’’ بیسٹ پاسیبل آپشن‘‘

’’ بیسٹ پاسیبل آپشن‘‘
’’ بیسٹ پاسیبل آپشن‘‘

  


یار ، دوست برہم ہیں کہ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے الطاف حسین بارے وہ زبان استعمال نہیں کی جو پنجاب کر رہا ہے، بہت ساروں کی رائے میں فاروق ستار بہت ساروں کو بے و قوف بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، انہوں نے یہ کارڈ کھیل کر متحدہ قومی موومنٹ اوراس کے قابل اعتراض ڈھانچے کو بھی بچا لیا ہے گویا ان کی گواہی ہے کہ فاروق ستار بہت چالاک اور ان کے مقابل لوگ انتہائی معصوم اور بھولے ہیں جو بہت ہی آسانی کے ساتھ ٹریپ ہو گئے ہیں، یہ رائے دینے والے کراچی والوں کی ا س مشکل کا اندازہ ہی نہیں کر پا رہے جس کا وہ شکار ہیں۔ایم کیو ایم سے الطاف حسین کو مائنس کرنے کی خواہش بہت پرانی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ طے ہوتا چلا گیا کہ کراچی کو سیاسی طور پرساتھ رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کو ساتھ رکھنا ضروری ہے یوں پیپلزپارٹی اور پرویز مشرف سمیت وہ تمام عناصر جن کا تعلق سندھ سے براہ راست یابالواسطہ کسی بھی صورت رہا، وہ ایم کیو ایم پر ہاتھ ڈالنے اوراس کی ملک دشمن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی بجائے اسے رستہ اور تحفظ دیتے رہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف موثر آپریشن ہمیشہ نواز شریف کے دور میں ہوا مگر اس بات پر زور دینے کی ضرورت اس وجہ سے نہیں کہ آپریشن ہمیشہ جائز اور واضح شکایات پر ہوا، اس میں صوبائیت کی بنیاد پر تعصب یا نفرت کے عناصر کبھی نہیں رہے۔

حالیہ آپریشن میں بھی صولت مرزا کے اقبالی بیان سے آج تک یہی کوشش ہوتی رہی کہ کراچی کے اردو سپیکنگ عوام کی اکثریت کو الطاف حسین کا اصل چہرہ دکھایا جا سکے، انہیں قائل کیا جا سکے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کسی صورت بھی الطاف مارکہ سیاست میں چھپا ہوا نہیں مگر اس کے باوجود ضمنی انتخابات ہوئے یا بلدیاتی، عوام نے انہی امیدواروں کو کامیاب کروایا جن کے پاس الطاف حسین کی پتنگ تھی ۔ عام انتخابات کے موقعے پر کوشش کی گئی کہ کراچی عمران خان کے حوالے کر دیا جائے مگر یہ کوشش ناکام رہی، ایم کیو ایم بہت ہوشیاری کے ساتھ کراچی کے عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہی ہے کہ عمران خان کی صورت میں پنجاب سے ایک نیازی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کے طور پر انہیں قابو کرنے آ رہا ہے۔ یہ امر غلط نہیں کہ الطاف حسین نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کی کوشش کی ہے، ان کی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی سیاست کے طریقوں پر منواتے ہوئے اپنے ساتھ رکھا مگر اب سیاست کے تقاضے اور ضروریات بہت مختلف ہیں۔ کوشش تو یہی ہے کہ جس طرح اچھے اور برے طالبان کی بحث ختم کی گئی اسی طرح اچھی اور بری ایم کیو ایم کی بحث بھی ختم ہو جائے مگر یہ اتنا آسان کام نہیں ہے، یہ اتنا آسان ہوتا تو انتخابات کے نتائج مختلف ہوتے۔

یہ بات سمجھی جا چکی ہے کہ ایم کیو ایم کو فوری طور پرختم کرنا ممکن نہیں،مہاجر عوام ماضی کے گلے شکووں کے پیش نظر متحدہ قومی موومنٹ کے سوا کسی دوسرے پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ فاروق ستار کراچی پریس کلب سے رات کے وقت ساتھ لے جائے گئے اور صبح چھوڑ دئیے گئے،منطقی بات ہے کہ واپسی کے بعد فاروق ستار وہی رویہ اختیار کرتے جومصطفیٰ کمال کا تھا تو پھر کراچی کا وہ ووٹر اور ایم کیو ایم کا سپورٹر ان کے ساتھ کبھی نہ آتا جس نے تمام تر الزامات اور آپریشنوں کے باوجود الطاف حسین کے امیدواروں کا ساتھ دیا۔ یار ، دوست چیں بجیں ہوئے کہ فاروق ستار نے پاکستان مخالف نعروں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے باوجودالطاف حسین کو اپنا لیڈر کہا اور یہی وہ اصل حکمت عملی تھی جس پر چلتے ہوئے پاکستان میں سیاست کرنے کے خواہش مند رہنماوں نے ایم کیو ایم کے جلاوطن قائد کو قائل کر لیا کہ وہ جذباتی ہو کر جو بدترین غلطی کر چکے ہیں اس کا ازالہ فی الوقت مائنس ون فارمولے کو تسلیم کرنے میں ہی ہے۔ گذشتہ روز نشاندہی ہوئی تھی کہ ایم کیو ایم کے آئین اور روایات کے مطابق فاروق ستار سمیت پوری رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق الطاف حسین نے ہی کرنی ہے اورا س کے بعد ہی وہ لاگو تصور کئے جائیں گے۔ الطاف حسین نے بحیثیت بانی و قائد، تنظیم سازی، فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے تمام تر اختیارات فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے حوالے کر نے کی توثیق کر دی، یوں مائنس ون فارمولے پر اس حد تک عمل ہو گیا جس حد تک عملی طور پر ممکن تھا۔

واسع جلیل نے اس امر کی نشاندہی پہلے ہی کر دی تھی کہ فاروق ستار کی پریس کانفرنس کا لندن میں بیٹھے ہوئے قائد اور رابطہ کمیٹی کو پہلے سے ہی علم تھااور طاقت ور حلقوں کے لئے یہ تیسرا آپشن آگے بڑھنے کے لئے کوئی برا راستہ نہیں کہ وہ عمران خان او رمصطفی کمال کی صورت پہلے دو آپشنز کی ناکامی دیکھ چکے ہیں۔ہمارے ’’طاقت ور‘‘ حلقوں کا پرابلم یہ ہے کہ وہ نئی لیڈر شپ کو متعارف تو کرواد یتے ہیں مگر اپنی ہی بنائی ہوئی پرانی لیڈر شپ کوان کے کارکنوں اور عوام سے ڈس کارڈ کروانا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اگر وہ اس میں مہارت رکھتے تو یقینی طور پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کا آج نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ ’’ طاقت ور‘‘ اور ’’ محب وطن‘‘ حلقے فی الوقت مائنس الطاف حسین ایک ایم کیو ایم پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، وہ اس امر کو بھی یقینی بنا لیں گے کہ اب ایم کیو ایم کبھی پاکستان زندہ باد کے سوا کوئی دوسرا نعرہ نہیں لگائے گی مگر انہیں اس امر کے لئے ابھی بھی سخت محنت کرنا پڑے گی کہ الطاف حسین جن جرائم پیشہ لوگوں کے ذریعے اپنی سیاست اور تنطیم کو قابو میں رکھتے تھے، فاروق ستار اور ان کے ساتھی ان سے بھی فاصلے اختیار کریں۔ ایم کیو ایم کے قائدین کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگر وہ بھرپور آپریشن کے دوران بھی الیکشن جیت سکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوف اور دہشت کے بغیر بھی کامیاب سیاست کر سکتے ہیں۔ کراچی میں محب وطن حلقوں کی یہی اصل مشکل ہے کہ وہ اس الطاف حسین کے ساتھ بہت سختی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اپنا پرانا طرز سیاست ترک کرنے کے لئے تیار نہیں، ہاں، کچھ ووٹر ان کے جلسوں سے غائب ہو سکتا ہے جس کی نشاندہی مصطفیٰ کمال نے کی کہ پریس کلب کے باہر الطاف حسین کے خطاب کے موقعے پر چند سو کارکن ہی موجود تھے، کسی الیکشن میں غیر حاضر بھی ہوسکتا ہے اور گھر میں خاموش رہ کر بہتر وقت کا انتظار بھی کر سکتا ہے ، وہ الطاف حسین کی تمام غلطیوں کو جواز دیتا ہے، اسے مظلوم سمجھتا ہے لہذا وہ اسے فوری طور پر عمران خان اور مصطفی کمال کے ساتھ مل کر گالی نہیں دے سکتا۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ طاقت ور اور محب وطن حلقوں نے الطاف حسین کی طرف سے کی گئی فاش غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بہترین ممکنہ راستے یعنی’ بیسٹ پاسیبل آپشن کا چناو کر لیا ہے جو کراچی میں معمول کی سیاست کو بحال کرسکتا ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ’’ طاقت ور‘‘ اور’’ محب وطن ‘‘حلقے ایم کیو ایم کی پاکستان میں رابطہ کمیٹی کو الطاف حسین سے دلوائے گئے تما م تر اختیارات حاصل کس حد تک آزادی کے ساتھ تنظیم سازی، فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں استعمال کروا سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی یہ قیادت الطاف حسین کے سحر میں مبتلا ہے اور اسے کراچی میں سیاست کے لئے ناگزیر سمجھتی ہے۔ اب اگلا مرحلہ یہی ثابت کرنے کا ہے کہ الطاف حسین ناگزیز نہیں ہیں، ان کے بغیر بھی متحدہ قومی موومنٹ چل سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں اہم ترین کام کراچی میں پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف سمیت قومی جماعتوں کو مقبول اور مضبوط بنانا ہے اور یہ کامیابی سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد میں شامل ہو کر اور ان کے مسائل حل کرکے ہی حاصل کر سکتی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے قائم علی شاہ کے مقابلے میں مراد علی شاہ کی صورت ایک بہتر گھوڑا سیاست کے میدان میں اتارا ہے۔ مسلم لیگ نون بھی موٹر وے اور میٹرو جیسے منصوبوں کے ذریعے کراچی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ عمران خان اگر ذمہ دارانہ سیاست کریں تو وہ بھی کراچی میں اپنا ووٹ بنک برقرار رکھ سکتے ہیں جس کے بعد ایم کیو ایم کراچی کی مقبول ترین جماعت تو رہے گی مگر کراچی کی سیاست میں ایک توازن اور ٹھہراو پیدا ہو جائے گا ۔ اگرطاقت ور اور محب وطن حلقے یہی توازن اور ٹھہراو مستقل بنانے میں بھی کامیاب ہو گئے تو ہم آنے والے دنوں میں ایک بہتر کراچی دیکھیں گے ۔ اے میرے دوستو فی الوقت تو یہی ممکن تھا۔

مزید : کالم