سرسبز پنجاب شجرکاری مگر؟

سرسبز پنجاب شجرکاری مگر؟
 سرسبز پنجاب شجرکاری مگر؟

  


لاہور اب ایک بہت بڑا شہر ہے۔ اور مزید پھیلتا جا رہا ہے، برصغیر کی تقسیم سے پہلے بھی یہ بڑاہی کہلاتا تھا، اگرچہ آبادی آج کی نسبت کہیں کم تھی۔ تاہم آج کے اس شہر اور اس دور میں بہت فرق ہے۔ تب یہ ”باغوں کا شہر“ تھا اور آج اس کے لئے درختوں کی کمی بتائی جا رہی ہے۔ ہم کہ پکے لاہوری اور اندرون شہر کی پیداوار اور آبائی طور پر اسی کے باسی ہیں، ہمارا بچپن اور جوانی کا بڑا حصہ شہر کے اردگرد سرکلر باغات میں کھیل کود کر گذرا،آج کا گریٹر اقبال پارک (تب منٹو پارک) ہمارے کھیلوں کا مرکز تھا، سکول بڑا اور فراخ تھا کہ سکولوں اور کالجوں کی اپنی اپنی گراؤنڈیں تھیں۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا، جب ہائی سکولوں کے آپس میں مقابلے ہوتے اور یونیورسٹی کے درجہ تک کا لجوں کے درمیان کھیلیں ہوتی تھیں اگرچہ فٹ بال اور ہاکی بھی کھیلی جاتی لیکن ہمارا شوق کرکٹ تھا۔ اس لئے نہ صرف کلب میں کھیلے، بلکہ اکبری دروازہ کے باہر والے باغات میں محلہ کرکٹ بھی کھیلتے رہے تھے۔ تب ان باغات کے درمیان نہر بہتی تھی۔

یہاں سے ریلوے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے ذریعے سرائے سلطان رام گلی اور سرکلر روڈ کے نیچے سے ہوتی ہوئی، اکبری دروازہ کے باہر کیٹل بیرکس کے بازو سے باہر نکلتی، یہاں ایک گہرا تالاب سا تھا جسے کنواں کہا جاتا اور ہم سب لڑکے یہاں نہایا بھی کرتے تھے۔ آج سرکلر روڈ دورویہ ہے، تب یہ اکہری تھی اور حضرت شاہ محمد غوث کے مزار کے سامنے سے گزرتی ہوئی۔ اڈہ کراؤن بس موچی دروازہ، شاہ عالمی دروازہ اور لوہاری دروازہ کے سامنے سے داتادربار تک جاتی تھی، باغات سرسبز، پھولوں اور سایہ دار درختوں والے تھے۔

سرکلر باغات کے درمیان ایک راستہ تھا جو بھاٹی اور ٹکسالی دروازہ تک چلا جاتا تھا، گرمیوں کی شدید دھوپ میں بھی یہاں ٹھنڈا سایہ ہوتا اور سب لوگ پیدل آتے جاتے تھے۔

پھر ایک انقلاب ہوا، 1947ء آگیا۔ برصغیر تقسیم اور پاکستان قائم ہوا، اسی شہر کی اسمبلی کے باہر ماسٹر تارا سنگھ نے کرپان لہرائی پھر انگریز کی بددیانتی نے گورداسپور پر پاکستانی لکیر کو اٹھا کرواہگہ پر کھینچ دیا، یوں فسادات کا ایک طوفان اٹھا آج کے بھارت سے ہمارے بھائی عزیز اور رشتہ دار تک خون کے دریا پار کرکے یہاں پہنچے یوں ایک نئی تبدیلی واقع ہوئی۔ ابتداہی سرکلر باغات سے ہوئی اور ایک سے دو سڑکیں بنیں۔ اس کے باوجود باغات کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا اور سبزہ برقرار تھا۔

قبضہ مافیا کو یہ سب اچھا نہ لگا اور پہلے نہر کے کنارے دوسری سڑک کے درمیان تجاوز ہوا، جھگی اور کھوکھا نما دوکانیں بنیں، پھر بتدریج پختہ ہوئیں اور آج وہاں پلازے بن چکے، نہر بند ہوگئی، درخت کم سے کم ہوئے اور باغات میں بھی دوکانیں اور سکول بن گئے۔ یوں سبز رقبہ کم ہوا، اسی طرح لوئر مال اور مال روڈ کی توسیع نے درخت اور باغات ختم کئے۔ لاہور آبادی کے لحاظ سے پھیلتا رہا اور سبزہ کم ہوتا چلا گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یہاں سرکاری کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی بھر مار ہے، لیکن باغات اور کھیلوں کے لئے گراؤنڈ نہیں ہیں۔

اس صورت حال اور پھر دور جدید کی ترقی نے حلیہ کچھ اور بنا دیا، آبادی پھیلی تو کا لونیاں بنیں، کھیت اور درخت مزید کم ہوئے اور ہمارے لئے یہ لاہور وہ لاہور ہی نہ رہا جس کے بارے میں کہا گیا کہ ”جِنے لہور نئیں ویکھیا، او جمیا ای نئیں“ یہ سب دکھے دل کی فریاد ہے۔ ہم نے 1969ء میں شہر چھوڑا، پھر 2007-08ء میں شادباغ سے بھی وحدت روڈ چلے آئے تاہم یہ سب ہمارے ذہن پر نقش اور آنکھ سب ویسا ہی دیکھنے کو ترستی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ میرا یہ شہر اس قدر گنجان اور گندا ہوگیا کہ اب اپنے آبائی محلے کو گئے سالوں گزر گئے اور کچھ علم نہیں کہ پرانے ہمسائے اور ساتھی کس حال میں ہیں۔

آج یہ یوں یاد آیا ور معروضی حالات سے ہٹ کر بات کی کہ آج کل سرسبز پاکستان اور سرسبز پنجاب کی مہم چل رہی ہے۔ موسم برسات کی شجرکاری شروع ہے۔ محکمہ جنگلات اور پی ایچ اے نے لاکھوں اور ہزاروں پودے لگانے کا اعلان کیا تو دوسرے سرکاری شعبے بھی پیچھے نہیں رہے۔ ہر طرف سے شجرکاری کا اعلان ہوا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میری حیرت یہ ہے کہ محکمہ جنگلات اور پی ایچ اے نے شہر کے پوش علاقوں میں بینز لگائے ور”ہربشر دو شجر“ جیسے اردو فارسی ملے نعرے ایجاد کئے تاہم شجرکاری میں ڈنڈی مار سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی دکھ کا مقام ہے کہ لاہور شہر میں پی ایچ اے کی طرف سے انہی مقامات پر پودے لگائے جارہے ہیں۔ جہاں جہاں موسم بہار کی شجر کاری مہم میں لگائے گئے، ایسا کرتے ہوئے کسی نے یہ پوچھنے اور جاننے کی کوشش نہیں کی کہ پہلے لگائے پودوں کا کیا ہوا کہ اب پھر سے وہیں کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ میری رہائش مصطفٰٰے ٹاؤن وحدت روڈ پر ہے۔ وحدت روڈ ایک سرسبز پٹی ہے جس میں سڑک کے دونوں طرف گرین بیلٹ اور درخت بھی ہیں،تاہم ایل ڈی اے کی مہربانی سے سڑکوں کے دونوں اطراف کوکمرشل کر دیا گیا ور اب یہ پوری سڑک والا علاقہ نجی تعلیمی اداروں اور دکانوں سے بھرا ہوا ہے۔

اور یہ سب سروس روڈ کے بعد گرین بیلٹ کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ گرین بیلٹ اپنا حقیقی وجود کھوکر پارکنگ ایریا بن چکی۔ یہاں پھولوں کے پودے اور گھاس بھی غائب ہو چکی ہے۔ کسی کو فکر اور پرواہ نہیں کہ گرین بیلٹ کو بچایا جائے اور ضرورت کے مقام پر شجرکاری کی جائے۔ ایسا ہی کچھ حال نہر کناروں کا ہے۔

جہاں ماضی میں غلط پالیسی کے تحت سفیدے کے درخت لگائے گئے جواب بڑے ہو کر گرتے چلے جارہے ہیں۔ اس کے بعد یہاں جاپانی درخت لگے جو بارہ مہینے سبز رہتے ہیں، اور اب بھی شجر کاری میں یہی پودے اورپھول والی جھاڑیوں سے شجر کاری کی جارہی ہے۔ ہمارے مصطفےٰ ٹاؤن کی مرکزی سڑک والی گرین بیلٹ خوبصورت اور چوڑی ہے۔ اس کے ابتدائی درخت برقرار بھی ہیں، تاہم یہاں سیزن کی شجرکاری سال میں دو مرتبہ ہوتی اور یہ سارے پودے آوارہ گدھے، بھیڑیں اور بھینسیں کھا جاتی ہیں جو جنگل جان کر یہاں چرائی جاتی ہیں۔ پھر یہاں تجاوز بھی ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں نہ کوئی پوچھتا ہے کہ سابقہ شجرکاری کا کیا ہوا۔

گزارش یہ ہے کہ جب سے موسم بہار اور موسم برسات کی شجرکاری کا سلسلہ شروع ہوا، تب سے اب تک ہر سال پودے لگتے اور دو بار لگائے جاتے ہیں اور دیکھ بھال نہ ہونے سے یہ یا تو جانور کھا جاتے یا پھر سوکھ جاتے ہیں اور ان کی پرورش اور دیکھ بھال نہیں ہوتی، یوں قومی سرمایہ اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ویسے بھی ہمارے موسمی پودے بوڑھ، پیپل، ٹاہلی، نیم وغیرہ ہیں۔ نیم تو یوں بھی مانع جراثیم درخت ہے۔ لیکن یہاں شجر کاری جاپانی کہلانے والے پودوں سے ہوتی ہے۔ اگر حساب مانگا جائے تو اب تک کروڑوں، اربوں کیا کھربوں پودے لگائے جا چکے ہیں، اللہ رحم کرے۔

مزید : رائے /کالم


loading...