اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی۔۔۔ فراز کو دنیا سے گئے 8برس بیت گئے، کلام کا اثر آج بھی باقی

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی۔۔۔ فراز کو دنیا سے گئے 8برس بیت گئے، کلام کا اثر آج ...
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی۔۔۔ فراز کو دنیا سے گئے 8برس بیت گئے، کلام کا اثر آج بھی باقی

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اپنے لفظوں سے شاعری کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے والے احمد فراز کی آٹھویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ خوابوں کو لفظوں کا روپ دینے والے احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ وہ 12 جنوری 1931ءکو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار منسلک ہو گئے۔ احمد فراز عہد حاضر کے مقبول ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ فراز کی شاعری کا مرکز اگرچہ محبت اور غم جاناں رہا مگر معاشرتی نا ہمواریوں کے خلاف نعرہ بغاوت بھی پوری شدت کے ساتھ بلند کیا۔ جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں بھی جھیلنی پڑیں اور جلاوطنی بھی اختیار کرنی پڑی۔احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں تنہا تنہا، درد آشوب، شب خون، مرے خواب ریزہ ریزہ، جاناں جاناں، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، سب آوازیں میری ہیں، پس انداز موسم، بودلک، غزل بہانہ کروں اور اے عشق جنوں پیشہ کے نام شامل ہیں۔احمد فراز کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔ احمد فراز 25 اگست 2008ءکو اسلام آباد میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

مزید : تفریح