دو اور دینے والے کے لئے انکار کا یارا نہ رہتا۔

مکّی مسجد کے لئے وہ ایسے ایسے تلوں سے تیل نکال لاتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنا بخار بھی کسی کو نہیں دیتے۔مکی مسجد کے بعد اُن کا دوسرا مشن، بلکہ عشق، کشمیر تھا۔ کشمیر سینٹر کے علاوہ وہ ڈاکٹر غلام بنی فائی کی کشمیر کونسل کے بھی عہدیدار رہے عہدیداری تو محض ایک بہانہ ہے۔ وہ مکی مسجد اور کشمیر کے لئے ہر وقت، ہر لمحے، ہمہ وقت دامے درمے، قدمے، سخنے حاضر رہتے تھے۔ڈاکٹر غلام نبی فائی پر آئی ایس آئی سے فنڈز لینے کا کیس بنا تو اُس میں حافظ صاحب سے بھی پوچھ پڑتال ہوئی، حافظ صاحب کی فنڈ ریزنگ کی کمال مہارت سے امریکی کانگریس مینوں اور سینیٹرز نے بھی استفادہ کیا۔ میلے اور پریڈوں پر جب مالی طور پر مشکل وقت آیا تو انہوں نے بھی حافظ محمد صابر کی مہارت سے فائدہ اٹھایا۔ کشمیری امریکن کونسل کے لئے بھی اُن کی یہی خدمات موجبِ پوچھ پٹرتال ٹھہریں، لیکن اُن پر کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا۔

چک شومر جو اس وقت نیو یارک سے سینیٹر ہیں۔1999ء میں پہلی بار ذی امالو کی خالی ہونے والی نشست پر سینیٹ کے امیدوار تھے۔ ایک دن مجھے حافظ صابر صاحب نے طلب کیا۔ مَیں کونی آئی لینڈ پہنچا تو ایک پاکستانی بزنس مین کے دفتر میں کچھ پاکستانی زعماء اور بزنس مین جمع تھے۔ چک شومر پاکستانی کمیونٹی کے ووٹوں کے طلب گار تھے اور حافظ صاحب چک شومر کو پاکستانیوں سے متعارف کرا رہے تھے۔ چک شومر نے میرے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ کونی آئی لینڈ ایونیو تجارتی لحاظ سے ایک مردہ جگہ تھی، پاکستانیوں نے اسے زندہ کر کے دوبارہ پُررونق اور تجارتی مرکز بنا دیا ہے۔ اگر پاکستانی کونی آئی لینڈ کو ’’لٹل پاکستان‘‘ کہتے ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے حافظ محمد صابر خوش لباس بھی ہیں، خوش مزاج بھی اور خوش خوراک بھی۔ وہ زاہد خشک بھی نہیں ہیں۔، وہ بروک لین کو چھوڑ کر اپنے بچوں کے پاس آرکنساس چلے گئے۔ اُن کی گو ناگوں مصروفیات نے کثرتِ ملاقات کو حسرتِ ملاقات میں تبدیل کر دیا۔ نیو یارک سے چلے جانے کے باعث یہ حسرتِ ملاقات کچھ زیادہ سنگین ہو گئی۔ رابطہ قائم رہا ہم ایک دوسرے کو کبھی نہ کبھی ڈھونڈھ نکالتے، رابطہ نہ رکھنے پر وہ معذرت کرتے اور کمال محبت سے اُسے اپنی کوتاہی قرار دیتے۔

کبھی کبھی مجھے ایک خیال بہت پریشان کرتا، آخر حافظ صاحب ہیں کون؟ میرے نزدیک وہ اقبال کے اِس شعر کی ہوبہو تصویر تھے:

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

احباب کی محفل ہو تو میرے جیسے کم مایہ کی سخت سست سُن کر ذرا بدمزہ نہ ہوتے۔تسنیم پگانوالہ اُنہیں مُرشد کہہ کر بلاتے تھے، لیکن نجی محفلوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے ۔ حافظ صاحب ترکی بہ ترکی جوب دیتے، لیکن کبھی پیشانی پر بَل نہ لاتے۔ حافظ صاحب میرے لئے ایک معمہ تھے۔ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ انہوں نے اِسی نیو یاک کی سڑکوں پر ٹیکسی چلائی، ٹرک اور ٹرالرز چلائے، ٹرکنگ کمپنی میں ڈسپیچر رہے۔ بچوں کو بھی انہی کاموں میں لگایا اور انہیں محنت کرنے کا سبق دیا۔ وہ حافظ تھے، عالمِ دین تھے۔ مکی مسجد اُن کی دسترس میں تھی، لیکن انہوں نے دین کو ذریعۂ روزگار نہیں بنایا۔ اُن کی شخصیت میں ایک ٹھنڈی پھوار کا احساس تھا تو دوسری طرف اگر کسی پر جلال میں آجاتے تو وہ آش و آہن برساتے کہ اللہ کی پناہ۔ اکثر وہ مجھے بابا اشفاق کے بابوں میں سے ایک بابے لگتے تھے۔ دینی امور میں وہ غلو نہیں کرتے تھے۔ بس فرض نماز روزہ، ماتھے کو گھس گھس کر محراب بنانے کی کوئی کوشش نہیں،حج کرنے کے باوجود حاجی کہلانے سے گریز،نہ کثرتِ نوافل نہ اپنی عبادات کے تذکرے، وہ دینی اور دُنیاوی طور پر ایک باعمل انسان تھے اور دین و دُنیا میں توازن رکھنے میں خوب مہارت رکھتے تھے۔

مَیں نے حافظ صاحب کے لئے صیغۂ ماضی استعمال کیا ہے، لیکن بحمدللہ وہ حیات ہیں۔ شاید یہ ہماری مردہ پرستی کا کرشمہ ہے کہ ہم زندہ شخص کو بھی ماضی میں لے جا کر مار دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن میرا معاملہ یہ ہے کہ جو واقعات مَیں نے بیان کئے، یہ نیو یارک(امریکہ) سے متعلق تھے۔ اُس وقت مَیں اُن کی شخصیت کی گتھی کھولنے کی فکر میں تھا۔ اب مَیں اس نقطے تک پہنچ گیا ہوں، جس نے حافظ محمد صابر کو حافظ محمد صابر بنایا ہے۔ اب کہ وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔ دِل اور بیمارئ دِل کے ہاتھوں اُن کی سرگرمیاں محدود ہیں۔

نصف صدی پہلے پیش آنے والا ایک واقعہ درحقیقت حافظ محمد صابر کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ بٹلی ڈھڈیال آزاد کشمیر میں ایک بزرگ تھے میاں محمد عبداللہ، وہ اپنے نام کی طرح واقعی اللہ کے بندے تھے۔ تھوڑی سی زمین تھی، جس پر کاشت کاری کر کے گذر بسر کرتے تھے۔ اُن کے صاحبزادے میاں فتح محمد نے بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی، لیکن زیر کاشت زمین سے اتنی یافت بھی نہیں تھی کہ مابعد ادا کر سکتے، کنبے کی پرورش کیسے کرتے۔ آخر میاں فتح محمد اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر پنڈ خود میرا(آزاد کشمیر) چلے گئے۔ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر کنبے کی پرورش کرنے لگے اور عملی طور پر اپنے بچوں کو سکھایا کہ محنت میں کوئی عار نہیں اور حلال روزی جیسی کوئی روزی نہیں، ہاتھ پھیلانا شیوۂ مردانگی نہیں۔ یہ میاں فتح محمد، حافظ محمد صابر کے دادا محترم تھے۔ میاں فتح محمد کے صاحبزادے حاجی محمد افضل، حافظ محمد صابر کے والد ماجد تھے۔حاجی محمد افضل کے بھائی حاجی کرم الٰہی کے بڑے بیٹے حافظ و قاری مولانا فضل کریم دینہ ضلع جہلم میں ہوتے ہیں۔ یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اِس خاندان میں قرآن پاک کی ایسی قلم لگائی کہ اب یہ ایک چمنستان بن چکا ہے، جبکہ اُن کے چھوٹے بھائی اور حافظ محمد صابر صاحب کے تایا زاد حافظ حاجی محمد حبیب صاحب نے حافظ محمد صابر کی تعلیم و تربیت میں خصوصی کردار ادا کیا۔انہی حاجی حبیب صاحب کے صاحبزادے مولانا محمد بشیر نقشبندی ہیں، جو بریڈ فورڈ یو کے میں ہوتے ہیں اور جن کے علم و فضل اور تبلیغ و تعلیم سے یو کے کا کوئی مسلمان بے خبر نہیں ہو سکتا۔ حاجی کرم الٰہی کے لگائے ہوئے قرآنی لالہ زار کا نتیجہ ہے کہ آج اِس وقت اِس خاندان میں پینتیس مرد حضرات حافظ و قاری ہیں۔متعدد درسِ نظامی کے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ آٹھ خواتین بھی حافظہ و قاریہ اور عالمہ ہیں۔ بریڈ فورڈ میں حافظ محمد بشیر صاحب کی خدمتِ اسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے جو عزت شہرت اور سعادت نصیب فرمائی ہے اُس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است،یہ گھرانا نور اعلیٰ نُور ہے۔ حافظ صاحب کی شخصیت سازی میں اُن کے اس خاندان کے پس منظر کا اثر ہے۔ بزرگوں بالخصوص حافظ حاجی محمد حبیب کی تربیت نمایاں ہے۔ کہتے ہیں درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔مکی مسجد کی تعمیر نو کا مرحلہ آیا تو نیو یارک سٹی نے میناروں کی تعمیر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ مسجد کے سامنے ایک امریکی یہودی کو اس پر اعتراض تھا، لیکن حافظ محمد صابر کی کوشش اور ذاتی خصوصی تعلقات کی وجہ سے مقامی یہودیوں نے حافظ صاحب کی حمایت کی اور سو فٹ بلند میناروں کی منظوری دلائی۔ جب تک اِن میناروں سے اللہ کی کبریائی کا اعلان ہوتا رہے گا حافظ محمد صابر کی یاد بھی آتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں صحت اور عمر خضر عطا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی ارواح کو راحت عطا فرمائے جو حافظ محمد صابر اور مولانا امجد بشیر نقشبندی جیسے اثاثے اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔

مزید : کالم