سب کچھ بدل گیا ہے،یقین نہیں آتا

سب کچھ بدل گیا ہے،یقین نہیں آتا
سب کچھ بدل گیا ہے،یقین نہیں آتا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 سچ پوچھیں تو مجھے بالکل یقین نہیں آیاکہ تبدیلی آچکی ہے۔عوام کے محبوب لیڈر عمران خان وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں۔کیا واقعی تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں عید گزاری ہے؟ مجھے اس بات پر بھی یقین نہیں ہے کہ ایوان وزیراعظم کے معاملات دیکھنے والی خاتون جو کچھ ماہ پہلے بہت طاقت ور تھی۔ وہ آج جیل میں ہے۔ کیاپاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر مسلسل دس سال تک حکومت کرنے والے شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو لیڈ کر رہے ہیں؟کیا پنجاب کا بااثرترین کہلانے والا شخص حمزہ شہباز آج با اثر نہیں رہا۔یہ سب میرے سامنے ہورہا ہے مگر میرا دل کسی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔پنجاب اسمبلی کی چار دیواری ناجانے کس بات پہ خوش ہے۔یہاں چودھری پرویز الہی کئی سالوں بعد واپس آئے ہیں۔ 

عید گزر گئی ہے اور پی ٹی وی کا خبرنامہ دیکھ رہا ہوں ۔یہاں سکرین پرسفید شلوار قمیض میں خوبصورت سن گلاسز والے ایک شخص کی تصویر بار بار سامنے دکھائی دیتی ہے۔اس شخص کو وزیراعظم کہا جارہا ہے۔دس بارہ مرتبہ خبریں پڑھنے والوں نے اس شخص کو وزیراعظم کہا اور دکھایا ہے۔

اب مجھے کچھ کچھ یقین آنے لگا ہے کہ یقیناًیہی شخص جسے ہم سب عمران خان کے نام سے جانتے ہیں اب پاکستان کا وزیراعظم ہے۔کیا یہ وہی پی ٹی وی ہے جہاں عمران خان کا نام لینا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اب دل چاہتا ہے کبھی واپس جا کر دیکھوں آج اس ادارے کی دیواروں پرعمران خان اور فواد چودھری کی خوشنما تصاویر آویزاں ہوں گی۔یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھوں تو شاید یقین آجائے ۔سرکاری ٹی وی کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں جانب پرویز رشید کی دیو قامت سائز کی تصویر آپ کو دکھائی دیتی تھی جس دن وزارت ان کے ہاتھ سے گئی اگلی صبح وہ تصویر اس دیوار سے غائب ہوگئی تھی۔شاید پرویز رشید ان باتوں سے بخوبی واقف تھے تبھی جب ان سے ان کی وزارت کے دورمیں پوچھا گیا کہ سرکاری ٹی وی کی کیا صورتحال ہے تو جواب آیا تھا’’یہ میرے آفس سے چند قدموں پر ہے مگر میرا وہاں جانے کو دل نہیں کرتا‘‘۔خیر چند دن بعد اس دیوار پر ایک نئی تصویر لگادی گئی تھی وہ تصویر ہماری نئی وزیر مریم اورنگزیب کی تھی وقت بڑا ظالم ہے یہ ایک جیسا نہیں رہتا ۔یہ کبھی خوشی دیتا ہے تو کبھی بہت غم دیتا ہے۔

اس سرکاری عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی میاں نواز شریف کی شیروانی والی تصویرکے پاس سے گزر کر میں اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جاتا تھا ۔وقت بدلا تو یہاں ہماری سادگی والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تصویر لگائی گئی۔ایک بات مجھے ہمیشہ حیران کرتی رہی کوئی سمجھدار اورذمہ دار شخص یہ کام کیا کرتا تھا ،کبھی بھی تصویر اتارنے اور نئی تصویر کے آنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔میری پریشانی ابھی مزید بڑھ گئی ہے مجھے وہ پروڈیوسر یاد آگئے ہیں جب کرنٹ افئیرز کے ایک پروگرام کی ایڈیٹنگ کے دوران عمران خان کی تصویر لگانا مقصود تھی مگر جو تصاویر موجود تھیں وہ سب مناسب تھیں۔ تو پروڈیوسر صاحب نے فوری طور پر حکم صادر کیا کہ عمران خان کی وہ تصاویر جس سے دیکھنے والے پر کوئی اچھا اثر نہ پڑے وہ لائیں جائیں۔میں شاید اس بات کا عادی ہوچکا تھا مگر میرے ساتھ کام کرنے والی جونئیر لڑکی نے اس شام بہت سے سوال کئے تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے پالیسی وغیرہ کی باتیں کرکے اسے ٹرخایا تھا۔یہ سب ہم کیا نریندر مودی،ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ہمارا ایڈیٹر خاصا سمجھدار تھا اس نے اس قسم کی تصاویر کا فولڈر مستقل طور پر اپنے پاس محفوظ کرکے ہمیں بری تصاویر سرچ کرنے کے عذاب سے بچا لیا تھا۔پریشان اس بات پر ہوں آج وہی پروڈیوسر عمران خان کی خوبصورت ،دل آویز تصویریں لانے کا حکم جاری کرتے ہوں گے۔ان تصاویر کو خود اپنی نگرانی میں بیٹھ کر جڑواتے ہوں گے۔آج جب سرکاری ٹی وی کی دیواروں پر تصویریں بدل چکی ہیں ،سکرین پر کسے خوبصورت اور کسی ایسا دکھانا ہے کہ دیکھنے والوں پر اچھا تاثر نہ جائے۔یہ’’ پالیسی میٹرز‘‘ پروڈیوسرز حضرات بخوبی جانتے ہیں۔یہاں حکومت بدلتی وہاں سارے اصول اور ضابطے بدل جاتے ہیں۔جیسی ہی نئی پارٹی آتی ہے کون سا دانشور،کون سا تجزیہ نگار حکمران پارٹی کے حق میں بولتا ہے اسے تلاش کرکے بلایا جاتا ہے پھر پانچ سال تک یہی سلسلہ جاری رہتاہے۔میری طرح اب وہ ذہین پروڈیوسر بھی جانتا ہے کہ سکرین پر سب سے خوبصورت تصویر کس کی دکھانی ہے اور سب سے بدصورت تصویر کس کی۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ