کابل میں یونیورسٹی پر حملہ ،ہلاکتوں کی تعداد 13ہوگئی،پولیس کا دو دہشتگرد مارنے کا دعویٰ

کابل میں یونیورسٹی پر حملہ ،ہلاکتوں کی تعداد 13ہوگئی،پولیس کا دو دہشتگرد ...
کابل میں یونیورسٹی پر حملہ ،ہلاکتوں کی تعداد 13ہوگئی،پولیس کا دو دہشتگرد مارنے کا دعویٰ

  


کابل (صباح نیوز+ اے پی پی+آئی این پی) کابل میں قائم امریکن یونیورسٹی آف افغانستان کے کیمپس پر عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک طالب علم ہلاک اور 14 طلباءزخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض طلباءنے یونیورسٹی کی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگیں لگا دیں۔ درجنوں افراد محصور ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی پر حملے کے بعد طلبہ اور ایک اہلکار کلاس رومز میں پھنس گئے۔ دھماکے اور فائرنگ کی آواز سنی گئی۔ ایک طالب علم نے فون پر بتایا کہ میں نے قریب ہی دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں جس کے بعد میری کلاس میں ہر طرف دھواں اور گردوغبار پھیل گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم اندر پھنس گئے ہیں۔ حملہ آور رات گئے عمارت میں موجود تھے۔ پھنسے طلباءنے مدد کیلئے ٹوئٹر پر ٹوئٹ شروع کر دیئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹو گرافر مسعود حسینی بھی محصورین میں شامل تھے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر ایک بیان شائع کیا ہے۔ بقول ان کے فائرنگ کے بعد دھماکے ہوئے اور ہو سکتا ہے یہ میرے آخری ٹوئیٹس ہوں۔ 2006ءمیں قائم کی جانے والی یونیورسٹی میں 1700سے زائد طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ ترجمان نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ افغان حکام نے بتایا متعدد حملہ آور اندر داخل ہو گئے تھے۔ غیرملکی پروفیسروں سمیت سینکڑوں طلبا موجود ہیں۔ سپیشل فورسز آپریشن کر رہی ہیں۔ امریکی اہلکار صرف مشاورت دیتے رہے۔

ترجمان وائٹ ہائوس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طالب علم احمد مختار کے مطابق انہوں نے کیمپس میں موجود طلباءو طالبات کی چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں۔ ادھر صوبہ ننگرہار کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں میں داعش کے 24جنگجو ہلاک اور کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے تاہم امریکی اور افغان فورسز نے ہلمند میں طالبان کے خلاف آپریشن تیز کر دیا ہے فضائیہ بھی حصہ لے رہی ہے۔ ترجمان گورنر نے کہا متعدد طالبان مارے جا چکے۔ جلال آباد میں قبائلی عمائدین کی جانب سے زمینوں پر قبضے کے خلاف خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ خواتین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں خودسوزی کی دھمکی بھی دی۔ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے کہا کہ ہمیں امریکی فوجی کی ہلاکت پر بہت دکھ ہے لیکن افغانوں اور ان کے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے تعاون جاری رکھا جائے گا۔ حملہ کے بعد یونیورسٹی میں غیرملکی عملہ کے ارکان محصور ہو کر رہ گئے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا ہے کہ بہت سے طلباءکو نکال لیا گیا ہے اور کسی شخص کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاع نہیں۔ حملہ آوروں کی تعداد کا علم نہیں، آپریشن کلیئرنس شروع کیا گیا ہے۔ حملہ کے وقت فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ نیٹو ملٹری کے ارکان افغان حکام کی مدد کر رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی