آزادیئ نقل و حرکت اور مَیں

آزادیئ نقل و حرکت اور مَیں
 آزادیئ نقل و حرکت اور مَیں

  


ہمارے واہ والے ہیڈ ماسٹر شمیم صدیقی مرحوم کو آزادی اور قانون کا باہمی رشتہ سمجھانے کے لئے الٰہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر بینی پرشاد کی کتاب سے ایک مثال بہت پسند تھی۔ یہی کہ ایک صاحب سڑک کنارے واکنگ اسٹک گھماتے جا رہے تھے۔ بے خیالی میں اُن کی چھڑی دوسری طرف سے آنے والے ایک اور آدمی کی ناک پہ جا لگی۔

آدمی نے ناک سہلاتے ہوئے اِس حرکت پہ اعتراض کیا۔ جواب ملا کہ یہ میری چھڑی ہے جیسے چاہوں گھما سکتا ہوں۔ دوسرے نے کہا ”آپ کو اِس کا حق ہے، لیکن جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے، وہاں آپ کا حق ختم ہو جاتا ہے“۔ ہیڈ ماسٹر صاحب اتنا کہہ کر چپ ہو جایا کرتے۔ پھر ایک وقفہ آتا جس کے دوران پیڈسٹل فین کی طرح سر کو دائیں سے بائیں حرکت دیتے اور دوبارہ کہتے ”جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے، وہاں آپ کا حق ختم ہو جاتا ہے“۔

ایک تو یہ طرزِ تدریس تھا ہی مشفقانہ۔ دوسرے بی اے تک پولٹیکل سائنس اور اُس سے آگے جورس پروڈنس میں جان آسٹن اور ایچ۔ ایل۔ اے ہارٹ کی تعلیمات نے اپنا اثر دکھایا۔ یوں اپنی ذہنی ساخت ویسی بن گئی جسے قانون کے سنجیدہ طالب علم جوڈیشل مائنڈ سیٹ کہا کرتے ہیں۔ مجھے یہ مائنڈ سیٹ بہت عزیز ہے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مَیں قانونی منطق کا سہارا لیا کرتا ہوں۔ بنیادی اصول یہی کہ کسی کی چھڑی دوسرے کی ناک تک نہ جا پہنچے۔

عام طور پر اِس میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ پھر بھی یومِ آزادی سے اگلے دن شادی کی ایک تقریب میں سنگل ڈش کے بجائے انواع و اقسام کے کھانے چُنے گئے تو میری جورس پروڈنس الجھ کر رہ گئی۔ پتا نہیں چل رہا تھا کہ آج کون سی ناک کِس کی چھڑی کے نشانے پہ ہے۔ دعوت میں موجود ایک وکیل نے سمجھا دیا کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں جموں و کشمیر کے سپیشل اسٹیٹس کی طرح صوبہ پنجاب کی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اچانک یاد آیا کہ ہمارے کالج کے دنوں میں صدر ایوب نے ایک نشری تقریر میں طلبہ کو سیاسیات اور قانون کے بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اُس وقت سولہ برس کی عمر میں ایک جنگ آزمودہ بزرگ کا حکیمانہ نکتہ ہماری ذہنی سطح سے بالاتر تھا۔ اب ساٹھ کا ہندسہ کراس کر لینے کے بعد اتنا جان چکا ہوں کہ قانون کی تعلیم حقوق و فرائض دونوں کا شعور دے کر انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔

محتاط آدمی نے وکیل صاحب کی وضاحت کے باوجود پلیٹ میں ایک سے زیادہ پکوان نہ ڈالے اور یہ سوچتا رہا کہ جس ہال میں شادی ہو رہی ہے کیا پتا وہ مقام محکمہ مال کے کاغذات میں اسلام آباد نہ ہو، راولپنڈی ہو۔ پھر نیب والے بھی کہہ سکتے ہیں کہ باراتی فی الوقت وفاقی دارالحکومت میں ہیں تو سہی لیکن یہ جورس پروڈنس والا ’عینکو‘ تو پنجاب سے آیا ہے، اِس پہ صوبائی قوانین کا اطلاق ہو گا۔

اوپر عرض کیا تھا کہ یہ یوم آزادی سے اگلے دن کی واردات ہے۔ وگرنہ اپنی قانونی آزمائشوں کی سلسلہ وار ابتدا تو عین یوم آزادی کی صبح کو ہو گئی جو عید کا تیسرا دن تھا۔ دو پہر کے کھانے پہ اُس روز ہماری منزلِ مقصود تھی گوجرانوالہ کینٹ جہاں بھائی کے پاس پہنچنے سے پہلے ذہن میں یہ آئینی بحران پیدا ہونے لگا کہ جس گھر میں سنتِ ابراہیمی ادا کی جانے والی ہے، آیا اُس کے گرد و نواح میں میرے بنیادی آئینی حقوق نافذ العمل ہیں یا یہ بستی صوبائی حدود سے باہر ہے۔

بنیادی حقوق تو زورِ کلام کی خاطر کہہ دیا ہے، ورنہ اشارہ تو صرف آزادیئ نقل و حرکت کی جانب تھا۔ دیکھئے نا،1973ء کا دستور حق ِ زندگی اور مساوی قانونی حیثیت کی طرح شہریوں کو یہ ضمانت بھی فراہم کرتا ہے کہ ’مَیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصلِ بہار پر‘۔ لیکن یہاں رُک جائیں۔

اِس لئے رُک جائیں کہ آئین کوئی معمولی دستاویز نہیں ہوتی،بلکہ یہ ملک کا بنیادی قانون ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئین کا متن اٹل ہوتے ہوئے بھی ایسی گنجائشوں کا حامل ہوتا ہے، جن کی بدولت مملکت کے روزمرہ امور کی انجام دہی میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہیں ہونے پاتیں۔اگر آپ اِس حرکت کو لطیفہ نہ سمجھیں تو مَیں نے کسی امکانی قانون شکنی سے بچنے کے لئے گوجرانوالہ کا سفر اختیار کرنے سے پہلے آئین کا وہ باب ایک بار پھر پڑھا جس میں بنیادی حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آرٹیکل 15کی وضاحت،جس میں نقل و حرکت کی آزادی کا ذکر ہے، مجھے زیادہ دلچسپ لگی۔ میرے اپنے الفاظ میں، کار آمد نکتہ یہ لگا کہ ہر شہری کو ملک میں کہیں بھی رہنے اور آزادانہ سفر کرنے کا حق تو ہوگا، مگر یہ حق مفادِ عامہ کے تحت عائد کی گئی کسی بھی معقول قانونی پابندی سے مشروط ہے۔

عبارت میں ’مفادِ عامہ‘ اور ’معقول‘ کے الفاظ تشریح طلب ہیں مگر پریشانی کا کوئی جواز نہیں۔ لاہور سے جاتے ہوئے گوجرانوالہ کے اُس ریلوے اسٹیشن کو پار کر جائیں جسے اب سے ٹھیک سو سال پہلے جلیانوالہ باغ امرتسر کے ہنگاموں کے پس منظر میں عوام نے نذرِ آتش کر دیا تھا۔ پھر اُس پیچیدہ سے پُل پر اپنی سمت سیدھی رکھیں جہاں سے نئے راستے اب سیالکوٹ، حافظ آباد اور لاہور واپس جانے والی سڑکوں سے ملے ہوئے ہیں۔

ذرا آگے کینٹ کے لئے بائیں طرف راہوالی گیٹ میں داخل ہوں اور بیرئیر سے پہلے بیرونی چوکی پر متعین چاک و چوبند باوردی جوان سے اپنا تعارف کرائیں۔ وہ آپ کے شناختی کارڈ پہ نظر ڈالے گا اور آگے جانے کا اشارہ مل جائے گا۔ اگلے مرحلے پر سویلین مہمان کے لئے لازم ہے کہ سیکیورٹی عملے کو میزبان کا فون آ چکا ہو۔ یہاں بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں،مگر کچھ مہارت بہرحال درکار ہوتی ہے۔

مہارت کا کمال تب ہو گا جب فون ٹھیک اُس وقت آئے جب آپ عین کھڑکی کے سامنے سائل بن کر کھڑے ہوں۔ مَیں نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے میزبان کو یاد دہانی کار پارک میں گاڑی کی تلاشی دیتے ہوئے کر ا دی تھی۔ لہذا پہلی کھڑکی پہ پہنچتے ہی کوائف سُن کر پتا چل گیا کہ کال میرے متعلق ہے۔جو ان نے سُرعت سے ایک پرچی میرے حوالے کی اور کہا کہ ساتھ والی کھڑکی سے چِٹ بنوا لیں۔ قطار میں دو تین بندے مجھ سے آگے تھے۔ اِس لئے اگلے کاؤنٹر سے اشارہ ملا کہ اِدھر آ جائیں۔

یہاں معمولی سا گھپلا اِس لئے ہوا کہ حفاظتی غرض سے آنے والوں کی تصویریں بھی اتاری جا رہی تھیں، مگر کیمرا بالکل آخری کاؤنٹر پہ نصب تھا۔ لائن میں سے تیسری بار نکل کر چوتھی قطار میں شامل ہونا اپنی طبع ِ نازک پہ گراں تو گزرا، لیکن ذہن میں تھا کہ میرا حق مفادِ عامہ کے تحت معقول قانونی پابندیوں سے مشروط ہے۔

خوامخواہ بات کا بتنگڑ نہ بناؤں تو میرے لئے لائنیں بدلنے کا وقفہ بھی فائدہ مند ثابت ہوا، اِن معنوں میں کہ اپنے ایک پوٹھوہاری دوست کے الفاظ میں ’ہکی واری فیر قانونے نے واقف ہوئی گچھے آں‘۔ ’قانون‘ تو نہیں کہنا چاہئے،بلکہ صحیح اصطلاح ہوگی ’ڈپارٹمنٹل انسٹرکشنز‘۔ سامنے جلی حروف میں درج ہدایات بھی دو قسم کی تھیں، ایک تو گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح سے آنے والے اُن مریضوں کے لئے جو علاج معالجہ کی خاطر سی ایم ایچ جانے کے متمنی ہوتے ہیں۔ دوسرے عمومی نوعیت کے احکامات تھے،جنہیں پڑھ کر بدن میں پھر جھر جھری سی آ گئی۔

”اپنے شناختی کاغذات اُسی دن واپس لے جائیں، ورنہ پیچیدگی پیدا ہوگی“۔ ”انٹری پاس ایک دن کے لئے ہے، اِس سے زیادہ کے لئے اسٹیشن کمانڈر سے پرمیشن لیٹر درکار ہوگا“۔ مجاہدانہ اسپرٹ کی پرخلوص جھلک اِس فیصلہ کن جملے میں تھی کہ ”غیر ضروری بحث سے گریز کریں“۔

میری بیٹی اپنی شادی کے بعد پہلی مرتبہ شوہر کے ساتھ چچا کے ہاں آئی تھیں۔ سو، میرا وقت اِسی مخمصے میں گزرا کہ اگر میزبان نے ایک روز رُک جانے پہ اصرار کیا تو مَیں کیا کروں گا۔ اسٹیشن کمانڈر سے واقفیت نکالنا عام حالات میں بھی آسان نہیں ہوتا۔ پھر کیا خبر کہ یومِِ آزادی پہ سینئر افسران یتیموں، بیواؤں اور بیماروں میں پھل، مٹھائی یا قربانی کا گوشت تقسیم کرنے میں مصروف ہوں۔ ایسے میں میرا فون کون سنے گا؟ خیر، سہ پہر کو لاہور واپس روانہ ہوئے تو اُس وقت تک کسی پرمیشن لیٹر کی نوبت آئی تھی نہ غیر ضروری بحث کی۔ گھر پہنچ کر وہی معروف جملہ سنائی دیا کہ ”آپ تو بلاوجہ خوفزدہ رہتے ہیں۔

میمونہ، ثاقب، طارق رحمان کو دیکھیں، ہر ویک اینڈ پہ نکلے ہوتے ہیں“۔ سُن کر لمحے بھر کو خیال آیا کہ کاش مَیں نے بھی صدر ایوب کے مشورے پہ عمل کیا ہوتا اور سیاسیات و قانون پہ دماغ کھپانے کے بجائے صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کی ہوتی۔

مزید : رائے /کالم


loading...