محکمہ ڈاکخانہ جات کے ریٹائرڈ ملازم کو بھرتی نہ کرنے پر پوسٹماسٹر جنرل کو 3 ہفتوں کی مہلت

محکمہ ڈاکخانہ جات کے ریٹائرڈ ملازم کو بھرتی نہ کرنے پر پوسٹماسٹر جنرل کو 3 ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس ا براہیم خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے عدالتی احکامات کے باوجود محکمہ ڈاکخانہ جات کے ریٹائرڈملازم کو بھرتی نہ کرنے کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پرپوسٹماسٹرجنرل کو تین ہفتوں میں عدالتی احکامات پرعملدرآمد کویقینی بنانے بصورت دیگرتوہین عدالت کی کاروائی کرنے کے ا حکامات جاری کردئیے ہیں فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گذار شاہد احمد کی توہین عدالت کی درخواست پر جاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایا گیاکہ درخواست گذارکاوالدمحکمہ پوسٹ آفس میں تعینات تھااور2011ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کے کوٹہ پردرخواست گذار نے درخواست دی تاہم اسے نظرانداز کردیاگیا جس پر2015ء میں پشاورہائی کورٹ نے درخواست گذار کوبھرتی کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اس کے باوجود اسے بھرتی نہیں کیاگیا جو توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے لہذاپوسٹماسٹرجنرل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے اس موقع پرپاکستان پوسٹ آفس کی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ رئیسہ عاتشہ نے پوسٹماسٹرجنرل کی جانب سے ایک اعلامیہ پیش کیاجس کے تحت ڈیلی ویج ملازمین کی بھرتی پرپابندئی عائد ہے اور درخواست گذار نے ڈیلی ویج ملازمت کیلئے درخواست دی تھی تاہم عدالتی احکامات پرعملدرآمد کویقینی بنایاجائے گا عدالت کو بتایا فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد پوسٹماسٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ تین ہفتوں میں عدالتی احکاما ت پر عملدرآمدکویقینی بنائے بصورت دیگر اس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر