A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

عوام اور وی آئی پی : یہ انہونی نہیں ہوسکتی!

عوام اور وی آئی پی : یہ انہونی نہیں ہوسکتی!

Aug 25, 2018

نسیم شاہد

قوم سے اپنے پہلے باقاعدہ خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سرکاری دفاتر میں اُس غریب آدمی کو وی آئی پی سمجھا جائے، جو اپنے روزمرہ مسائل حل کرانے وہاں جاتا ہے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کے حکم سے ملتا جلتا بیانیہ ہے، جنہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو وی آئی پی بنادیا تھا اور انہوں نے سرکاری افسران کے دفاتر پر باقاعدہ چڑھائی کر دی تھی، لیکن عمران خان نے اس حوالے سے ایک احتیاط یہ کی ہے کہ ملک کے پسے ہوئے طبقے کے افراد کو اہمیت دینے کی بات کی ہے اور یہ نہیں کہا کہ وہ دفاتر میں جائیں اور سرکاری ملازمین سے اپنے حقوق چھین لیں۔ اُن کی یہ بات بہت علامتی اور اہم ہے، حقیقت یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں ایک بے وسیلہ شخص مجرم کی طرح جاتا ہے اور اُس کے ساتھ سلوک اچھوتوں جیسا کیا جاتا ہے، شاید ہی کوئی دفتر ہو جہاں عام آدمی جائے اور سیدھی طرح اُس کا مسئلہ حل ہو جائے۔اُسے یا تو رشوت دینا پڑتی ہے یا پھر اُس کے پاس کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی چٹ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس سرکاری نظام کو استحصالی، ظالمانہ اور گھسا پٹا کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف وزیر اعظم کے خطاب سے یہ بیماری ختم ہوسکتی ہے؟ ستر برسوں کے اس ظلم کو صرف ایک بیان سے کیسے ختم کیا جاسکتا ہے، جب تک جوابدہی اور محاسبے کا نظام نیچے تک قائم نہیں کیا جاتا۔نئے پاکستان کی حقیقی معنوں میں بنیاد رکھی ہی تب جائے گی، جب عام آدمی اس استحصال زدہ نظام سے چھٹکارہ پائے گا۔

عید سے ایک دن پہلے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کام نہیں کرے گا، وہ صوبہ پنجاب میں نہیں رہے گا۔ اس سے بڑی بڑھک تو سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی ماردیا کرتے تھے، ایسی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا، پھر کام کرنے سے مراد کیا ہے؟سرکاری افسران د فتروں میں آکر بیٹھ جاتے ہیں اور ’’کام‘‘ شروع کردیتے ہیں، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ افسران دفاتر میں حاضر ہوں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کے مسائل حل کئے جائیں۔ سب سے پہلے تو یہ حکم جاری کیا جائے کہ عوام کسی وقت بھی سرکاری دفاتر میں جاسکتے ہیں، افسر سے مل سکتے ہیں، یہ جو سرکاری افسران دربانوں کے پہرے میں چھپ جاتے ہیں، اسے فی الغور ختم کیا جائے، ہر دفتر کے مین گیٹ پر سیکیورٹی چیک کے بعد عوام کو اندر آنے دیا جائے اور تمام افسران کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں، وہ جس سے ملنا چاہتے ہوں، انہیں ملنے کی اجازت ہو۔ یہاں تو کئی کئی دن بے چارے عوام افسر تک رسائی ہی حاصل نہیں کرسکتے، استحصالی نظام کی یہ صورت اس لئے قائم رکھی گئی ہے کہ نچلا عملہ عوام کو تنگ کرکے اُن سے مال بٹور سکے، جس دفتری نظام میں افسران تک رسائی کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہو، اُس سے عام آدمی خیر کی توقع کیسے رکھ سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ریس کورس پارک لاہور میں نماز عید پڑھی اور پھر لوگوں میں گھل مل گئے، سڑک کنارے کھڑے عید ملتے رہے، اس کی وڈیو بنی اور میڈیا پر چلتی رہی۔ یہ اُن کا اچھا عمل تھا، مگر اس سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ مسئلے تو چیف سیکرٹری، سیکرٹریز، کمشنرز، ڈی سی، آئی جی، ڈی آئی جی اور ڈی پی اوز نے حل کرنے ہیں۔وہ تو عوام کی دسترس سے دور ہیں، انہیں تو عوام سے جپھی ڈالتے ہوئے بو آتی ہے، انہوں نے تو خود کو سیکیورٹی کے حصار میں ایسے بند کر رکھا ہے، جیسے وہ کہوٹہ پلانٹ کی حفاظت کر رہے ہوں۔ انہیں یہ باور کراناضروری ہے کہ اب یہ سب ڈرامہ بازی نہیں چل سکتی، انہیں حقیقی معنوں میں عوام کا خادم بننا پڑے گا، کہنے کو پبلک سرونٹ کہلاتے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ عوام کے آقا بن جاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں رشوت ستانی، ناانصافی، ظلم اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دفاتر کو نومین لینڈ بنادیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سادگی اختیار کرنے کی انتہا کردی ہے، مگر وہ سیکرٹریٹ میں بیٹھے چیف سیکرٹری یعنی لاٹ صاحب کی شہنشاہیت دیکھیں تو انہیں لگ پتہ جائے، سارے گورنر، سارے وزرائے اعلیٰ اور وزراء بڑے گھروں میں رہنے کی بجائے چھوٹے گھروں میں رہنے کا اعلان کررہے ہیں، بچت کرنے کا پیغام دے رہے ہیں، مگر اس کا فائدہ تبھی ہوگا، جب بیوروکریسی کو بھی اس عمل کے نیچے لایا جائے گا۔ ہر سرکاری افسر کے دفتر میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے ایک بکس رکھا جائے، جسے صرف اُن کا نامزد کردہ افسر کھولے، اُس میں عوام اُس افسراور اُس محکمے کے بارے میں شکایات ڈالیں۔ اُن شکایات پر خفیہ تحقیقات کراکے کارروائی کی جائے، افسر دیر سے آتا ہے، دفتر کو کتنا وقت دیتا ہے، اُس کے نیچے کام کرنے والا عملہ وقت پر آتا ہے یا نہیں، عوام کی فوری داد رسی کا نظام موجود ہے یا اُن کااستحصال کیا جارہا ہے۔ روزانہ کتنے سائل آتے ہیں، کتنی درخواستوں پر کارروائی ہوتی ہے۔ افسر تک عام آدمی کی رسائی آزادانہ ہے یا اُسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ان سب کے بارے میں عوام سے رائے لی جائے۔ اسے سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے، شکایت درست ہونے کی صورت میں مہینے نہ لگائے جائیں، بلکہ فوری ایکشن لے کر افسر اور اُس کے ماتحتوں کو ہٹا دیا جائے۔ ایک دو بار کی پریکٹس کے بعد سارا نقشہ ہی بدل جائے گا اور جو تبدیلی عوام چاہتے ہیں، وہ انہیں نظر آنے لگے گی۔

یہی کام ہر تھانے میں کیا جائے، تھانے کے باہر ایک سربمہر بکس رکھ کر ایس ایچ او کے بارے میں عوام سے شکایات اکٹھی کی جائیں، اُن شکایات کی بنیاد پر اس بات کا تعین کیا جائے کہ سرکل افسر اور ڈی پی او نے کوتاہی کی یا نہیں؟ کیوں ایس ایچ او اتنا خود مختار اور آزاد تھا کہ عوام کے خلاف جھوٹے پرچے درج کرتا رہا اور انصاف کے لئے آنے والوں سے مجرمانہ سلوک کامرتکب ہوا؟ کئی دہائیوں سے سن رہے ہیں کہ تھانہ کلچر میں تبدیلی لائی جائے گی، مگر وہ تبدیلی اس لئے نہیں آئی کہ حکومتیں ایس ایچ او کی طاقت پر کھڑی ہوتی ہیں، ممبران اسمبلی میں بھی یہی مقابلہ جاری رہتا ہے کہ اپنی پسند کا ایس ایچ او تعینات کرائیں اور پھر اُس کے ہر اچھے برے کام کی سپورٹ کریں۔ تھانوں کے اندر غریب آدمی کو وی آئی پی سمجھنا ایک ایسا خواب ہے، جس کی تعبیر آسان نہیں۔عمران خان خیبرپختونخوا کے طرز پر پنجاب پولیس کی اصلاح چاہتے ہیں، ممکن ہے کچھ رشوت کم ہوجائے، کچھ ماردھاڑ کے مناظر میں کمی آجائے، ایف آئی آر آسانی سے درج ہونے لگے، لیکن برسوں سے بگڑے ہوئے پولیس کلچر اور ذہنیت کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ پولیس اہلکاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وہ قانون سے ماورا ہیں اور انہوں نے وردی نہیں،بلکہ شیر کی کھال پہن رکھی ہے، جس کے باعث کوئی اُن کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ پنجاب پولیس کا ہی حربہ ہے کہ اُس کے ایس ایچ اوز نے غیر سرکاری ٹارچر سیل بنا رکھے ہیں، جہاں لوگوں کو رکھتے ہیں اور لین دین کرتے ہیں۔یہ برائی اس لئے پروان چڑھی ہے کہ افسران تو ایک دو سال کے لئے آتے ہیں اور دوسرے شہر تبدیل کردیئے جاتے ہیں، لیکن یہ ایس ایچ اوز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور محرر ساری زندگی ایک ہی ضلع میں گزار دیتے ہیں۔ ان کے جرائم پیشہ لوگوں سے روابطہ بن جاتے ہیں، ان کی گرفت اس قدر مضبوط ہو جاتی ہے کہ جب چاہتے ہیں ضلع میں جرائم کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔

نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او کو دام میں لانے کے لئے اُس کے چارج سنبھالتے ہی جرائم کی بھرمار کرتے ہیں، اپنے مجرموں سے تعلقات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈکیتی، چوری اورراہزنی کی وارداتوں میں اضافہ کرتے ہیں، جس پر بے چارہ سی ایس پی پولیس افسر اُن کے آگے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ خدارا جرائم کو کنٹرول کرو، وگرنہ میری نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔عمران خان غریب عوام کو وی آئی پی کا درجہ دینا چاہتے ہیں، یہ بہت اعلیٰ خیال ہے اور ایک ہمدرد حکمران کی نیت و انکساری کو ظاہر کرتا ہے، تاہم جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا، دفتری پیچیدہ نظام کی اصلاح نہیں ہوتی، چھوٹے چھوٹے معاملات کو الجھانے کے لئے افسروں اور اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات کو ختم کرکے طریقہ کار کو آسان نہیں بنایا جاتا، عوام کسی صورت وی آئی پی نہیں بن سکیں گے، بلکہ الٹا مزید اس نظام کے ہاتھوں غلام بنتے چلے جائیں گے۔

صرف کہہ دینے سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا، اس کے لئے ایک طرف پولیس رولز کا جائزہ لیا جائے جو آج بھی انگریز دور کے چلے آرہے ہیں اور دوسری طرف ڈپٹی کمشنر جیسے لاٹ صاحب کے نظام میں اصلاح کی جائے۔اس وقت ایک اٹھارویں گریڈ کا افسر پورے ضلع کا مالک بن جاتا ہے، اُس میں صلاحیت ہو یا نہ ہو، وہ ضلع پر مسلط ہو جاتا ہے، اُس کے نیچے درجنوں محکمے کام کرتے ہیں، اُس کے پاس وقت بھی بہت کم ہوتا ہے اور اُسے یہ فکر بھی ہوتی ہے، مگر مال بھی بنانا ہے، کیونکہ پھر نجانے ڈپٹی کمشنری ملے یا نہ ملے۔ سو وہ دوسری طرف کو چل پڑتا ہے، عوام کو ریلیف دینا یا اُن کی عزت نفس کو تحفظ دینا اُس کی ترجیحات میں نہیں رہتا، معاملہ بہت اُلجھاہوا ہے، البتہ اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ وزیر اعظم عمران خان موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں، ممکن ہے اس بار وہ خواب پورے ہو جائیں، جو ستر برسوں سے شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے۔

مزیدخبریں