درجنوں قوانین لا کر صوبے میں بد عنوانی سے پاک ،شفاف اور کھلی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی :پرویز خٹک

درجنوں قوانین لا کر صوبے میں بد عنوانی سے پاک ،شفاف اور کھلی طرز حکمرانی کی ...

وفاق خیبرپختونخوا کی روزانہ 600 میگاواٹ بجلی چوری کر رہا ہے ۔ وہ اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ ہم اپنے حق کو غصب ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہیں گے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اپنا حق چھیننے نہیں دیں گے ۔ اپنے صوبے کے حق سے دستبردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ہماری حکومت اپنے حق کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جائے گی۔وفاق کو دس دن کا ٹائم دیا ہے بصورت دیگر خیبر پختونخوا حکومت PESCO کے خلاف راست اقدام کرے گی۔ایک زمانے سے ہمارے ساتھ مذاق ہو رہا ہے اب یہ مذاق اور ڈرامہ بازی نہیں چلے گی اپنے حق کیلئے لڑنا اور حاصل کرنا جانتے ہیں ۔ وفاق کا چھوٹے صوبوں کا حق مارنا ملک کیلئے کتنا نقصان دہ ہے یہ حکمرانوں کو سمجھ ہی نہیں آرہا ہے ۔ وفاق کو ماورائے آئین اقدامات کرنے سے روکیں گے۔ ہماری حکومت نے اچھی طرز حکمرانی ، ترقی کی راہ میں حائل فرسودہ ذہنیت،سرکاری عہدیداروں کو عوام کے لئے جوابدہ بنانے اور صوبے میں شفاف احتساب کے لئے تمام ممکن اقدامات کئے ہے۔(Conflict of Interest) Whistle blower, RTI, RTSاور درجنوں قوانین لاکر صوبے میں بدعنوانی سے پاک،شفاف اور کھلی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ سیاستدانوں اور سرکاری افسران سمیت کوئی بھی فرداپنے عہدے اور اختیار سے فائدہ نہ اٹھاسکے گا۔ قانون کی حکمرانی ہوگی اور وسائل ااور اختیارات کا ناجائز استعمال ختم ہو گا۔ اچھے قوانین کو حکومتی اُمور کو بہتر طور پر چلانے میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بے قاعدگیوں اور بدعنوانی کے عوامل کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا یہ قوانین عوامی مفاد میں اجتماعی دانشمندی کے ذریعے بنائے گئے ہیں۔اس ملک میں بہتر نظام جو انصاف پر مبنی ہو ، اداروں میں سیاست نہ ہو ، فیصلے میرٹ پر ہوں اور عوام کو اداروں سے ریلیف ملے ہی ہمارے تمام مسائل کا واحد حل ہے مراعات یافتہ طبقہ اور بیورکریٹس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لیکن ہم نے اداروں کو صحیح ٹریک پر ڈال دیا ہے کیونکہ ہم نے اداروں سے گند صاف کرکے عوامی فلاح کیلئے متحرک کردیا ہے۔ یہ بتانا بھی ضروری ایک وقت آگیا تھا کہ میں اس نظام سے نااُمید ہو چلا تھا میں سابقہ حکومت میں وزیرتھا کہ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور میں نے اُس کی لیڈر شپ میں اُمید کی کرن دیکھی اور زیادہ توانا ہو کر اُٹھ کھڑا ہو ااور اُس کا ساتھ دیا کیونکہ جن ملکوں نے ترقی کی ہے اُن کو اچھی لیڈرشپ ملی ہے۔ہمارے پاس تمام وسائل ہیں ہمیں دوسروں کے دست نگر نہیں ہونا چاہیئے لیکن پتہ نہیں ہمارے حکمران کیوں کشکول لیے پھرتے ہیں۔

مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ سوات ایکسپریس وے صوبے میں اقتصادی سرگرمیوں کی مختلف جہتوں کیلئے مرکز و محور ثابت ہو گا۔یہ 40 ارب روپے کا پراجیکٹ ہے جو صوبہ اپنے وسائل سے شروع کر رہا ہے۔ سوات ایکسپریس وے صوبے کے مرکزی اضلاع سے صوبے کے شمالی اضلاع کے درمیان محض رابطے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ یہ صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا۔ سوات ایکسپریس وے شمالی علاقہ جات تک آسان رسائی کو یقینی بنائے گا اور صوبائی معیشت کیلئے وسائل کا بہترین ذریعہ بنے گا۔ مجھے قوی امید ہے کہ ایکسپریس وے صوبے میں سیاحت کی ترقی ، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، بے روزگاری کے مسائل سے نمٹنے اور صوبائی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جہاں تک لاء اینڈ آرڈر کا تعلق ہے تو حکومت نے پولیس ریفارمز کیلئے قانون سازی کی ہے جس کا مقصد موجودہ پولیس ایکٹ کو فرسودہ خول سے باہر نکال کر سیاسی اثر و رسوخ سے آزادپیشہ وارانہ فورس بنادیا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کو درپیش گوں نا گوں چیلنجز سے نمٹنے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں محکمہ پولیس میں قانون سازی کے ذریعے اصلاحات متعارف کی ہیں جس سے نہ صرف جرائم کی حوصلہ شکنی اورروک تھام میں بھی خاطر خواہ مددملی ہے بلکہ اس سے عوامی شکایات کو حل کرنے میں بھی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ۔ موجودہ حکومت پولیس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں قطعاً مداخلت نہیں کرے رہی مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ محکمہ پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریق کار نہیں ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ محکمہ پولیس کو مزید موثر، ذمہ دار اور جرائم کے خلاف لڑائی میں مستعد اور عوامی شکایات پر جوابدہ بنانے کیلئے نئی ترامیم میں کثیر الجہتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے۔پولیس پر نظر رکھنے کیلئے ضلع سطح پر ، ریجنل سطح پر اور صوبائی سطح پر سیفٹی کمیشن قائم کئے ہیں۔ موجودہ حکومت صوبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مذکورہ ویژن کو عملی جامہ پہناناچاہتی ہے۔ حکومت محکمہ پولیس کو ایک آزاد اور بااختیار اور پروفیشنل ادارہ بنانے اورا س کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے کسی حد تک احتساب کا عنصر بھی رکھا ہے۔ حکومت کی مذکورہ کوشش سے نہ صرف پولیس کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پولیس فورس پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو حقیقی معنوں میں عوام کو خدمت گار اور جوابدہ بنانے کیلئے موجودہ نظام کی کمزوریاں دور کرکے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔صوبائی حکومت اُن سرمایہ کاروں وزیراعلیٰ ہاؤس میں سرکاری مہمان کے طور پر ٹھہرائے گی جو صوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں یا سب سے زیادہ ٹیکس دیں کیونکہ ہم سرمایہ کاروں کو ایک مثالی ماحول سمیت حکومت اور اُن کے درمیان اعتماد کی بحالی چاہتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں کہ ہم جو تبدیلی اور عوامی فلاح کیلئے کہتے ہیں وہ ہم کردکھاتے ہیں۔ جب ہم اقتدار میں آئے تو سب سے پہلا چیلنج لاء اینڈ آرڈرSituation کو بہتر بنانا اور حکومتی اختیار قائم کرنا تھا ۔ریپڈرسپانس فورس، سپیشل کمبیٹ یونٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی جدید طرز پرتفتیش،Community Engagement Service، تھانے کی سطح پرResolution Council Dispute کا قیام سمیت سب سے اہم بات پولیس ایکٹ کا نفاذ جس کے ذریعے پولیس کو مکمل طور پر بااختیار بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے اچھی طرز حکمرانی کیلئے ہر سطح پر اپنے اختیارات ختم کرکے اداروں کے استحکام کو اپنا مطمع نظر بنایا ہے۔ وارڈن سسٹم ، پولیس کیلئے ٹریننگ سکول، ٹریفک سسٹم ، انوسٹی گیشن ، سی ٹی ڈی اور سپشل فورس قائم کیا۔

ہماری حکومت نے سب سے زیادہ ریکارڈ قانون سازی کی عوامی مفاد کی100سے زائد ریکارڈ قانون سازی جبکہ مزید قانون سازی کیلئے بھی مسودہ قوانین اسمبلی سے پاس کرانے کیلئےprocessہو چکے ہیں۔ان میں نمایاں قوانین اطلاعات تک رسائی ، خدمات تک رسائی ، کفلیکٹ آف انٹرسٹ پاس ہو چکا ہے جبکہ Whistle Blower اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پا س ہونے والے قوانین میں شامل ہے۔ ہمارے صوبے کا بلدیاتی نظام مثالی ہے۔ جس میں ویلج کونسل تک صحیح معنوں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی گئی ہے ۔ صفائی کیلئے دیہات کی سطح تک پورا ایک سٹرکچر موجود ہو گا۔ ہم صوبے کے 30 فیصد ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کو منتقل کر چکے ہیں ۔ گاؤں کی سطح تک عوام کی رائے اور مرضی سے ترقی کے ہدف کا حصول ممکن بنایا ہے ۔صوبائی دارا الحکومت کی خوبصورتی اور ترقی کیلئے باب پشاور فلائی اوور کی ریکارڈ قلیل مدت میں تکمیل ممکن بنائی ہے۔ ریپڈ بس سروس کا منصوبہ پورے شہر کیلئے ٹریفک کا ایک مربوط حل ہے اور ہم اس کیلئے تمام تر اقدامات کر چکے ہیں اس سال نومبر میں اس پر کام شروع ہو گا اور ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔اس کے علاوہ با ب پشاور فلائی اوور سمیت مختلف فلائی اوورdetour حیات آباد، زکوڑی پل فلائی اوور پشاور، پارکوں، شاہراہوں ، سبزہ زاروں کی مرمت، تزئین و آرائش، جی ٹی روڈ وغیرہ پر کام تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ تعلیم اور صحت ہماری ترجیح ہے۔تعلیمی بجٹ100ارب روپے تک بڑھادیا گیا ہے۔7لاکھ نئے بچوں کو داخلہ دیا گیا ہے جبکہ ہمار ا ہدف8لاکھ مزید بچوں کو سکولوں میں داخلہ دینا ہے۔پرائمری سکولوں میں کمروں کی تعداد بڑھا کر6کر دی گئی ہے اور چھ ٹیچرز ہر پرائمری سکول کو فراہم کر رہے ہیں۔45 ملین بچوں کو مفت کتب کی فراہمی،1251کمیونٹی سکولوں، طلباء و طالبات کو260 ملین کے وظائف کی فراہمی،670آئی ٹی لیب کا قیام،66905 ا ساتذہ کی جدید خطوط پر ٹریننگ،اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کیلئے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا قیام،25000 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی۔مزید30,000اساتذہ کی بھرتی کا پروگرام،سکول نہ جانے والے بچوں کے کوائف جمع کرنے کیلئے سروے کا پروگرام تیار کیا جا رہا ہے جبکہ سکولوں میں واش روم اور دیگر missing facilities فراہم کر رہے ہیں۔صحت کے حوالے سے میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ ہم Tertiary health care کو خودمختاری دے کر اس کو عوام کی صحت عامہ کیلئے زیادہ فعال کر چکے ہیں اس کے علاوہ صحت کا انصاف ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی کمی پوری کررہے ہیں ہمارے دیگر اقدامات میں صحت سہولت کارڈ کا اجراء،مفت ایمرجنسی علاج اسکیم کا اجراء،مہلک بیماریوں کے علاج کیلئے خطیر رقم کی فراہمی ،گردوں کی ٹرانسپلانٹ، ڈائیلاسز کی سہولت صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کاقیام اورمیٹرنٹی ہیلتھ سروسز کیلئے300ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے 1لاکھ سے زائد مائیں مستفید ہوں گی۔اس کے علاوہ 25 ملین روپے کی لاگت سے مختلف ہسپتالوں میں فری انسولین بینک کا قیام۔مفت انسولین کی فراہمی اور39کالجوں کا قیام ہے جبکہ41کالجز اور تین نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ہم توانائی کے شعبے میں 356 مائیکرو پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں جس سے 35 میگا واٹ بجلی فراہم ہو گی اور یہ مقامی لوگوں کو نہایت ہی سستے ریٹ پر دستیاب ہو گی اس کے علاوہ اگلے سال ہم مزید ایک ہزار چھوٹے پن بجلی کے منصوبے شروع کرنے والے ہیں فی الوقت 300 میگاواٹ پن بجلی پر کام جاری ہے جبکہ بالاکوٹ میں 300 میگاواٹ اور چترال میں 900 میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کو مشتہر کیا جا چکا ہے۔ ہماری کوششوں سے سسٹم میں مزید دو ہزار سے ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی اور اس سے پورے ملک میں بجلی کا نظام بہترہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت نے کھیل و ثقافت کے شعبے میں بھی نظر آنے والے اقدامات کئے ہیں مردان سپورٹس کمپلیکس 67.69 ملین روپے سے مکمل ہاکی کی اسٹو ٹرف ہو گی اور اس پر بین الاقوامی میچ کھیلے جا سکیں گے۔قیوم اسٹیڈیم پشاور اولمپک شاپنگ پلازہ 8058ملین روپے لاگت سے مکمل ہوا۔کھلاڑیوں کو سپورٹس کٹس کی فراہمی کیلئے40ملین روپے رکھے گئے ہیں۔عبد الولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ کی تکمیل پشاور کے بعد دوسرا بڑا سپورٹس کمپلیکس ہے۔تحصیل کی سطح پر75معیاری گراؤنڈز کی تعمیر کئے جارہے ہیں جو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یوتھ پالیسی کی منظوری کابینہ نے دیدی ہے۔ثقافت سے وابستہ500افراد کو امدادی الاؤنس دیا جا رہا ہے جبکہ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کیلئے500 ملین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں پٹوار، تھانہ کلچر، کرپشن کے خاتمے کیلئے اصلاحات، احتساب کمیشن کا قیام،NTSکے ذریعے میرٹ پر بھرتیاں، سفارش کلچر کا خاتمہ۔عوام کو خدمات کی فراہمی، شکایات کے ازالے کیلئے رائٹ ٹو سروسزکمیشن، رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن، وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کا قیام اہم اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف کامیاب مہم چلائی گئی، ریسکیو1122 کو 12 اضلاع تک توسیع دے رہے ہیں جبکہ بلین ٹری سونامی کے ذریعے صوبے میں شجرکاری مہم کامیابی سے جاری ہے۔معدنیات کیلئے قانون سازی کی تاکہ اس کو جدید خطو ط پر استوار کرکے وسائل پیدا کئے جا سکیں صوبے میں صنعتکاری کیلئے بے مثال ترجیحات دی ہیں اور صنعتکاروں نے ہماری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ہماری حکومت سمجھتی ہے کہ صحافت کسی بھی جمہوری عمل میں چوتھے ستون کا کردار ادا کرتا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں مثبت صحافت کو فروغ ملے۔صوبے میں ورکنگ جرنلسٹ کے لئے چھ کروڑ چالیس لاکھ سیڈمنی کیساتھ ایک اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے۔ اس فنڈ کے منافع سے صحافیوں کے علاج معالجے میں مناسب مدد کی جاتی ہے اس فنڈ کے لئے ہم نے صوبائی اسمبلی سے اسکے طریقہ کار کے لئے ایک قانون بھی بنایا ہے۔جرنلسٹ ویلفئر فنڈ کے قانون میں اب تھوڑی سی ترمیم کی جارہی ہے جس کے بعد ہم دہشت گردی کے شکارکسی بھی جرنلسٹ کی شہادت کی صورت میں اس کے خاندان کو دس لاکھ روپے کی مالی امداد دے سکیں گے۔64ملین روپے کی Seed money کے ساتھ جرنلسٹس ویلفیئر اینڈوومنٹ فنڈ سے حاصل ہونے والی آمدن سے اب تک188 مستحق صحافیوں میں 3.122 ملین تقسیم کئے جا چکے ہیں۔80لاکھ روپے صحافیوں کے دوروں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ہم نے صوبے میں پرنٹنگ پریسوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ دہشتگردی کو فروغ دینے والے لٹریچر کا خاتمہ ہوسکے۔صوبہ بھر میں ضرورت کی بنیا د پراب تک9 پریس کلب کی تعمیرکئے گئے ہیں جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران ہنگوپریس کلب کے لئے بلڈنگ کی تعمیرشروع ہو چکی ہے اورہری پور پریس کلب میں ایک ہال کی تعمیرکاکامکمل ہو چکا ہے۔گزشتہ3 سال(2013-16) کے دوران مختلف پریس کلب کو 62ملین روپے کی گرانٹ ۔ان۔ ایڈ فراہم کی گئی ہے جبکہ موجوہ مالی سال کے دوران مزید 3پریس کلب کو 3.50ملین روپے کی گرانٹ کی فراہمی پر کام جاری ہے۔پشاور میں درانی میڈیا کالونی187کنال اراضی پر قائم کی گئی ہے جسمیں 340پلاٹس پشاور پریس کلب کی سفارش پر مقامی صحافیوں کو الاٹ کئے گئے ہیں۔اس منصوبے کی تخمینہ لاگت231ملین روپے ہے جسمیں صوبائی حکومت نے135.50ملین روپے کی Contributionکی ہے۔ صحافیوں کی جانب سے ڈھائی لاکھ روپے فی کس کے حساب سے340پلاٹس کا مجموعی طور پر 8کروڑ50لاکھ روپے وصول ہونے تھے جسمیں ان کی جانب سے تقریباََ3کروڑ50لاکھ روپے جمع کئے گئے جبکہ بقایا 5کروڑ روپے ان کے ذمے واجب الادا تھے جس کے لئے میں نے اس رقم کی حکومت کی جانب سے ادائیگی کر دی ہے جبکہ ترقیاتی کام کیلئے مزید وسائل کی فراہمی کا میں پہلے ہی اعلان کر چکا ہوں اور یہ مسئلہ چند دن میں حل ہو جائے گا۔ مختلف اضلاع میں نیوزپیپرز مارکٹس کے قیام کا منصوبہADP 2016-17 کا حصہ بنایا گیا ہے۔اس کیلئے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1