پنجاب اسمبلی، مفاد عامہ کے 5آرڈیننس اور 4بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد

پنجاب اسمبلی، مفاد عامہ کے 5آرڈیننس اور 4بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد

لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں پیش کئے گئے مفاد عامہ کے5آرڈیننس اور 4بل پیش متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد ،سوال کو موخر نہ کرنے پر احسن ریاض فتیانہ جذباتی ہوگئے،پارلیمانی سیکرٹری برائے انفارمیشن رانا ارشد ممبران کے سوالوں کے صحیح جوابات نہ دے سکے،وقفہ سوالات کے موقع پرسیکرٹری لائیوسٹاک کی عدم موجودگی پرارکان کا احتجاج ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گذشتہ روز ایک گھنٹہ10منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خان کے زیر صدارت شروع ہوا۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سرکاری کارروائی کے دوران 5ترمیمی آرڈنینسوں اور 4ترمیمی مسودات قانون کو ایوان میں پیش کیا گیا۔ جنہیں سپیکر نے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے کرتے ہوئے 2ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی جانب سے پیش کیے گئے ترمیمی آرڈیننس میں ترمیمی آرڈیننس صوبائی موٹر گاڑیاں2016، ترمیمی آرڈیننس زراعت فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پنجاب2016ء ترمیمی آرڈیننس صوبائی موٹرگاڑیاں2016اور ترمیمی آرڈیننس مقامی حکومت پنجاب2016جبکہ ایوان میں پیش کیے گئے ترمیمی مسودات قانون میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب2016ء پارکس اینڈ ہارٹی کلچرل پنجاب2016، ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور2016ء اور مسودہ قانون ترمیمی صوبائی موٹرگاڑیاں2016ء شامل ہیں۔قبل ازیں اجلاس میں محکمہ لائیوسٹاک، زراعت اور انفارمیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات رانا محمد ارشد کی جانب سے دئیے گئے جوابات پر ارکان اسمبلی محظوظ ہوتے رہے۔ ایوان میں یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب امجد علی جاوید نے محکمہ اطلاعات کے ادارہ جاتی بجٹ اور ان کی خدمات سے متعلق سوال کیا۔ امجد علی جاوید کا استفسار کہ محکمہ اطلاعات کے دو شعبہ جات مجلس ترقی ادب اور باب پاکستان فاؤنڈیشن کی کیا ذمہ داریاں ہیں جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے تاریخ پاکستان کے بارے میں بتانا شروع کردیا ۔ محرک نے سپیکر پر واضح کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد ان کے سوال کا جواب دینے کی بجائے پاکستان سٹیڈیز بیان کررہے ہیں۔ رانا ارشد کا کہنا تھا کہ مجلس ترقی ادب وفارسی کی کتابوں کا ترجمہ کرکے نوجوانوں کو معلومات فراہم کرتا ہے اور اگر اردو زبان سمجھ نہ آئے تو پنجابی میں ترجمہ کرکے معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس دوران رانا ارشد اپنی اگلی نشست پر بیٹھے وزیر لیبر راجہ اشفاق سرور سے معلومات لیتے رہے۔ اس موقع پر رکن اسمبلی میاں طاہر جمیل نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری کو ان اداروں کو کچھ نہیں پتہ وہ یہ بتادیں کہ لائل پور میوزیم کہاں ہے تو میں مان جاؤں گا۔ رانا ارشد نے باب پاکستان سے متعلق سوال پر جواب دینے کے بجائے پاکستان سٹڈیز پر بات شروع کی تو اپوزیشن پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد نے باب پاکستان کے حوالے سے غلط بیانی کی ہے۔پنجاب حکومت نے گزشتہ آٹھ برسوں میں اس منصوبے پر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا۔ وہاں پر گھوڑے اوردیگر جانور بندھے ہوئے ہیں۔ منصوبے کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ جو شہدائے پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید وسیم اختر رکن اسمبلی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کا باب پاکستان کی 100کنال کی اراضی پر بندر بانٹ کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر 2006ء میں معمولی رقم خرچ کی گئی۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں مرحوم کی جانب سے منصوبے کے تیار کرائے گئے ڈیزائن کو ختم کردیا گیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کیا اپوزیشن اور حکومتی رکن پارلیمنٹ پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو قومی اہمیت کے اس منصوبے کا جائزہ لے اور ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے حکومتی رکن مدیحہ رانا کی ایک تحریک استحقاق استحقاق کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے دوماہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مدیحہ رانا نے اپنی تحریک استحقاق میں کہا کہ تھانہ پیپلزکالونی فیصل آباد کے ایس ایچ او رانا غفار اور تفتیشی سرفراز نامی اے ایس آئی کے توہین آمیز رویے کے خلاف تھی۔پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے محکمہ صحت پنجاب سے متعلق 2 تحاریک التوائے کار کے جوابات دئیے۔اجلاس کے دوران احسن ریاض فتیانہ نے دوسری مرتبہ کورم کی نشاندہی کی لیکن 5منٹ گھنٹیاں بجانے کے باوجود کورم پورا نہ ہوا جس پر سپیکر نے اجلاس آج صبح10تک ملتوی کردیا ۔

مزید : صفحہ آخر