سِدھو جیسے بُدھو لوگ

سِدھو جیسے بُدھو لوگ
سِدھو جیسے بُدھو لوگ

  

بھارتی ٹی وی چینلوں پر سدھو کو دیکھئے تو لگتا ہے کہ اسے بھنگ کے پکوڑے کھلا کر پروگراموں میں بٹھایا جاتا ہے ، اس قدر ہنستا ہے کہ بعض اوقات تو خود ہنسی کو بھی اس پر ہنسی آتی ہوگی۔

اب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے آئے تو جتنا غصہ بھارتیوں نے اس پر کیا ہے اتنا غصہ تو پاکستانیوں نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر نہیں کیا ہے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ سرحد پار سے آکر ،سرحد پار کے لوگوں کو ....وہ خاصا حد میں لے آیا ہے حد سے پار کے لوگوں کو!....خصوصاً یہ یاد دلا کر کہ اگر پاکستان سے خیر سگالی کا رشتہ نہیں تو بھارتی ٹیم نے بلے پر دستخط کرکے عمران خان کے لئے تحفہ کیوں بھیجا ہے؟

بھارتی انتہا پسند تنظیم نے اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے رکھ دی ہے ، حالانکہ اس سے زیادہ قیمت تو اس کی پگڑی کی ہوتی ہے جسے وہ بصد اہتمام سر پر سجاتا ہے اور پھر اس سے میچنگ ٹائی پہنتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں اس کی شرکت کو غداری سے تعبیر کیا جارہا ہے جبکہ سدھو کے نزدیک یہ وہ بیداری ہے جس کا آغاز اس کے دورے سے ہوجانا چاہئے۔

اس کے پاکستانی آرمی چیف سے گلے ملنے کا بڑا چرچا ہے جبکہ پاکستانی سوشل میڈیا پر لطیفہ چل رہا ہے کہ سدھو کو بھی معلوم تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام پر کس کو مبارکباد دینی ہے۔ جبکہ ایک اور لطیفہ یہ چل رہا ہے کہ سدھو نے بتایا کہ ملاقات میں جنرل صاحب نے کہا کہ وہ کرکٹر بننا چاہتے تھے مگر جنرل بن گئے تو اس پر اس نے کہا کہ وہ جنرل بننا چاہتا تھا مگر کرکٹر بن گیا۔

ہم کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سدھو کو جوک سے جوت جگانے کا فن آتا ہے ، اس کے چھوٹے اچھوتے جملے اسے ٹی وی چینلوں پر مرکز نگاہ بنائے رہے ۔

اسی لئے تو ہندو انتہا پسند تنظیمیں اس کے سر کی قیمت رکھیں یا اس کی جوتی کی، ایک بات طے ہے کہ سدھو نے ہنستے رہنا ہے، اس نے دوستی کا جھنڈا ہاتھ میں تھاما ہے اور وہ امن کے نعرے گھڑ رہا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا سدھو بدھو کی اس بے وقوفی سے تاریخ کا دھارا الٹا بہہ سکتا ہے یا نہیں ؟

دیکھا جائے تو پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف بھی سدھو کی طرح سیدھے سادے ہیں تبھی تو ان کے اقتدار کی قربانی دے کر عمران خان کی حکومت بنائی گئی ہے ۔

نواز شریف اپنے تئیں اداروں کی توقیر کی خاطر خاموش ہیں جبکہ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ملی بھگت میں شامل ہیں اور اگر واقعی ایسا ہے تو نوجوت سنگھ سدھو کی طرح نواز شریف بڑے حوصلے والے ہیں ۔

خالی نواز شریف ہی نہیں ہمیں تو عمران خان بھی سدھو کے بھائی لگتے ہیں جنھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان کردیا ہے ۔

ان سے کچھ بعید نہیں ہے کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی میں تاخیر ہوئی تو وہ انہیں آگ لگانے کا حکم دے سکتے ہیں کیونکہ وہ جلد از جلد قوم پر اپنی سادگی کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں ۔

ویسے سلیم صافی نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم کی سیکورٹی پر گاڑیوں کی قطار کے تاثر سے بچنے کے لئے عمران خان بذریعہ ہیلی کاپٹر وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالا آجا رہے ہیں ۔

اگر ان کی سادگی کا یہی عالم رہا تو بہت جلد مارکیٹ میں چنگ چی ہیلی کاپٹر متعارف ہو جائیں گے جن پر بیٹھ کر مبشر لقمان جیسے غریب اینکر پاکستان بھر میں پروگرام کرنے جایا کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی نوجوت سنگھ سدھو سے دوسری مماثلت یہ ہے کہ انہوں نے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی ۔ ان کی حالت اس بچے کی سی لگتی ہے جو بندھے ہوئے قربانی کے جانور سے کوسوں دور بھی بھاگتا ہو اور اس کی قربانی دیکھنے کا شوق بھی رکھتا ہو۔ حکومت کی جانب سے پہلا حکم نامہ سن کر ہمیں عمران خان کی وہ تقریر یا د آگئی جس میں وہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ میں انہیں ایسے ہی ذلیل کروں گابلکہ اور ذلیل کروں گا۔

نوجوت سنگھ سدھو ہوں ، نواز شریف ہوں یا عمران خان....یہ سب اسٹیٹس کو کے ہمنوا ہونے کے باوجود اپنے بدھوپن میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ، برصغیر پاک و ہند کو ان جیسے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو نہ صرف آؤٹ آف باکس حل کی بات کرسکتے ہیں بلکہ اس کی طرف قدم بھی بڑھا سکتے ہیں ۔

مزید : رائے /کالم