عراقی جنگجو کا سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کی سازش کا اعتراف

عراقی جنگجو کا سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کی سازش کا اعتراف

بغداد(آئی این پی)عراق میں سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے ۔عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا ابو الفضل العباس کے سربراہ اوس الخفاجی نے تسلیم کیا ہے کہ ہے بغداد میں متعین سعودی عرب کے سفیر ثامر السبھان پر قاتلانہ حملے کی سازش میں الحشد الشعبی شامل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگجو کا کہنا ہے کہ سعودی سفیر ایک اشتہاری شخص ہے اور اس پر قاتلانہ حملہ باعث فخر ہے۔ عراقی جنگجو اوس الخفاجی کا کہنا ہے کہ سعودی سفیر السبھان کی عراق دشمنی واضح ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ عراق میں شیعہ فرقہ پراست عناصر پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجوں نے سعودی عرب کے عراق میں متعین سفیر ثام السبھان کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس کے علاوہ خراسان بریگیڈ نامی ایک تنظیم نے بھی اعتراف کیا کہ انہوں اس کے جنگجوں نے ایرانی انٹیلی جنس افسران کی منصوبہ بندی کے تحت سعودی سفیروں کے قتل کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ عراق میں سعودی سفیر ثامر السبھان کا کہنا ہے کہ شدت پسند فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی طرف سے قتل کی دھمکیوں کے باوجود وہ بغداد میں اپنی سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مشن عراقی قوم کی فلاح وبہبود اور اس کی معاونت ہے۔ اس کے لیے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

مزید : عالمی منظر