ہمارا پورا سمندر ریڈ زون میں داخل ہوچکا،میر حاصل بزنجو

ہمارا پورا سمندر ریڈ زون میں داخل ہوچکا،میر حاصل بزنجو

کراچی(اسٹاف رپورٹر)غذائی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے تناظر میں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والی استحکام پذیر فشریز کے بچاؤ کے لیے رضاکارانہ رہنما اصول کے تحت پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے کراچی کی مقامی ہوٹل میں دو روزہ نیشنل ورکشاپ منعقد کیا گیا۔ ورکشاپ میں پہلے روز پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر میر حاصل خان بزنجو، ماہی گیری کے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سعید غنی، پاکستان میں اقوام متحدہ کی تنظیم خوراک اور زراعت کے نمائندے ناصر حیات، پاکستان میں آئی ایل او کی انچارج کیرولن بیٹس، پاکستان فشر فوک فورم اور ورلڈ فورم آف فشر پیپلز کے چیئرمین محمد علی شاہ، مسلم لیگ نواز کے ایم پی اے حاجی شفیع محمد جاموٹ، ڈائریکٹر فشریز ان لینڈ غلام محمد مہر، ڈائریکٹر ان لینڈ فشریز خاور پرویز اعوان، ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز اسرار احمد، ڈائریکٹر فشریز پنجاب افتخار احمد قریشی، ڈائریکٹر فشریز بلوچستان ظہور علی شاہ، پائلر کے کوڈائریکٹر ذوالفقار شاہ، تحقیق دان ڈاکٹر علی ارسلان، پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ اور حکومتی نمائندوں سمیت سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دو روزہ نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ سروے رپورٹ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ہمارا پورا سمندر ریڈ زون میں داخل ہوچکا ہے اور آنے والے 20 سالوں کے بعد شاید اس سمندر سے ہمیں مچھلی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں کرائم کی حد تک مچھلی کا شکار کیا جاتا ہے جو ایک ناجائز عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اس سمندر کو برباد کر رہے ہیں ہمیں ان کیخلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ سمندر میں بڑے پیمانے پر ممنوعہ جالوں کا استعمال ہو رہا ہے، جس سے مچھلی کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 15 ہزار سے زائد ٹرالرز نقصاندہ جال استعمال کر رہے ہیں جو سمندر میں نہ صرف مچھلی کے بچے بلکہ سمندری جڑی بوٹیوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سمندری گندگی میں اضافے کی وجہ سے اس وقت یورپی ممالک نے ہماری مچھلی کو برآمد کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، اگر اسی عمل سے سمندری گندگی بڑھتی رہی تو آنے والے دنوں میں غیر ملکی سمندری جہاز بھی ہماری پورٹ پر آنا بند کردیں گے، جو ملکی معیشت کیلئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس عمل کیخلاف صوبائی ماہی گیری کے محکمات قدم نہیں اٹھائیں گے تب تک کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں متعدد ڈائریکٹر فشریز موجود ہیں، لیکن وہ خود رشوت کے عیوض مچھلی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سطح کے ورکشاپ میں جن چھوٹے پیمانے کی ماہی گیری کی بات کی جاتی ہے ایک مثبت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آپ تمام ماہی گیر نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے اور ہم سب ملکر ماہی گیری شعبہ میں موجود تمام گندگی کو دور کریں گے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ماہی گیری کے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے کہا کہ میرا تعلق بھی سندھ کی ساحلی پٹی سے ہے اور میں ماہی گیروں کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں۔ انہوں نے کہا میں ہم نے محکمہ فشریز کے افسران کو ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے ہدایات جاری کی ہیں اور جلد ہی محکمہ فشریز میں ایڈوائری کونسل کو تشکیل دیا جائیگا۔ انہوں نے پاکستان فشر فوک فورم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدین سے کراچی تک کے ماہی گیروں کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ماہی گیروں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں نقصاندہ جالوں کے استعمال سے مچھلی کے ذخائر بڑے پیمانے پر ختم ہو رہے ہیں، جس کے متعلق حکومت فوری اقدام اٹھائے گی۔ اس موقع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا کہ غذائی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے تناظر میں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والی استحکام پذیر فشریز کے بچاؤ کے لیے رضاکارانہ رہنما اصول (ایس ایس ایف) کو اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے رکن ممالک کی طرف سے اختیار کیا گیا تھا اورپھر جون 2014ء میں اس کی بہ طور بین الاقوامی قوانین باقاعدہ طور پر منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس ایف رہنما اصولوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں دنیا بھر میں اپنی حیثیت اور فشریز کے شعبے میں اپنے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ماہی گیروں کی انتہائی طویل جدوجہد کے نتیجے میں تخلیق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ماہی گیر دراصل مچھلیوں پر چلنے والی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم فشریز کے شعبے میں جدیدیت کے عمل کے دوران انہیں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اکثر امتیاز کا نشانہ تک بنایا گیا ہے۔ اس منفی طرزِ عمل کے باوجود یہ شعبہ زیادہ تر ممالک میں متحرک انداز میں رواں دواں ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک میں ،کئی دہائیوں تک ’’سرکاری طور پر نظرانداز کرنے‘‘ کے نتیجے میں مچھلیوں کے شکار میں سب سے بڑا حصہ رکھنے والے ، چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ماہی گیروں کی برادری اب تک غربت اور پسماندگی کا شکار ہے اور سماجی و معاشی اور ثقافتی ترقی کے انسانی حقوق سے محروم ہے۔مسلم لیگ نواز کے ایم پی اے حاجی شفیع محمد جاموٹ نے کہا کہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہی گیری شعبہ کو بچانے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محکمہ ماہی گیری کو اوور فشنگ کے عمل کو روکنا ہوگا، اگر اوور فشنگ اور نقصاندہ جالوں کے استعمال کیخلاف جلد اقدام نہیں اٹھائے گئے تو وہ دن دور نہیں جب سمندر مچھلی کے ذخائر سے مکمل طور خالی ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے جیٹیوں پر صفائی کا خاص بندوبست کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ جیٹیوں پر صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مچھلی بیرون ممالک برآمد نہیں ہو رہی، جس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دو روزہ نیشنل ورکشاپ سے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سعید غنی، اقوام متحدہ کی تنظیم خوراک اور زراعت کے نمائندے ناصر حیات، ڈائریکٹر فشریز ان لینڈ غلام محمد مہر، ڈائریکٹر فشریز ان لینڈ خاور پرویز اعوان، ڈائریکٹر جنرل میرین اسرار احمد، ڈائریکٹر فشریز پنجاب افتخار احمد قریشی، ڈائریکٹر فشریز بلوچستان ظہور علی شاہ، پائلر کے کوڈائریکٹر ذوالفقار شاہ، تحقیق دان ڈاکٹر علی ارسلان، پاکستان فشر فوک فورم کے وائس چیئرمین مصطفی میرانی، جنرل سیکریٹری سعید بلوچ، مینیجر پروگرامز جمیل جونیجو و دیگر نے خطاب کیا۔ نیشنل ورکشاپ آج دوسرے روز بھی جاری رہے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر