ترک اور شامی باغیوں کا مشترکہ حملہ ،داعش جرابلس سے بھاگ نکلی

ترک اور شامی باغیوں کا مشترکہ حملہ ،داعش جرابلس سے بھاگ نکلی
 ترک اور شامی باغیوں کا مشترکہ حملہ ،داعش جرابلس سے بھاگ نکلی

  


انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک )شام میںترک اور باغی فورسز نے بھر پور کارروائی کرتے ہوئے شدت پسند گروپ داعش کو جرابلس سے پسپا کرکے علاقے پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔سلطان مراد باغی گروپ کے کمانڈر احمد عثمان نے بھی جرابلس آزاد ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی قبضہ بحال ہونے کی تصدیق کی ہے۔تفصیلات کے مطابق ترک اور باغی فورسز نے جرابلس کو داعش سے آزاد کرانے کے لئے بھر پور کارروائی کی جس میں بھارتی توپ خانہ بھی استعمال کیا گیا ۔ کارروائی کے نتیجے میں دو سال سے جرابلس پر قابض داعش پسپا ہوگئی جس کے بعد باغیوں نے اپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کارروائی میں امریکی لڑاکا طیاروں نے بھی ترک اور شامی باغی فورسز کو فضائی حملوں سے مدد فراہم کی ۔یہ پہلا موقع ہے کہ دو سال قبل عراق و شام کے وسیع رقبے پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کرنے والا داعش اپنے زیر تسلط علاقے پر ہونے والے کسی حملے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی وہاں سے پسپا ہوا ہے۔ برطانیہ میں قائم تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجووں کی طرف سے "بہت کم مزاحمت" دیکھنے میں آئی اور وہ قریبی دیہاتوں کی طرف فرار ہو گئے۔انقرہ کا کہنا تھا کہ اس سریع حملے کا مقصد سرحدی علاقے سے داعش کے شدت پسندوں اور شامی کردوں سے پاک کرنا تھا۔

کابل میں یونیورسٹی پر حملہ ،ہلاکتوں کی تعداد 13ہوگئی،پولیس کا دو دہشتگرد مارنے کا دعویٰ

شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ ترکی کی طرف سے پہلی قابل ذکر مداخلت تھی۔۔شامی باغی فورسز کے تقریباً 1500 جنگجو اس کارروائی میں شامل تھے۔

مزید : بین الاقوامی