کیا مسلمانوں کی کوئی مخصوص ثقافت ہے؟

کیا مسلمانوں کی کوئی مخصوص ثقافت ہے؟
 کیا مسلمانوں کی کوئی مخصوص ثقافت ہے؟

  


ٹی وی پروگراموں میں اور بعض اوقات دوُ بُدو ملاقاتوں میں ہمارے علماء ا ور مولوی حضرات اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ فلاں رسم یا رواج اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے یا فلانی رِیت غیر اسلامی ہے۔ میَں نے بڑا غور کیا کہ کیا ہمارے عُلما اور دینی دانشور ثقافت کا وسیع تر فہم رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ دراصل ثقافت ایک بڑی ہی کثیرالمعانی اصطلاح ہے۔ ثقافت صرف ہمارے ظاہری طور طریقوں، زبان، رسم و رواج، مذہب، سماجی روابط خُورد و نوش یا لباس سے متعلق نہیں ہے۔ ثقافت ایک ہمہ وقت متحرک نظریہ ہے۔

اس کا تعلق زمان و مکاں سے بھی ہے، عوامی نفسیات اور بود و باش کی روایات سے بھی ہے، بدلتے حالات سے بھی ہے، بین الا قوامی اثرات سے بھی ہے، معیشت اور کسی ملک کے خصوصی جغرافیہ سے بھی ہے،جغرافیے میں موسم پہاڑ، دریا، جھیلیں، زمین کی فصلیں اور مخصوص ماحولیات بھی شامل ہیں۔ کلچر کو سمجھنے کے لئے اور اُس پر رائے دینے کے لئے کلچر کے ہمہ جہت پہلوؤں کو جاننے کی ضرورت ہے۔ مدرسوں کے فارغ التحصیل صرف عُلما ہی نہیں،بلکہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور بھی کلچر کا محدور تصّور رکھتے ہیں۔

Valantine ڈے ہمارے کلچر کا کبھی حصہ نہیں تھا، لیکن اَب ہے اور رہے گا خواہ ہم اور آپ اس کو کتنا ہی رد کریں۔ سُرخ رنگ کے پھولوں سے لدّا ہوا اور محبت کا پیغام دیتا ہوا یہ تہوار مغرب میں بھی ابھی کو ئی15-20 سال ہوئے آیا ہے۔ ہمارے ہاں تو اس تہوار کو آئے ہوئے 10 سال بھی نہیں ہوئے۔

یہ تہوار متعارف کروایا مغرب کے کارپوریٹ کلچر نے دنیا کی بڑہتی ہوئی نوجوان نسل کے لئے۔ آج کے پاکستان کی 35 فیصد آبادی 20سال کی عمر سے بھی کم ہے۔ آئندہ وقتوں میں نوجوانوں کی آباد ی مزید بڑہتی چلی جائے گی اور یوں ویلنٹائن ڈے اور زیادہ مقبول ہوتا چلا جائے گا۔ ماضی میں ثقافت کی کلاسیکی تعریف میں تجارتی منافع اور نوجوان نسل کا ذِکر کہاں تھا۔ یہ تو بصری میڈیا کی مہربانی ہے کہ ثقافت کی اصطلاح بڑی وسیع ہو گئی ہے۔ بڑے شہروں میں ہر چھٹی والے دن نوجوانوں کو وَن وہیلنگ (One Wheeling) کرتے دیکھتے ہیں۔

یہ خطرناک کھیل امریکہ سے Bikers کے ذریعے شروع ہوا تھا۔ ٹی وی پر ہمارے کم عقل نوجوانوں نے یہ پُر خطر کھیل دیکھ کر اسے اپنا شغل بنا لیا۔ یہ خطرناک شغل ایک خاص قسم اور پس منظر کے نوجوانوں کے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔ پولیس اور نہ ہی میڈیا کی سر زش اس مشغلے کو اب ختم کر سکتی ہے۔ ہاں اگر ہمارے نوجوانوں کو اس جان لیوا مشغلے سے بہتر اور زیادہ جان جوکھوں والا وقت گذاری کا طریقہ مل جائے تو ون وھیلنگ کی لعنت معدوم ہوتی چلی جائے گی۔

دراصل ثقافت یا کلچر میں مذہب کا حصہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ثقافت تو اُڑتی ہوئی ہوا کی طرح ہوتی ہے، جو کسی زمین کے خطے کے باسیوں کو راس آجاتی ہے اور وہی ثقافت اُن باسیوں کے رسم و رواج میں رچ بس جاتی ہے۔ مسلمانوں کا کوئی یکساں یا مخصوص کلچر بالکل نہیں ہے۔ مسلمان جن جن خطوں میں بستے ہیں اور جن جن نسلوں اور تہذیبوں سے اُن کا اِختلاط ہوا وہی تہذیب اور تمدن اُن کی ثقافت بن گئی۔ ایسی ثقافت کو کوئی بھی مذہب ختم نہیں کر سکتا۔ مذہب ایک عقیدے کا نام ہے۔ اگر مَیں اسلام کے عقیدے پر قائم رہتا ہوں اور اپنی سندھی یا پنجابی تہذیب سے بھی جُڑا ہوا ہوں تو مجھے کوئی غیر مسلم نہیں کہے گا۔

ذرا 60-70 سال پیچھے چلے جائیں، ہندو اور مسلمان عورتیں عموماً گھونگٹ نکالتی تھیں (ہماری آج کی نسل کو گھونگٹ کا پتہ بھی نہ ہو گا) اَب یہ معلوم نہیں کہ گھونگٹ، جو نیم پردے کی ایک شکل ہے، ہندوؤں سے مسلمانوں کی ثقافت میں آیا یا مسلمانوں سے ہندوؤں میں گیا۔ اسی طرح دوپٹہ خالصتاً ہندوؤں کی چُنری ہے۔ ہندوستان کے باہر کے مسلمان تو دوپٹہ جانتے ہی نہیں۔ وہاں تو حجاب تھا، چادرتھی یا بعد میں برقع آیا۔ اَب تمام برصغیر کی مسلمان عورتیں دوپٹہ لیتی ہیں جو خالصتاً ہندو تہذیب سے آیا ہے۔

اَب تو مقامی تہذیب کے ساتھ ساتھ یورپی اور امریکی ثقافت بھی ہمارے کلچر میں شامل ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں ملبوسات کی فیشن پریڈ کے لئے (Cat walk) کیٹ واک کہاں ہوتی تھی؟ ہمارے اعلیٰ قسم کے اِنگلش میڈیم سکولوں میں (Haloween) ھالووین کا خالص ریڈ انڈین امریکیوں کا تہوار کب منایا جاتا تھا۔ فادرز ڈے، مدرز ڈے بھی اَب ہمارے ہاں آئے ہیں اور ہمارے شہری کلچر کا حصہ بن گئے ہیں۔ دراصل مغربی کلچر کی یہ یلغار ہمارے لوگوں کی قرآن مجید سے بیگانگی کا نتیجہ ہے۔

دین ِ اسلام نے ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے۔ ہمارے ہاں بوڑھے والدین کو نرسنگ ہوم میں داخل کرانے کا رواج نہیں ہے، ہمارے ہاں 90 فیصد سے بھی زیادہ بوڑھے والدین کی ذمے داری نوجوان اولاد اُٹھاتی ہے۔ لیکن یہ ہی اسلامی فرض یورپ اور امریکہ نے Father's Day اور مدرز ڈے کی شکل میں ہمارے کلچر کا حصہ بنا دیا۔ اس کے پیچھے بھی سرمایہ دارانہ غرض ہے۔ Hallmark دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے،جو مبارکبادی کارڈ تیار کرتی ہے۔

2013ء میں اس کمپنی نے صرف مدرز ڈے پر 80 کروڑ ڈالر کے کارڈ بیچے تھے اور فادرز ڈے پر صرف 19کروڑ کے کارڈ فروخت ہوئے۔ اس سے ایک اور دلچسپ نتیجہ نکلتا ہے، چونکہ مغرب میں سنگل مدرزکی تعداد زیاہ ہوگئی ہے، طلاقیں زیادہ ہونے سے اولاد زیادہ تر مائیں ہی لے جاتی ہیں اس لئے ماؤں کے لئے نیک جذبات کا اِظہار کرنے والی اولاد زیادہ ہوتی ہے۔ بہر حال اَب کچھ بھی ہو سر مایہ دارنہ نظام ہماری ثقافت پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔ جوں جوں ہماری آبادی کا زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہوتا جا رہا ہے، ہماری اپنی خالص دیسی ثقافت میں ولائتی ثقافت کی پیوندکاری ہو رہی ہے۔

بسنت جو ہمارا بڑا ہی رنگین، خوبصورت اور غیر مذہبی تہوار تھا اُس کو اُجاڑنے میں ہمارا اپنا ہی حصہ ہے، کیونکہ پتنگ بازی سے انسانی جانیں ضائع ہونی شروع ہو گئی تھیں اور ساتھ ہی ہمارے مولوی حضرات نے بھی اس تہوار کو کافرانہ کہہ کرہندو مذہبی تہوار کا درجہ دے دیا، حالانکہ یہ تہوار خالص موسمی اور علاقائی ہے، یعنی پنجاب کے کلچر سے منسوب ہے۔ پتنگ بازی ثقافت کا اتنا مضبوط حصہ ہے کہ پولیس کی پکڑ دھکڑ کے باوجود ہر چھٹی والے دن کہیں نہ کہیں پتنگ بازی ہو رہی ہوتی ہے۔

بسنت کے تہوار نے بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی تھی۔ تمام دُنیا سے لاہور شہر میں ٹورسٹ آتے تھے۔ زرِمبادلہ ملتا تھا، کاروباری چہل پہل ہوتی تھی، روز گار ملتا تھا، لیکن وائے قسمت حکومت کی نااہلی اور مُلّا کی شدید تنقید نے ہمارے اس رنگ بھرے تہوار کی جڑ مار دی۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ ثقافت، کلچر اور تمدّن بہت ہمہ گیر معنی رکھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اگر ثقافت کا کوئی عنصر زیادہ مقبول ہو جائے تو اُس معاشرے کے افراد کی نفسیات کا بھی ثقافت پربھاری اثر پڑتا ہے۔ سپین میں Bull-fighting کا جان لیوا کھیل صدیوں سے ہسپانویوں کی ثقافت کا حصہ ہے جیسے دیسی کُشتی برصغیر کی ثقافت کا حصہ ہے۔ عموماً ہر مرد کی سائیکی ہوتی ہے کہ وہ کوئی بہادری کا کارنامہ سر انجام دے۔ بہادری بھی ایسی جس میں جان جانے کا خطرہ ہو یا شدید زخمی ہونے کا اندیشہ ہو۔ اب چاہے بُل فائٹنگ ہو، ون وھیلنگ ہو، خواہ پتنگ بازی ہو یا فری فال گلائڈنگ (Free fall gliding) ہو۔

ان سب میں تھوڑا بہت بلکہ کافی زیادہ جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ صر ف پتنگ بازی ہے جو قطعاً جان لیوا نہیں تھی۔ پتنگ بازی میں جو جانیں ضائع ہوتی ہیں وہ ہم عوام کی غلط روی سے ہوتی ہیں۔ پتنگ بازی بذاتِ خود تو بڑی ہی محفوظ تفریح ہے، مشغلہ ہے، ہماری تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہے، یہ تو مولویوں کی بھڑک تھی، جس سے ہماری حکومت ڈر گئی اور اس ثقافتی تفریح کو انسانی جانوں کے لئے خطرہ جان کر پابندِسلاسل کر دیا گیا۔ ہمارے علماء ہمیں کس ثقافت میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

موسیقی، کلاسیکل رقص، شعرو شاعری، تھیٹر،سنیما اور تصویر کشی تو انہوں نے پہلے ہی حرام قرار دی ہوئی ہے، حالانکہ قرآن ان کی حرمت کا ذکر کہیں نہیں کرتا۔ مولوی کے کہنے پر اگر ہم اپنی ثقا فت سے تمام دلچسپیاں، تمدّنی رنگینیاں اور تفریحی عنصر نکال دیں تو ہمارا معاشرہ تارک الدنیا ہو جائے گا۔ ایک سوکھے سڑے درخت کی مانند۔

مزید : رائے /کالم


loading...