باب دوستی چھٹے روز بھی بند ، پاکستان کا افغانستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ

باب دوستی چھٹے روز بھی بند ، پاکستان کا افغانستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ

چمن ( اے این این ) چمن بارڈر پر باب دوستی مسلسل چھٹے روز بھی بند ٗنیٹو سپلائی سمیت دوطرفہ تجارت بدستور معطل ہے ٗ سرحد کے دونوں جانب مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ٗگیٹ کھولنے سے متعلق پاکستان نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے افغانستان سے 18 اگست کے واقعے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نواز بعض افغانیوں کی اشتعال انگیزیوں کے خلاف چمن بارڈر پر باب دوستی مسلسل چھٹے روز بھی بند ہے جس کے باعث نیٹو سپلائی سمیت دوطرفہ تجارت بدستور معطل ہے ۔سرحد کی بندش سے پاک افغان شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ باب دوستی کھولنے سے متعلق 3بار پاک افغان سرحدی فورسز کے درمیان فلیگ میٹنگ کا انعقاد بے نتیجہ ثابت ہوئے۔میٹنگز میں پاکستانی حکام نے باب دوستی کھولنے سے متعلق دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکام کو 18 اگست کے واقعے پر معافی اور معذرت کرنا ہو گی، ویزا پر جانے والے پاکستانیوں کو تنگ اور ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔افغان حکام کا کہنا تھا کہ سرحد کو تجارتی سرگرمیوں کیلئے کھول دیا جائے،باقی معاملات بھی طے ہو جائیں گے۔افغان حکام نے مطالبہ کیا کہ افغان شہریوں کو علاج معالجہ کیلئے پاکستان جانے کی اجازت دی جائے،تاہم پاکستانی حکام نے بتایا کہ باب دوستی کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ اب پاکستان کے اعلی حکام ہی کرے گا۔چمن سے ایک تاجر اور سماجی کارکن شیر زمان اچکزئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پہلے صرف گاڑیوں کی آمد روفت بند تھی لیکن اب پیدل آمدورفت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے باعث دونوں اطراف سفر کی خواہشمند لوگوں بالخصوص خواتین، بچوں، عمر رسیدہ افراد اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ باب دوستی کی بندش کے باعث زیرو پوائنٹ پر اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری کرنے والے لوگوں کو کام نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا اس سلسلے میں دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان مذاکرات تاحال کامیاب نہیں

مزید : صفحہ اول