ارشد وھرا موبائل فون پر کس کی ہدایات سن کر وسیم اختر کو پہنچا رہے تھے ؟

ارشد وھرا موبائل فون پر کس کی ہدایات سن کر وسیم اختر کو پہنچا رہے تھے ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ایم کیو ایم کے وسیم اختر جیل سے کراچی کے میئر منتخب ہو گئے، یہ کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے۔ لوگ پہلے بھی جیل میں ہوتے ہوئے ایم این اے ، ایم پی اے وغیرہ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ وسیم اختر جیل میں دوسرے الزامات کے تحت ہیں جن کا میئر کے الیکشن سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، جن ووٹروں نے انہیں میئر منتخب کیا ان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور یہ نمبر گیم اس وقت سے واضح ہے جب سے بلدیاتی انتخاب ہوئے ہیں، فوری بعد میئر کا انتخاب ہو جاتا تو بھی نتیجہ یہی ہوتا ، اب اگر طویل عرصے کے بعد میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ہوا ہے تو بھی نتیجہ مختلف نہیں نکلا، البتہ اس دوران جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اعلان کر دیا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے اس سے یہ تاثر لیا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی اب لندن کے فیصلوں کی پابند نہیں ہے تاہم ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والوں میں سے بہت سے لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ الطاف حسین تاحیات ایم کیو ایم کے قائد ہیں اور ان کے فیصلے لاگو ہیں ڈاکٹر فاروق ستار یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ اب فیصلے کراچی میں کریں گے اور لندن کے فیصلوں کے پابند نہیں ہوں گے کیونکہ ایم کیو ایم کا آئین اس کے قائد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ رابطہ کمیٹی کے کسی بھی فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں، واسع جلیل اور مصطفےٰ عزیز آبادی کا کہنا ہے کہ فیصلے وہی حتمی ہوں گے جو الطاف حسین کریں گے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فاروق ستار کا بھی وہی فیصلہ تسلیم ہو گا جس پر الطاف حسین کی مہر لگی ہو گی۔ جس فیصلے کو الطاف کی منظوری حاصل نہیں ہو گی اسے ایم کیو ایم کا ورکر نہیں مانے گا۔ تو پھر فاروق ستار کے اس فیصلے کی حیثیت کیا ہو گی کہ اب فیصلے لندن سے نہیں کراچی سے ہوں گے؟۔

فاروق ستار کا فیصلہ تو اس وقت ہی سوالات کی زد میں آ گیا تھا جب وسیم اختر میئر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے، وسیم اختر کو ووٹ ڈالنے کے لئے جیل سے پولنگ سٹیشن لایا گیا تھا ۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں میئر منتخب کیا۔ وسیم اختر نے میڈیا سے جو بات کی اس کا تجزیہ تو بعد میں، پہلے یہ بتا دیا جائے کہ وہ منظر کیا تھا جس میں بات ہو رہی تھی۔ وسیم اختر سوٹ میں ملبوس ٹائی لگا کر ووٹ ڈالنے آئے تھے، ان کے ساتھ ڈپٹی منتخب میئر ارشد ووہرا کھڑے تھے۔ جن کے فون پر کال آئی تو انہوں نے فون پر ہاتھ رکھ کر وسیم اختر کو ’’ہدایات‘‘ دینا شروع کر دیں وسیم احتیاط سے بات کرو، لیکن بار بار یہ بات کہنے کے باوجود وسیم سے ’’بے احتیاطی‘‘ ہو ہی گئی اور انہوں نے کہا مرد کے بچے ہو تو جنرل پرویز کے خلاف آرٹیکل 6کا مقدمہ چلا کر دکھاؤ، ارشد ووہرا فون پر آنے والی ہدایات کو ساتھ کے ساتھ وسیم اختر تک منتقل تو کر رہے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہدایات کہاں سے آ رہی تھیں؟ اور فون کال کس کی تھی؟ ڈاکٹر فاروق ستار کی تو ہو نہیں سکتی لیکن جب وسیم اختر میڈیا سے بات کر رہے تھے اس وقت فاروق ستار کہیں نہیں تھے پھر یہ ہے کہ انہیں اگر وسیم اختر کو کوئی ہدایات دینا ہوتیں تو وہ پہلے ہی دے سکتے تھے انہیں ایسے موقع پر فون کرنے کی ضرورت نہ تھی جب ٹی وی سکرین کی وساطت سے ناظرین یہ تمام منظر براہ راست دیکھ بھی رہے تھے اور ارشد ووہرا کی فون پر ہونے والی بات سن بھی رہے تھے دوسری جانب کون تھا؟خیال یہ ہے کہ یہ ہدایات لندن سے آ رہی تھیں۔ اگر یہ کال لندن سے آئی تھی تو اس سے یہ تاثر تو زائل ہو گیا کہ کراچی کی رابطہ کمیٹی، لندن کی ہدایات سے بے نیاز ہو گئی ہے اور اب فیصلے کراچی میں ہوں گے، لندن میں نہیں۔ فون کال نے بہرحال اس تاثر کی نفی کر دی ہے۔

وسیم اختر نے میڈیا سے بات چیت میں پیپلزپارٹی کا تذکرہ نہیں کیا جس کے ساتھ ایم کیو ایم طویل عرصے تک اتحادی رہی ہے اس کے ساتھ وفاقی اور سندھ حکومت میں شامل رہی ہے۔ دونوں حکومتوں میں پرکشش وزارتوں پر فائز رہی ہے تاہم اس حکومت کو ایم کیو ایم نے کبھی اپنی حکومت نہیں مانا اور کہا کہ ہم تو اپوزیشن ہیں حالانکہ حکومت کے مزے انہوں نے پیپلزپارٹی سے بھی زیادہ لئے۔ بہرحال اب وہ دور چلا گیا۔ وسیم اختر اپنی بات چیت میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مخاطب ہوئے ان کا نام بھی لیا اور ان سے جیل میں دفتر بھی مانگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلدیہ کراچی کو جیل سے چلاتے رہیں گے۔ ان کا کہنا درست ہے اگرکم و بیش ربع صدی سے ایم کیو ایم کو لندن سے چلایا جا سکتا ہے تو ایک ہی شہر کی جیل میں بیٹھ کر بلدیہ کو چلانا کون سا مشکل کام ہے ؟

اب وسیم اختر میئر منتخب ہوئے ہیں ان کے خلاف جو مقدمہ دائر ہے اس کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے اور وہ رہا ہو جاتے ہیں تو جیل سے رہائی کے بعد جب وہ منصب سنبھالیں گے تو ان کے سامنے کراچی میں جو بڑے بڑے مسائل ہوں گے۔ ان میں سب سے بڑا تو یہ ہے کہ کراچی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے اس کی صفائی کی حالت بہتر بناتا ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔ سٹریٹ کرائمز بھی عام ہیں اب معلوم نہیں ان کی روک تھام ان کے دائرہ کار میں آئیگی یا نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ وفاقی حکومت ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹم میں جو معاونت کر رہی ہے اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو ایک بڑا مسئلہ حل ہو جائیگا پانی کا مسئلہ بھی شہر کا بڑا مسئلہ ہے اور ٹینکر مافیا سرکاری پانی چوری کر کے ٹینکروں میں بھر کر من مانی قیمتوں پر شہریوں کو سپلائی کرتا ہے۔ خراب سڑکیں بھی شہر کا بڑا مسئلہ ہے۔ جن کی حالت درست کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ تجاوزات نے شہر کا حسن تباہ کر دیا ہے او راس میں اتنا بڑا لینڈ مافیا ملوث ہے جس کا مقابلہ بہت بڑا کارنامہ ہو گا ’’چائنہ کٹنگ‘‘ کے ذریعے شہر کے رفاہی پلاٹوں کو چھوٹے چھوٹے پلاٹ بنا کر فروخت کر دیا گیا ہے یہ کام تاحال جاری ہے کیا اسے بند کرنا ممکن ہو گا؟لینڈ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ وہ ایک میئر کو آسانی سے ناکام بنا سکتا ہے اور وسیم اختر کی تو ویسے ہی اتنی زیادہ محدودات ہیں جن کی وجہ سے ان کے مسائل بڑھ جائیں گے۔ پارکنگ بھی شہر کے بڑے مسائل میں شمار ہوتی ہے، کھلے مین ہول جگہ جگہ حادثات کا باعث بن رہے ہیں، کیا ان مسائل پر قابو پانا ممکن ہو گا ۔ اس کا جواب تو اس وقت ملے گا جب وسیم اختر اختیارات سنبھالیں گے۔

مزید : تجزیہ