کشمیر اور مفادات میں ڈوبا عالمی ضمیر

کشمیر اور مفادات میں ڈوبا عالمی ضمیر
 کشمیر اور مفادات میں ڈوبا عالمی ضمیر

  


کشمیر کے حوالے سے تشویشناک خبروں کا سلسلہ جاری ہے صرف یہی نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے لاکھوں کشمیریوں کو کئی دنوں سے محبوس کر رکھا ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، بلکہ وزیر اعظم عمران خان کا دنیا کو مخاطب کر کے یہ کہنا کہ بھارت ایک جعلی آپریشن کا ڈرامہ رچانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈالنا ہے، اس آپریشن کے بعد وہ پلوامہ جیسا جھوٹا واویلا کر کے پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے، اُدھر بھارتی میڈیا اور ان کا فارن آفس پروپیگنڈے کی پوری مہم چلائے ہوئے ہے۔

جس کے تحت یہ الزام بھی لگا دیا ہے کہ انڈیا میں سو سے زائد دہشت گرد داخل ہو چکے ہیں، جو کسی وقت بھی کوئی بڑی دہشت گردی کر سکتے ہیں، یہ سب کچھ جھنجھلاہٹ میں مبتلا نریندر مودی کے شیطانی ذہن کا کرشمہ نظر آتا ہے وہ یہ جنگ ظلم و بربریت کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈے کے زور پر جیتنا چاہتے ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ دنیا بھارت کے حجم کی وجہ سے آسانی کے ساتھ اس کے خلاف نہیں ہو گی۔ وہ اس زعم میں بھی مبتلا ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تو انہیں اعزازات دے رہے ہیں، باقی کون سی دنیا بھارت کے مخالف ہو سکتی ہے، وہ صرف پاکستان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتے ہیں اورا ن کا سارا زور پاکستان کو بدنام کرنے پر صرف ہو رہا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ وہ بھارت میں کوئی بڑا مگر جھوٹا دہشت گردی کا واقعہ کرا کے دنیا کے سامنے مظلوم بن جائیں۔ یہ دنیا ہے بھی تو مفاد پرستی کی، ٹکڑوں میں بٹی ہوئی۔

کتنے دن ہو گئے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو ظلم ڈھاتے، پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جس ملک سے رابطہ کرتے ہیں آگے سے یہی جواب ملتا ہے کہ کشمیر کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں یہ کیسی نظر ہے کہ جو وہاں کی صورت حال دکھانے سے قاصر ہے۔ جو کشمیریوں کی مدد کے لئے دو بول بھی بولنے کی اجازت نہیں دیتی۔ حیرت تو یہ ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطرا ور کویت جیسے بڑے اسلامی ممالک بھی خاموش بیٹھے ہیں، الٹا نریندر مودی کو بلا کر اعزازات سے نواز رہے ہیں۔

صرف ایک امریکہ ہے جس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گاہے بہ گاہے کشمیر کا ذکر کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو ٹیلی فون بھی، مگر وہ بھی لگتا ہے صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں جس طرح 71ء میں امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بڑے اعلانات ہوئے تھے۔

مگر اس نے آنا تھا نہ آیا، اسی طرح لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وقت گزاری کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں وہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ پکا کرانا چاہتے ہیں یہ مشکل دور کہ جو 370 اور 35 اے کی شقیں ختم کرنے کے بعد بھارت پر آیا ہے اسے گزارنے میں نریندر مودی کی مدد کر رہے ہیں، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکی صدر مقبوضہ وادی سے فی الفور کرفیو اٹھانے کا کہے اور بھارتی حکومت کرفیو نہ اٹھائے۔ میں تو بہت پہلے یہ کہہ چکا ہوں کہ امریکی صدر نے ثالثی کی جو پیش کش کی تھی اور جس کے فوراً بعد نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارتی علاقہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا، ایک ڈرامہ ہے جس کے تحت امریکہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ایک سوال یہ بھی ہے کہ دنیا میں امریکہ کے سوا بھارت کس سے مرعوب ہو سکتا ہے۔

مجھے تو نہیں لگتا کہ کوئی ایسا ملک ہے جو بھارت کو ناراض کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ بھارت کے ساتھ ہر ملک کی تجارت کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ معاشی مفادات انسانی حالات پر غالب آ جاتے ہیں۔ ایسے میں ہماری دنیا کے ضمیر کو جگانے کی کوئی بھی کوشش کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔ کسے نہیں معلوم کہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ آج سے نہیں بلکہ 72 برسوں سے کون نہیں جانتا کہ وہاں مسلسل کشمیریوں کا قتل عام ہور ہا ہے اور تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ایک عرصے سے بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا راستہ بند کر رکھا ہے، وہ ریاست میں داخل ہی نہیں ہو سکتیں۔ یورپ ہو یا امریکہ یا اسلامی دنیا، سب جانتے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی ہو رہی ہے۔ آج دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسز اور اخبارات چیخ چیخ کر کشمیر میں بھارتی مظالم کی داستانیں شائع کر رہے ہیں۔ دنیا کو متنبہ بھی کر رہے ہیں کہ اگر کشمیر میں بھارتی جارحیت کا نوٹس نہ لیا گیا تو بڑے پیمانے پر نسل کشی ہو سکتی ہے۔ مگر اس کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔

ہم نے اس بات پر کامیابی کے بڑے شادیانے تو بجائے اور اب تک بجائے چلے جارہے ہیں کہ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں کشمیر کو ایک عالمی متنازعہ مسئلہ تسلیم کر لیا گیا، مگر اس اجلاس میں ان مظالم کا ذکر تک نہیں آیا جو بھارت وہاں ڈھا رہا ہے نہ ہی بھارت سے کہا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے اور بنیادی حقوق بحال کرے۔

حالانکہ پاکستان نے چین کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان کو جو خط بھجوایا تھا، اس میں اس کا بطور خاص ذکر تھا۔ اب یہ کہہ دینا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے دونوں کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے، ایک شرمناک بیانیہ ہے، کیونکہ اس میں کشمیریوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اصل معاملہ تو ہے ہی یہی کہ بھارت لاکھوں کشمیریوں پر بے انتہا ظلم ڈھا رہا ہے اور کسی کی پروا کئے بغیر یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ سلامی کونسل اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں بھجواتی، لیکن اتنے سنگین مسئلے اور سنگین حالات کے باوجود ایک ہلکا سا بیانیہ جاری کر کے جان چھڑا لی گئی۔ اب وزیر اعظم عمران خان ایک سے زائد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ اقوامِ متحدہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے مبصرین مقبوضہ کشمیر بھیجے، مگر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کشمیر کی حالت پر پوری دنیا بے حس ہو چکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر یہ خوش فہمی پالی ہے۔ زمینی حقائق بالکل اس کے برعکس ہیں۔

دنیا میں مودی دندناتا پھر رہا ہے۔ تمغے لے رہا ہے، پھر پروٹوکول کے مزے لوٹ رہا ہے، اور ہم سمجھتے ہیں ہمارے ہٹلر کہنے سے دنیا اسے ہٹلر سمجھنے لگے گی۔ یہاں ہر دوسرا آدمی اس بات پر غم و غصے کا اظہار کر رہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نریندر مودی کو بلاکر قومی اعزازات کیوں دیئے، وہ سب کچھ اپنی نظر سے دیکھ رہا ہے، اس کا دل تو چاہتا ہے کہ ان حالات میں نریندر مودی کو کشمیریوں پر مظالم کے جرم میں جوتے مارنے چاہئیں، اعزاز کیوں دیا جا رہا ہے؟

اس بھولے بادشاہ کو کیا معلوم کہ دنیا ہمارے اشاروں پر نہیں چل رہی۔ کشمیر ہمارے لئے شہ رگ ہے، کسی اور ملک کے لئے زمین کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں پھر وہ اس کے لئے بھارت کو کیوں ناراض کرے۔ وہ بھارت جو سوا ارب آبادی کے ساتھ دنیا کے لئے سونے کی چڑیا بنا ہوا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے اور اس صورتِ حال سے اپنے اور کشمیریوں کے لئے خیر کی خبر کیسے نکالنی ہے، یہ بات تو طے ہے کہ ہماری سفارت کاری دنیا کے ضمیر کو نہیں جگا سکی اور شاید آئندہ بھی نہ جگا سکے۔ جس ضمیر کو مفادات کی چاٹ لگ گئی ہو، وہ بھلا انسانوں کے لئے کب جاگتا ہے۔

کیا سب نے دیکھا نہیں کہ عراق کو کیسے تباہ کیا گیا، لیبیا اور مصر میں کیا قیامت ڈھائی گئی۔ شام کے کیا حالات ہیں، اس سے پہلے فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کیسے کرائے گئے، لاکھوں افراد کو کیسے مروایا گیا۔ ایسے میں کشمیر پر اگر ہم سوچیں کہ پوری دنیا ہمارے موقف کی حمایت شروع کر دے اور بھارت کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم صادر کرے، تو یہ دیوانے کا خواب ہوگا۔ بیانیہ وہی صحیح ہے جو وزیر اعظم عمران خان نے اپنایا ہے جس میں دنیا کو وارننگ دی ہے کہ وہ کشمیر سے عدم توجہی نہ برتے اور بھارت کو کھلے مظالم کی چھوٹ نہ دے، وگرنہ یہ مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگا اور اس کے ردعمل میں ایک بڑی جنگ چھڑ جائے گی۔

جو پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اگر عمران خان اس بیانیئے کے ساتھ دنیا کے مختلف بڑے ممالک میں جاتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان ممالک کے عوام کو اس تباہی سے آگاہ کرتے ہیں جو کشمیر میں بھارت کو مظالم کی آزادی دے کر دنیا میں آ سکتی ہے، تو پھر شاید عالمی ضمیر اپنے عوام کے دباؤ پر جاگ جائے۔ وگرنہ چھوٹی موٹی سفارت کاری، مختلف ممالک میں جا کر داد فریاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کوئی ملک بھی ایسا نہیں جو کشمیر میں بھارتی ظلم کے بارے میں نہ جانتا ہو۔

اس لئے یہ کہنا کہ اسے کشمیر کے حالات بتائے جائیں، طفل تسلی ہے۔ عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے بھی جار رہے ہیں۔ وہاں بھی ان کا بیانیہ یہی ہونا چاہئے کہ بھارت کے کشمیر میں مظالم اور پاکستان کے خلاف جارحیت دنیا میں بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، اگر دنیا اس کا سنجیدہ نوٹس نہیں لیتی تو پھر نتیجے کے لئے تیار رہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...