کشمیر کی تقدیر

کشمیر کی تقدیر
 کشمیر کی تقدیر

  


ہندوستان نے بالآخر جموں و کشمیر کی ”خصوصی“ حیثیت ختم کر دی۔ بھارتی آئین میں بطور عارضی بندوبست آرٹیکل 35اے اور 370موجود تھے۔ آرٹیکل 35-A کے تحت کوئی شخص فقط ماں باپ کی رعایت اور پیدائش کے ناتے جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا تھا، جبکہ 370کے تحت تین امور ہی انڈین حکومت کے پاس تھے۔

سیکیورٹی، خارجہ اور کرنسی! یہ آئینی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے بدل دیا گیا ہے۔ اب جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔ مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے کنٹرول میں دے کر اکائی کو مٹانے کی مذموم کوشش سے مودی سرکار کی سازش طشت ازبام ہو گئی ہے! پہلے کوئی غیر کشمیری ریاست میں جائیداد خرید سکتا نہ مستقل شہری بن پاتا اور نہ ہی باقاعدہ ملازمت اختیار کر سکتا تھا، مگر اب گویا اسرائیلی طرز پر غیر کشمیریوں کو وادی میں بسانے کا منصوبہ تشکیل پایا ہے۔ اس طرح اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے گا؟

بھارت نے اسرائیل کی اقتدا میں یہ اقدام تو اٹھا لیا، لیکن کامیابی یا ناکامی کے تیکھے نقوش مستقبل کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہندوستان نے خودکشی کی ہے۔ اسرائیل کے غصب و تسلط کا معاملہ مختلف تھا۔ قضیہ ء کشمیر لیکن اور طرح کا ہے۔ بھارت کی سانس تو ابھی سے اُکھڑ جانے لگی! جموں و کشمیر، آج یا کل، کسی بھی وقت اس کی مٹھی سے نکل جانے والا ہے۔ صرف کشمیر نہیں اس کے بطن سے کئی خود مختار ریاستیں جنم لینا چاہتی ہیں! ایک ذرا حوصلہ مگر درکار ہے۔ ٹھنڈا دماغ اور پیچ در پیچ حکمتِ عملی!

اس نازک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ثالثی سے متعلق بیان بجائے خود توجہ طلب ہے۔ مودی نے براہِ راست اس امر کی تردید نہیں کی۔ اس کا مطلب؟ شاید ترپ کا پتہ فی الحال چھپا کے رکھ لیا گیا ہے، جو جلد یا بدیر دکھایا جائے گا۔ اگر جموں و کشمیر کی بابت موجودہ تازہ آئینی شب خون سے کچھ حاصل نہ ہوا تو ثالثی کی پیشکش بھی قبول کی جا سکتی ہے۔ ثالثی، مگر کس بات کی؟ ایک صورت کسی مرحلے پر اسے خود مختار ریاست کا درجہ دینا ہے۔ لیکن یہ درجہ کسے، کب اور کیوں قبول ہو گا؟

دوسری شکل وادی ء جنت نظیر کی بندربانٹ ہو سکتی ہے۔ وادی ء جموں و کشمیر میں کشیدگی اپنے نقطہ ء عروج پر ہے۔ اس وقت اگر پاکستان میں دم خم ہوتا تو مشرقی پاکستان کا بدلہ لیا جا سکتا تھا۔ ایسا لیکن کچھ بھی نہیں۔ یہ خالص ہماری بے حسی کا صلہ ہے، جو اہل کشمیر کو مل رہا ہے! آخر یہ صورت حال کب تک قائم رہے گی؟

معروضی حالات میں بڑی عالمی طاقتوں کا ضمیر کسی طرح جاگنے والا نہیں۔ کوئی کچھ نہیں کرے گا۔بین الاقوامی تعلقات جذبات کی بجائے مفادات پر استوار ہوا کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ تجارتی و اقتصادی مفادات کا ہے۔ پاکستان کو دنیا میں ایک بھکاری ملک کے طور پر جانا جاتا ہے…… اور ہاں! سعودی عرب کے لئے ہم نے کون سی قربانی نہیں دی؟ وہ بھی ہمارے آگے ”ریال“ کے ٹکڑے ڈال کر سمجھتا ہے کہ قیمت چکا دی گئی۔ اس نے کبھی کشمیریوں کے لئے خاطر خواہ آواز نہیں اٹھائی۔

دنیائے اسلام عسکری لحاظ سے ایک مریض کی حیثیت رکھتی ہے اور بری طرح تقسیم بھی، ایران بوجوہ کس کے ساتھ کھڑا ہے اور کیوں؟

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی نازک موڑ پر ہے۔ قوم کو کسی مغالطے یا خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ہم نے بزدلی یا کسی حماقت کا مطاہرہ کیا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ آج ہمیں مسکراتی آنکھوں والا وہ شخص بہت یاد آ رہا ہے، جسے کشمیر سے واقعی عشق تھا۔

مزید : رائے /کالم


loading...