برطانیہ :فون پر’ الحمداللہ ‘لکھا دیکھ کر دوبہنوں کو بھائی سمیت جہاز سے اتار دیا گیا

برطانیہ :فون پر’ الحمداللہ ‘لکھا دیکھ کر دوبہنوں کو بھائی سمیت جہاز سے اتار ...
برطانیہ :فون پر’ الحمداللہ ‘لکھا دیکھ کر دوبہنوں کو بھائی سمیت جہاز سے اتار دیا گیا

  


لندن(نیوز ڈیسک)برطانیہ سے اٹلی جانے والی دو بہنوں اور ان کے بھائی کوفون پر ’داعش سے متعلق مواد‘پڑھنے کے الزام پر ایزی جیٹ فلائٹ سے اتار دیا گیا۔

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق مریم ڈھارس،سکینہ ڈھارس اور ان کے بھائی علی ڈھارس 18اگست کو سٹانٹد سے نیپلز جا رہے تھے کہ انہیں کیبن کریو کے ایک ممبر نے طیارے سے اتارے جانے کے بارے میں بتایا۔

مذکورہ بہنوں اور ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں مسلح پولیس اہلکاروں اور سیاہ پوش افراد کے گھیرے میں طیارے سے اتارا گیااور اترتے ہی ان سے پوچا کہ کیا وہ انگریزی بولنا جانتے ہیں؟جس پر سکینہ نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ صرف انگریزی بولنا ہی جانتے ہیںکیونکہ تینوں شمال مغربی لندن میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔سکینہ کو بتایاگیا کہ ان کے ساتھ بیٹھے ایک مسار نے شکایت کی ہے کہ سکینہ وغیرہ کے فون پرایک عربی لائن لکھی ہے ،جس پر مسافر نے سکینہ اور اس کے بھائی بہن پرداعش سے منسلک ہونے کا الزام لگادیا۔مریم کے مطابق شکایت ایک جوڑے کی جانب سے لگائی گئی کہ ہم (یعنی مریم اور اس کے بھائی، بہن)داعش سے متعلق مواد پڑھ رہے ہیں۔مریم کے مطابق ہمیں سکارف پہننے پر اس سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ہم حیران رہ گئے کہ یہ ہو کیا رہا ہے کیونکہ ہم میں سے کوئی ایسی کسی چیز سے واقف تک نہ تھا۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹرپر حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مریم نے کہا کہ ہم اپے والد سے واٹس ایپ پر بات کر رہے تھے،جبکہ مذکورہ عربی لفظ ’الحمداللہ ‘ ہمارے فون میں کسی کمیونیکیشن میں نہیں تھا اور گر اس پر لکھا بھی ہوتا تو یہ قرآن پاک کے الفاظ ہیں ،ہمارے مذہبی کلمات ہیں۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہمارا تعلق داعش سے ہے۔

بعدازاں پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بعد تینوں کو سفر ی اجازت دیدی گئی۔جب کہ فضائی کمپنی نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے معذرت کی ہے۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق مذکورہ بہنوں اور بھائی کا آبائی ملک بھارت ہے۔

مزید : برطانیہ