ایمبولینس کے پیسے نہ تھے، شوہر بیوی کی لاش کندھے پر اٹھا کر 12کلومیٹر پیدل چلتا رہا

ایمبولینس کے پیسے نہ تھے، شوہر بیوی کی لاش کندھے پر اٹھا کر 12کلومیٹر پیدل ...
ایمبولینس کے پیسے نہ تھے، شوہر بیوی کی لاش کندھے پر اٹھا کر 12کلومیٹر پیدل چلتا رہا

  


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی ریاست اڑیسہ میں ہسپتال نے ایمبولینس فراہم نہ کی جب کہ پرائیویٹ ایمبولینس کے پیسے نہ ہونے پر مقامی شخص اپنی بیوی کی لاش کندھے پر رکھ کر چل پڑا اور 60کلومیٹردورواقع اپنے گاﺅں کی طرف پیدل چل پڑا۔ 

واقعہ کی ویڈیو نے منظر عام پر آکر ہنگامہ برپا کردیا۔سینکڑوں لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مذکورہ شخص سے ہمدردی اور حکام اور مقامی شہریوں کی بے حسی پر پر بھرپور آرا کا اظہار کیا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کے درمیان سے گزرتے اس شخص کیساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو مسلسل روتی ہوئی ساتھ ساتھ چل رہی تھی لیکن معاشرے کی بے حسی کا اندازہ کیجئے کہ کوئی بھی شخص ان کی مدد کو نہ آیا۔بی بی سی اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 40سالہ دانا ماجھی نامی شہری منگل کی رات اپنی بیوی کو بیماری کے باعث اپنے گاﺅں سے60 کلومیٹر دورواقع ایک ضلعی ہسپتال بھوانی پٹنہ میں لایا تھا جہاں وہ دم توڑ گئی۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ دانا ماجھی اپنی بیوی کو منگل کی رات لایا تھا اور اسی رات خاموشی سے بنا بتائے چلا گیا ،جبکہ دانا ماجھی کا کہنا ہے کہ وہ رات اس نے وہیں گزاری اگلی صبح انتطامیہ سے ایمبولینس فراہم کرنے کیلئے منت سماجت کی لیکن وہ نہ مانے الٹا لاش کو جلد ہسپتال سے لے جانے کی ہدایات کرتے رہے۔غربت کی وجہ سے میں پرائیویٹ ایمبولینس کا انتظام نہیں کرسکتا تھا۔میں نے کئی لوگوں سے مدد کی التجا کی،لیکن کسی نے نہ سنی ۔اس لئے میرے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں تھاکہ میں اپنے کندھوں پر اٹھا کر چل پڑوں،پس میں چل دیا۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹرپر حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

دانا ماجھی اپنی بیوی کی لاش اور بارہ سالہ بیٹی چاﺅلہ کیساتھ 12کلومیٹر تک پیدل چلتا رہا کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔تاہم 12کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد ایک نجی ٹی وی کی ٹیم جو کہ وہاں سے ایک گاڑی پر گزررہی تھی رکی اور اس کی مدد کو آئی۔ٹی وی ٹیم کی مدد سے ایمبولینس کا انتظام کرلیا گیا اوریوں وہ شخص اپنی بیوی کو لے کر آبائی گاﺅں پہنچا جہاں بدھ کی شام اس نے اپنی بیوی کی آخری رسومات اداکیں۔

دریں اثنا کلاہنڈی نامی علاقے کی کلکٹربرونڈا ڈی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں اس واقعہ کی خبر ملی انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی اور اس شخص کو ایمبولینس کی فراہمی یقینی بنائی،مذکورہ شخص کوایک حکومتی سکیم کے تحت 2000روپے آخری رسومات کیلئے دیئے گئے جبکہ ریڈ کراس کی جانب سے 10ہزار روپے بھی دیئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں ریاست نے ہلاک ہونے والے شہریوں کیلئے ہسپتالوں میں مفت ایمبولینس سروس کی فراہمی کا اعلان کیا تھا تاہم اب بھی ریاست میں اکثر لاشیں موٹرسائیکلیں،ٹرالیوں یا ریڑھیوں کے ذریعہ منتقل کی جاتی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی