توانائی کے بحران پر قابو پانے کی حکومتی کوششیں

توانائی کے بحران پر قابو پانے کی حکومتی کوششیں

سرکاری ذرائع کے مطابق بھکھی پاور پلانٹ آئندہ سال دسمبر میں مکمل ہو جائے گا، جس کی پیداواری صلاحیت-1180 میگاواٹ ہوگی اس منصوبے کی تکمیل سے-60لاکھ گھروں کو بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ بھکھی پاور پلانٹ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں جدید مشینری کو استعمال کیا جارہا ہے، چنانچہ کم سے کم فیول میں زیادہ سے زیادہ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت ہوگی۔ اس منصوبے کا اطمینان بخش پہلویہ بھی ہے کہ پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لئے ٹرانسمیشن لائن بھی تیزی سے مکمل کی جارہی ہے جبکہ -500کلو واٹ کا ایک گرڈ اسٹیشن بھی تعمیر کیا جارہا ہے،جس کا -70فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے گزشتہ دو اڑھائی سال میں بہت تیزی سے کام شروع کر رکھا ہے۔ بجلی کی کمی کو ختم کرنے کے لئے پیداوار میں اضافے کے ذریعے متعدد منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ اس معاملے میں کافی دشواریاں بھی آڑے آتی رہی ہیں۔ کیونکہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ شہروں میں بارہ گھنٹے اور دیہات میں چودہ سے بیس گھنٹے تک پہنچتا رہا۔ گرمی اور حَبس کے ستائے ہوئے لوگوں کے لئے طرح طرح کے مسائل بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔بنیادی طور پر ایک شکایت یہ بھی ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کسی اعلان کے بغیر بڑھا دیا جاتا ہے۔ بجلی کم ملتی ہے لیکن ہر مہینے بل کی رقم بڑھتی رہتی ہے، جو صارفین کے لئے سخت پریشانی کا باعث ہے۔ آئے روز لوگ سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

توانائی کے بحران پر قابو پانے میں حکومت کے لئے مختلف نوعیت کی مشکلات کا ذکر سننے میں آتا رہتا ہے۔بجلی کی پیداوار میں اضافے کی کوششوں کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سستی بجلی پیدا ہو مہنگی بجلی تو گزشتہ کئی برسوں سے صارفین کے لئے زبر دست پریشانی اور مالی بوجھ بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر بجلی و پیداوار خواجہ آصف متعدد بار یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ جلد ہو جائے گا۔ عموماً 2017ء کے آخر تک یہ مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔ خدا کرے جو خواب حکومت کی طرف سے قوم کو دکھائے جارہے ہیں، وہ بالآخر شرمندہ تعبیر ہو جائیں اور لوڈشیڈنگ کے علاوہ بھاری بل ادا کر نے کی پریشانی سے بھی نجات ملے۔ مختلف منصوبوں سے حکومت یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حال ہی میں ایک معاہدہ روس اور ترکمانستان سے بھی ہوا ہے ۔ جس کے تحت پاکستان کو ایک ہزارمیگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ مناسب نرخوں پر بجلی مہیا کرنے کی پیشکش مذکورہ غیر ملکی حکومتوں کی طرف سے کی گئی تھی۔ توقع ہے کہ کئی لاکھ گھروں کو اس منصوبے سے بھی بجلی مہیا کی جاسکے گی اور لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی یقینی ہوگی۔

مزید : اداریہ