کیا اپویشن جماعتیں متفقہ صدارتی امیدوار لانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں ؟

25 اگست 2018

قدرت اللہ چوہدری

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 نئے صدارتی انتخابات میں کوئی زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا، لیکن اپوزیشن جماعتیں ابھی تک اپنا کوئی متفقہ امیدوار سامنے نہیں لا سکیں، اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ تین بڑی اپوزیشن جماعتوں نے عجلت میں جو اتحاد بنا لیا تھا اس نے اب تک اختلاف زیادہ کئے ہیں اور اتحاد کا مظاہرہ کم کم کیا ہے یہ طے کر لیا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے امیدوار کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہو گا، سپیکر پیپلزپارٹی سے لیا جائیگا اور ڈپٹی سپیکر کا امیدوار ایم ایم اے سے ہو گا۔چونکہ سپیکر کا انتخاب سب سے پہلے ہو رہاتھا، اس عہدے کے لئے تمام جماعتوں نے اپنے عہد کی پابندی کی، خورشید شاہ متفقہ امیدوار بنائے گئے ، ڈپٹی سپیکر کے لئے بھی ایم ایم اے کے اسد محمود امیدوار بنے، اگرچہ یہ دونوں شکست کھا گئے اور ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ نمبر گیم اپوزیشن کے حق میں نہیں تھی لیکن ان دونوں عہدوں کا انتخاب ہو چکنے کے بعد جب قائد ایوان کے الیکشن کا موقع آیا تو پیپلزپارٹی نے واضح موقف اختیار کیا کہ وہ شہباز شریف کو ووٹ نہیں دے گی بظاہر یہ طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی لیکن پیپلزپارٹی نے راستہ یہ نکالا کہ مسلم لیگ (ن) کوئی دوسرا امیدوار لے آئے تو وہ حمایت کرے گی لیکن شہباز شریف کو ووٹ نہیں دے گی اور پھر ایسا ہی ہوا، وزیر اعظم کے انتخاب میں پیپلزپارٹی غیر جانبدار ہو گئی، حالانکہ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی شہباز شریف نے کون سا وزیر اعظم بن جاتا تھا۔ تحریک انصاف نے چھوٹی جماعتوں سے روابط کر کے ان کے ووٹ پکے کر لئے تھے اور الیکشن کے بعد انہیں وزارتیں بھی دی گئی ہیں، یہاں تک کہ ایم کیو ایم (پ ) کو بھی دو وزارتیں دی گئی ہیں دو نشستوں والے جی ڈی اے کو بھی ایک وزارت مل گئی ہے اگرچہ اس اتحاد میں اس امر پر اختلاف رائے ہو گیا ہے کہ وزارت فہمیدہ مرزا کو ملنی چاہئے تھی یا غوث بخش مہر کو ، اگر کسی کا خیال تھا کہ نمبر گیم کا پانسہ شہباز شریف کے حق میں پلٹا جا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی اور پورے الیکشن پراسیس کی حرکیات سے لاعلمی کی دلیل تھی، اب بھی یہ امکان تو نہیں ہے کہ اپوزیشن کا نامزدکردہ کوئی بھی امیدوار کسی میجک کے نتیجے میں صدر منتخب ہو سکتا ہے تو یہ خواب و خواہش درست نہیں ہے، صدر تو تحریک انصاف کا نامزد کردہ ہی ہو گا تاہم اگر اپوزیشن متفقہ امیدوار نامزد کرنے میں کامیاب ہو گئی تو شکست تھوڑے ووٹوں سے ہو گی، بصورت دیگر ممکن ہے ایک سے زیادہ امیدوار الیکشن لڑیں اور جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کو ووٹ دیں۔ پیپلزپارٹی نے چودھری اعتزاز احسن کا نام پیش کیا تو مسلم لگ (ن) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا نام لے آئی، اب سوال صرف اتنا ہے کہ کیا کوئی متفقہ امیدوار آ سکتا ہے یا نہیں کیونکہ پرویز رشید نے جو کڑی شرط رکھ دی ہے وہ تو شاید پوری نہ ہو، پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اعتزاز احسن اڈیالہ جیل جا کر نواز شریف سے معافی مانگیں تو ان کی امیدواری پر غور کیا جائیگا بصورت دیگر مسلم لیگ (ن) اپنے امیدوار کا اعلان کر دے گی۔چودھری اعتزاز احسن گزشتہ پانچ برسوں سے جب سے ان کی اہلیہ لاہور کے حلقے سے الیکشن ہاری ہیں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں، سیاسی تنقید پر تو کسی کو اعتراض نہیں لیکن چودھری اعتزاز احسن نے بعض ایسے بیانات بھی دیئے جو سیاسی لحاظ سے پختگی کے زمرے میں نہیں آتے مثال کے طور پر جب لندن میں نواز شریف کا دل کا آپریشن ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے جس طرح نواز شریف تیسرے دن ہی چلتے پھرتے نظر آئے بائی پاس آپریشن والا مریض ایسا نہیں ہوتا، وہ اپنا یہ بیان کئی مرتبہ دہراتے رہے، پھر انہوں نے کہا کہ وہ واپس نہیں آئیں گے لیکن نواز شریف واپس آ گئے بلکہ اس کے بعد وہ جتنی دفعہ لندن گئے واپس آئے، جب انہیں نیب سے سزا ملی تو بھی اعتزاز احسن نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ وہ اب واپس نہیں آئیں گے وہ پھر بھی آ گئے ایک موقع پر اعتزاز احسن نے یہاں تک کہا کہ جس ہسپتال کا ذکر نواز شریف کے حوالے سے آ رہا ہے ایسا تو کوئی ہسپتال لندن میں نہیں، پھر کہا کہ یہ ہسپتال اگر ہے تو یہ نواز شریف فیملی کی ملکیت ہے، وغیرہ وغیرہ اب پرویز رشید اگر اعتزاز احسن سے معذرت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو معلوم نہیں وہ ان سب بیانات پر معذرت چاہتے ہیں جس کا اجمالی تذکرہ ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے ورنہ ان کے بیانات جمع کئے جائیں تو ایک دفتر بے معنی سامنے آتا ہے اب فرض کریں اعتزاز احسن معذرت کر بھی لیں تو بھی کیا ضمانت ہے کہ مسلم لیگ (ن) ان کے نام پر اتفاق کر لے گی کیونکہ پرویز رشید نے تو صرف غور کا وعدہ کیا ہے نامزدگی کی توثیق کا کوئی وعدہ نہیں کیا، ویسے بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ اعتزاز احسن اپنے پندار کا صنم کدہ ویران کر کے اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے معافی مانگنے جائیں گے بلکہ وہ تو پرویز رشید کے اس مطالبے کو ہی سرے سے ’’غیر مہذب مطالبہ‘‘ قرار دیتے ہیں اب ایسے میں ان سے کیا امید رکھی جائے، پھر اس امر کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ نمبر گیم میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کی پوزیشن مضبوط ہے یا اپوزیشن کی؟ اگر اپوزیشن جماعتیں متفقہ امیدوار بھی لے آئیں تو بھی اس کی جیت کا امکان نہیں ایسے میں معذرت کرنے کی شرمندگی کیوں اٹھائی جائے، ویسے مری میں اپوزیشن جماعتوں کی جو کانفرنس ہو رہی ہے وہ صرف بے کار اٹھک بیٹھک تصور ہو گی، متفقہ امیدوار کا امکان کم ہے، ابھی زیادہ دن نہیں گذرے جب پیپلزپارٹی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں غیر جانبدار ہو گئی تھی اب کیا وہ مسلم لیگ (ن) سے مختلف طرز عمل کی امید رکھ سکتی ہے؟ شاید نہیں

متفقہ صدارتی امیدوار۔

مزیدخبریں