افغان مہاجرین کی واپسی کے دوران بڑے پیمانے پر ممنوعہ اشیاء سمگلنگ کا انکشاف

افغان مہاجرین کی واپسی کے دوران بڑے پیمانے پر ممنوعہ اشیاء سمگلنگ کا انکشاف

 خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)افغانستان واپس جانے والے خاندانوں کے ٹرکوں میں بڑے پیمانے پر ممنوعہ اشیاء کی سمگلنگ کا انکشاف ہوا ہے،پشاور سے طورخم تک ٹرکوں کی تلاشی نہیں کی جاتی ،سمگلرز افغانستان جانے والے خاندانوں کو استعمال کرکے فائدہ اٹھارہے ہیں ،ذرائع ،طورخم پر چیکنگ سخت کردی گئی ہے ،کسی گاڑی سے ممنوعہ اشیاء برآمد ہو ئی تو سخت قانونی کارروائی کرینگے،اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لنڈی کوتل رحیم اللہ محسود۔ذرائع کے مطابق پاکستان سے روزانہ تقریباً سینکڑوں افغان خاندان طورخم کے راستہ افغانستان جا تے ہیں افغان خاندانوں کے ٹرکوں کی تلاشی کہیں پر بھی نہیں لی جاتی اس لئے سمگلروں نے فائدہ اٹھانے کیلئے افغان خاندانوں کو لالچ دیکر ممنوعہ اشیاء پاکستان سے افغانستان سمگل کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اس لئے اب کسی بھی ٹرک کو چیکنگ کے بغیر جانے نہیں دیا جائیگاذرائع کے مطابق ممنوعہ اشیاء میں یوریا ،جانور ،میڈیسن او رغیر ملکی کرنسی اور دوسرے اشیاء شامل ہیں جوآسانی سے ا سمگل کئے جاتے ہیں جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس میں ٹرک ڈرائیوارز اور ٹرانسپوٹرز بھی شامل ہیں اس سلسلے میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لنڈی کوتل رحیم اللہ محسود نے رابطہ پر بتایا کہ انھیں اطلاعات موصول ہو ئیں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسی گاڑی سے ممنوعہ اشیاء برآمد ہو ئی تو سخت قانونی کارروائی کرینگے انہوں نے کہا کہ طورخم پر چیکنگ کا سلسلہ مزید سخت کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سیکورٹی اور چیکنگ سخت کریں اور اگر کسی اہلکار نے اس سلسلے میں غفلت کی توا س کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ افغانستان واپس جانے والے خاندانوں کو طورخم میں بہتر سہولیات پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں اور انکے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان افغانوں کو باعزت طریقے سے واپس بھیج دیا جائے اور یہی قومی مفاد کا تقاضا ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول