ملتان کے نوجوان نے انٹرنیٹ پر صرف ایک دن میں 5لاکھ روپے کماڈالے، مگر کیسے؟ ایسا طریقہ بتادیا کہ ہر پاکستانی نوجوان فائدہ اٹھاسکتا ہے

ملتان کے نوجوان نے انٹرنیٹ پر صرف ایک دن میں 5لاکھ روپے کماڈالے، مگر کیسے؟ ...
ملتان کے نوجوان نے انٹرنیٹ پر صرف ایک دن میں 5لاکھ روپے کماڈالے، مگر کیسے؟ ایسا طریقہ بتادیا کہ ہر پاکستانی نوجوان فائدہ اٹھاسکتا ہے

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی کی جدت سے فائدہ اٹھایا اور بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔ انہی میں سے ایک ایم تنویر نندلا ہیں۔ ملتان کے رہائشی تنویر نندلاکا اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے محض ایک دن میں پانچ لاکھ روپے کمائے جو یقینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ ویب سائٹ پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق تنویر جب ملتان کی بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بی ایس کر رہے تھے انہوں نے ویب ڈیویلپمنٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اسے سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ویب ڈیویلپمنٹ سیکھنے کے دوران انہیں گوگل ایڈ سینس کے بارے میں معلوم ہوا۔ انہوں نے یولا سائٹ(YolaSite)، یاہو جیوسیٹیز(Yahoo Geo Cities) اور بلاگزپاٹ پر ویب سائٹس بنا کر ایڈسینس کے ذریعے رقم کمانے کی کوشش شروع کی۔ 2007ءمیں ان ویب سائٹس کے ذریعے اس نے 64ڈالر(تقریباً ساڑھے 6ہزار روپے) کمائے۔

نوجوان نے ایسی کمپنی بنائی کہ صرف تین ماہ میں ہی 68 ارب روپے کما لیے،ایسا کیا کام کیا؟جان کر پاکستانی نوجوانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

رپورٹ کے مطابق جلد ہی تنویر نے محسوس کیا کہ ایس ای او(سرچ انجن آپٹمائزیشن) کے بغیر بلاگنگ کا کوئی فائدہ نہیں چنانچہ اس نے ایس ای او سیکھنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے 2008ءمیں اپنی پہلی ویب سائٹ www.pkfunda.comلانچ کر دی جو دنوں میں مقبول ہو گئی تاہم ایک یو ٹیوب ویڈیو پر کاپی کارائٹ کی خلاف ورزی کے باعث گوگل نے اس کا ایڈ سینس اکاﺅنٹ بند کر دیا۔ پھر اس نے دو ویب سائٹس بنائیں، جن میں ایک فیشن اور ایک کھیلوں کی تھی۔ تنویرنندلا کا کہنا ہے کہ اس کی فیشن ویب سائٹ نے دوسرے مہینے سے 1500ڈالر(تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے)ماہانہ کمانے شروع کر دیئے تھے۔ دوسری طرف اس کی سپورٹس ویب سائٹ نے صرف ایک دن میں گوگل اشتہارات کے ذریعے 4500ڈالر(تقریباً 5لاکھ روپے)روپے کمانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ تنویر اب بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچرار ہے اور ساتھ اپنی ویب سائٹس پر بھی کام کر رہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس