فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کو عام کیا جائے گا ، وزیراعظم ہاؤس

فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کو عام کیا جائے گا ، وزیراعظم ہاؤس

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف کو فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو عام کیا جائے گا تاکہ اس پر مزید بحث اور تبادلہ خیال کے بعد ان سفارشات پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق فاٹا میں اصلاحات سے متعلق رپورٹ پر بدھ کو نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ’’اے پی پی‘‘ کو دستیاب تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں پانچ رکنی فاٹا اصلاحات کمیٹی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ فاٹا کے ارکان پارلیمان، قبائلی عمائدین اور تمام فریقین کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اصلاحات کیلئے چار بنیادی آپشنز کی سفارش کی ہے لیکن فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام پر وسیع اتفاق رائے ہے، ان چار آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے لیکن عدالتی اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائی جائیں اور ترقیاتی سرگرمیوں پر توجہ بڑھائی جائے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی طرز پر فاٹا کونسل تشکیل دی جائے، تیسرا آپشن یہ ہے کہ فاٹا کا ایک الگ صوبہ بنایا جائے، چوتھا آپشن یہ ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے کہ ہر ایجنسی ایک الگ ضلع ہو اور ایف آرز اینٹیگریٹڈ ہوں۔ کمیٹی کی طرف سے کی گئی وسیع تر مشاورت سے یہ بات سامنے آئی کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام پر وسیع اتفاق رائے تاہم کرم باجوڑ اور ایف آر پشاور کے سوا قبائلی عمائدین موجودہ خصوصی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سیاسی جماعتوں، نوجوانوں، کاروباری اور پڑھا لکھا طبقہ واضح طور پر فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کا حامی ہے اور انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں رٹ کے حوالہ سے بھی دلائل دیئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قبائلی عوام اس کے ساتھ ہی نئے نظام کے تحت رواج اور جرگہ سسٹم کو تسلیم کرنے کے ذریعے اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فاٹا اصلاحات کیلئے مرحلہ وار اپروچ اختیار کرنے کیلئے دلائل دیئے تاکہ نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور علاقہ میں جنگ کی صورتحال کے بعد پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ جغرافیائی محل وقوع، ایجنسیوں کے درمیان کمزور مواصلاتی رابطوں اور محدود مالی وسائل کے باعث فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حوالہ سے حمایت موجود نہیں ہے۔ اسی طرح گلگلت بلتستان کونسل کی طرز پر فاٹا کونسل کی تجویز کو بھی زیادہ حمایت حاصل نہیں۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ ایک ٹرانزیشنل اقدام کے طور پر بھی اس سے نئے مخصوص مفادات پیدا ہوں گے جن سے مزید اصلاحات کا عمل رک سکتا ہے۔ چوتھے آپشن یعنی فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے حوالہ سے وسیع تر حمایت سامنے آئی کیونکہ اس تجویز پر عمل سے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں اور یہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حوالہ سے واحد معقول انتخاب ہے کیونکہ اس طرح فاٹا کے عوام خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کے قابل ہوں گے۔ اس آپشن کے تحت سیکورٹی انفراسٹرکچر بشمول لیویز اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط اور ان کا معیار بہتر کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور پورے فاٹا تک اس کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔ اس طرح مسلح افواج کو فاٹا میں سیکورٹی کیلئے اپنا کردار چار سے پانچ سالوں کے اندر ختم کرنے میں آسانی ہو گی۔

مزید : صفحہ اول