کوکاکولا اورپیپسی کا ذائقہ پلاسٹک کی بوتل کی بجائے کین میں بہتر کیوں ہوتا ہے؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ بالآخر معمہ حل ہوگیا

کوکاکولا اورپیپسی کا ذائقہ پلاسٹک کی بوتل کی بجائے کین میں بہتر کیوں ہوتا ...
کوکاکولا اورپیپسی کا ذائقہ پلاسٹک کی بوتل کی بجائے کین میں بہتر کیوں ہوتا ہے؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ بالآخر معمہ حل ہوگیا

  


نیویارک(نیوزڈیسک) آپ نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ کوک اور پیپسی کا ذائقہ کین اور پلاسٹک کی بوتلوں میں کافی فرق ہوتا ہے۔یہ کوئی وہم نہیں بلکہ حقیقت میں ان دونوں کے ذائقے میں فرق ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوک اور پیپسی بنانے والی کمپنیاں ایلمونیم کین اور پلاسٹک بوتلوں میں ایک جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ملاتی ہیں لیکن پلاسٹک کی بوتلوں میں پولی تھائلین ٹرفیٹلیٹ کی مقدار ہونے کی وجہ سے ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ حل ہوجاتی ہے جس سے ان کا ذائقہ تبدیل محسوس ہوتا ہے۔پلاسٹک کی بوتلوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ نکلتی ہے جبکہ کین میں ایسا نہیں ہوتا جس سے ذائقہ میں فرق آتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کمپنیاں پلاسٹک اور کین میں ایک ہی قسم کا فارمولا استعمال کرتی ہیں لیکن صرف کین اور بوتل کو بنائے جانے والے میٹیریل کی وجہ سے ذائقہ مختلف محسوس ہوتا ہے۔

کیا اس طرح جلا ہوا ٹوسٹ کھانا کینسر کا سبب ہوتا ہے؟ ماہرین نے تشویشناک حقیقت بتادی، آپ بھی استعمال سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں

ہفنگٹن پوسٹ نے اس سلسلے میں ایک سروے بھی کروایا اور دیکھا کہ لوگ بآسانی کین اور پلاسٹک کی بوتل کے ذائقے میں فرق محسوس کرسکتے ہیں۔”کپ میں پی جانے والی کوک کی نسبت کین والی کوک زیادہ مزیدار تھی“ایک شخص نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔

ویب سائٹ سلیٹ کا کہنا ہے کہ کوک کو ٹھنڈا کرکے پینے میں زیادہ مزہ آتا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اگر سوڈا گرم ہوجائے تو اس میں موجود گیس اوپر چلی جاتی ہے جس سے اس کا ذائقہ تبدیل محسوس ہوتا ہے لہذا جب بھی بوتل پئیں تو اسے ٹھنڈا کرلیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس